بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زکاۃ کی رقم ہسپتال یا تعلیمی ادارے میں دینا


سوال

ہماری ایک انجمن ہے ،جس میں ہم زکاۃ وصول کرکے مستحقین کی مدد کرتے ہیں ،اب ہم یہ چاہتے ہیں کہ مثلاً کسی کا تعلیمی اور علاج کا خرچہ ہو تو مستحق کے ہاتھوں میں دینے کے بجائے  سیدھا ہسپتال یا تعلیمی ادارے کو زکاۃ کی رقم اداکریں،کیونکہ بعض مرتبہ لوگ یہ رقم وصول کرکے غلط کاموں میں صرف کرتے ہیں ۔

کیا ہمارے براہ راست ہسپتال یا تعلیمی ادارے کو رقم دینے سے زکاۃ  کی ادائیگی درست ہوگی ؟ اگر نہیں تو اس کا کیا طریقہ کار ہے؟

جواب

واضح رہے کہ زکاۃ کی ادائیگی کے لئے ضروری ہے کہ زکاۃ( کی رقم یا سامان) مستحق زکاۃ شخص یا اس کے  وکیل کو  بغیر عوض کےمالک بناکر دی جائے ،لہذا صورت مسئولہ میں اگر زکاۃ کسی ہسپتال یا تعلیمی ادارے کو دینا چاہ رہے ہیں تو اس کے لئے  پہلے یہ معلوم کرلیں کہ وہ ہسپتال یاتعلیمی ادارہ مستحق افراد  یا ان کے وکیل کو زکاۃ کی رقم مالک بناکر ان کے حوالہ کرتاہے یا نہیں ،اگر متعلقہ  ہسپتال/ ادارہ زکاۃ کی رقم مستحق زکاۃ شخص  یا اس کے وکیل کو مالک بناکراس کے حوالہ کردیتا ہے،  پھر اس سے علاج یا تعلیم وغیرہ کی مد میں رقم طلب کرتا ہے تو یہ طریقہ درست ہے ،اس سے زکاۃ ادا ہوجائے گی،لیکن اگر ہسپتال والے  زکاۃ کی رقم مستحق زکاۃ  شخص  یا اس کے وکیل کے حوالہ نہیں کرتے ،بلکہ خود اپنے پاس رکھتے ہیں اور مستحق لوگوں کو مفت علاج کی سہولت دیتے ہیں تو اس سے زکاۃ ادا نہیں ہوگی،اسی طرح تعلیمی ادارے والے اگر زکاۃ کی رقم مستحق زکاۃ یا اس کے کسی وکیل کے حوالہ نہیں کرتا ،بلکہ رقم اپنے قبضہ میں رکھ کر مفت تعلیم کی سہولت دیتے ہیں تو اس سے زکاۃ ادا نہیں ہوگی۔

فتاوی شامی میں ہے :

" مصرف الزکاۃ … هو فقیر … وفي سبیل اللّٰہ، وهو منقطع الغزاۃ، وقیل الحاج، وقیل طلبة العلم … ویشترط أن یکون الصرف تملیکاً لا إباحة … فلا یکفي فیها الإطعام إلا بطریق التملیک."

 (کتاب الزکاة ،باب المصرف ، 2/ 339 ، ط:سعید)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع كذا في التبيين."

(كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج:1، ص: 170، ط: دار الفکر بیروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101287

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں