بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زکوۃ کی رقم سے گھر دلانا


سوال

ہمارا تعلق ایک انجمن سے ہے، ہمارا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ ہم زکاۃ کے پیسوں سے خاندان کے مستحق افراد کو گھر خرید کر دیتے ہیں،  مسئلہ یہ ہےکہ ہم جب زکوۃ کے پیسوں سے گھر دلا کر دے دیتے ہیں اور گھر کی فائل بھی ان کو دے دیتے ہیں، گھر بھی حوالہ کردیتے ہیں، تو وہ گھر کو اس سے کم قیمت پر بیچ کر اس کے پیسے کھاجاتے ہیں، پھر دوبارہ آجاتے ہیں کہ ہمیں گھر لے کر دیا جائے یا ہمارا راشن باندھا جائے یا ہمیں کسی نہ کسی مد میں رقم دی جائے، اس صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایک تجویز  ہماری کمیٹی میں یہ سامنے آئی ہے کہ  جب گھر خریدا جائے تو پچانوے فی صد کی رقم  ہم ان کو یعنی مستحق کو دے دیں، وہ اپنے ہاتھ سے اداکریں،  اور پانچ فی صد رقم ہماری کمیٹی میں سے کوئی ادا کرکے اس پانچ فی صد حصے میں شریک ہوجائے، دونوں مل کر بیک وقت اس رقم کی ادائیگی کریں اور اس گھر میں انجمن کی کمیٹی پانچ فی صد شریک ہوں، اس سے یہ ہوگا کہ کل کو وہ جب بیچیں گے تو وہ ہمیں بتانے کے پابند ہوں گے، اور ممکن ہے کہ ہم ان سے خود خرید لیں، اس کا مقصد صرف یہ ہے کہ وہ گھر کم قیمت پر اونے پونے میں نہ بکے۔

کیا یہ تجویز شرعا درست ہے ؟ اگر اس کے علاوہ کوئی اور متبادل  تجویز ہو تو راہ نمائی فرمادیں۔

جواب

واضح رہے کہ زکوۃ کی ادائیگی کے لیےمستحق زکوۃ کو زکوۃ، مالک بنا کر دینا ضروری ہوتا ہے، مالک بننے کے بعد وہ اس میں تمام جائز تصرفات کا شرعا حق رکھتا ہے، لہذا مستحق زکوۃ پر کسی قسم کا قدغن لگانا شرعا معتبر نہیں ، زکوۃ کا مالک بن جانے کے بعد اس کے لیے پابندی کی پاسداری کرنا لازم نہیں، لہذا صورت مسئولہ میں انجمن کے ذمہ داران یہ ضابطہ مقرر کرلیں کہ جس مستحق کو ایک مرتبہ گھر دلوادیا جائے، اس کو دوبارہ نہیں دلایا جائے گا۔

نیز سوال میں مذکور مصلحت کی بنیاد پر اگر یہ نظم اختیار کیاجائے کہ زکوۃ کی رقم مکان خریدنے کے لیے مستحق فرد کو دے کر اس کو مالک بنادیا جائے  اور پھر اس کے ساتھ مل کر انجمن کا کوئی فرد اپنی کچھ ذاتی رقم ملا کر اس مکان میں اس مستحق فرد کے ساتھ شریک ہوجائے تاکہ   مکان کو فروخت کرنے کے وقت  فریقین کی رضامندی ضروری ہو اور  مذکورہ خرابی کا سد باب ہوسکے، تو اس کی اجازت ہوگی۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله  تعالى."

(كتاب ‌الزكاة، الباب الأول في تفسيرها وصفتھا وشرائطها، ج: 1، ص: 170، ط: دار الفکر)

الدر المختار میں ہے:

"ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة."

(‌‌كتاب الزكاة، باب المصرف،ص: 137، ط: دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144705100738

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں