بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زکوٰۃ کی رقم امانت رکھ کر ماہانہ قسطوں میں دینے کا شرعی حکم


سوال

ایک صاحبِ نصاب شخص نے اپنی سالانہ زکوٰۃ کی مکمل رقم نکال کر کسی کے پاس بطورِ امانت رکھوا دی، اور اس رقم کی مالیت تقریباً تین لاکھ روپے ہے۔

اب وہ اس رقم میں سے ہر ماہ ایک مستحق کو 30,000 روپے دیتا رہتا ہے، تاکہ اس مستحق کے گھر کا چولہا جلتا رہے۔

سوال یہ ہے کہ: کیا زکوٰۃ کی رقم اس طرح نکال کر کسی تیسرے آدمی کے پاس بطورِ امانت رکھوا کر مستحق کو ہر ماہ ایک متعین مقدار دیتے رہنا شرعاً درست ہے؟ اور کیا اس طرح زکوٰۃ ادا ہوتی رہے گی؟

جواب

درست ہے، اور اس رقم کو کسی کے پاس بطورِ امانت رکھوانا بھی جائز ہے۔ تاہم محض کسی کے پاس رقم رکھوا دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی؛ بلکہ زکوٰۃ کی ادائیگی اسی وقت مکمل ہوگی جب وہ رقم کسی مستحقِ زکوٰۃ (فقیر) کو دے دی جائے اور وہ اس کا مالک بن جائے۔

لہٰذا اس صورت میں جوں جوں ہر ماہ تیس ہزار روپے مستحق کو ملتے رہیں گے اور وہ ان کا مالک بنتا رہے گا، اسی قدر زکوٰۃ ادا ہوتی رہے گی۔

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع كذا في التبيين."

(كتاب الزكاة، الباب الأول، ج:1، ص:170، ط:دار الفكر)

وفیہ اَیضاً:

"إذا وكل في أداء الزكاة أجزأته النية عند الدفع إلى الوكيل فإن لم ينو عند التوكيل ونوى عند دفع الوكيل جاز كذا في الجوهرة النيرة وتعتبر نية الموكل في الزكاة دون الوكيل كذا في معراج الدراية فلو دفع الزكاة إلى رجل وأمره أن يدفع إلى الفقراء فدفع، ولم ينو عند الدفع جاز."

(كتاب الزكاة، الباب الأول فى تفسير الزكوة، ج:1، ص:171، ط:مكتبه رشيدية)

شرح مختصر الطحاوی للجصاص میں ہے:

مسألة: [مقارنة النية إخراج الزكاة]

"قال أبو جعفر: (‌ولا ‌تجزئ ‌الزكاة ‌عمن ‌أخرجها إلا بنية مخالطة لإخراجه إياها).

قال أبو بكر أحمد رحمه الله: قد ذكر هشام عن محمد أنه إن صر مقدار الزكاة على حدة، ونوى أن يكون من زكاة ماله، ثم دفع، ولم تحضره النية عند الدفع: إني أرجو أن يجزئه إذا كان نوى أن ما أعطى من الصرة، فهو من الزكاة.وإنما لم تجز الزكاة إلا بنية؛ لأنها فرض مقصود بعينه، كالصلاة والصيام ولا نعلم مع ذلك فيه خلافًا بين الفقهاء."

‌‌(كتاب الزكاة، ‌‌باب صدقة الغنم، ج:2، ص:268، ط:دار البشائر الإسلامية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708101641

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں