
میں بریانی فروخت کرتا ہوں۔ جب کبھی بریانی بچ جاتی ہے (مثلاً دو، چار، چھ یا آٹھ کلو، یا جتنی بھی بچ جائے) تو میں وہ بریانی کسی مدرسے میں زکات کی نیت سے دے دیتا ہوں، اور جتنی رقم اس بریانی کی بنتی ہے، اتنی رقم اپنی یا اپنی اہلیہ کی زکات میں شمار کر لیتا ہوں۔ کیا ایسا کرنا درست ہے؟ اور کیا اس طرح زکات ادا ہوجاتی ہے؟
دوسری صورت یہ ہے کہ میں نے کئی مرتبہ مدرسے میں بچی ہوئی بریانی بغیر زکات یا صدقہ کی نیت کے بھیجی، جس کی مالیت تقریباً دس ہزار روپے بنتی ہے۔ بعد میں ایک شخص نے مجھے دس ہزار روپے بطور زکات یا صدقہ دیتے ہوئے کہا کہ اس رقم سے کسی مدرسے میں بچوں کو کھانا کھلا دینا یا رقم دے دینا۔ میں نے اس سے کہا کہ میں پہلے ہی مدرسے میں جو کھانا بھیج چکا ہوں، اس کے بدلے یہ رقم اپنے پاس رکھ لیتا ہوں، اور وہ کھانا تمہاری طرف سے زکات یا صدقہ شمار ہوجائے گا۔ کیا ایسا کرنا درست ہے؟ اور کیا اس طرح اس شخص کی زکات یا صدقہ ادا ہوجائے گا؟
تیسری صورت یہ ہے کہ مجھے گمان ہوتا ہے کہ فلاں شخص یا کوئی اور شخص مجھے زکات یا صدقہ کی رقم دے گا، تاکہ میں وہ کسی مدرسے میں دوں یا وہاں کھانا کھلاؤں، حالانکہ اس نے ابھی تک رقم نہیں دی ہوتی۔ اس گمان کی بنا پر میں پہلے ہی اس کی طرف سے زکات کی نیت سے روزانہ مدرسے میں کھانا بھیج دیتا ہوں، اس ارادے سے کہ جب وہ بعد میں زکات یا صدقہ کی رقم دے گا تو میں وہ رقم اپنے پاس رکھ لوں گا۔ کیا یہ صورت درست ہے؟ اور کیا اس طرح اس شخص کی زکات یا صدقہ ادا ہوجائے گا؟
چوتھی صورت یہ ہے کہ کسی شخص نے مجھ سے کہا ہو کہ تم مدرسے میں یا مستحقین کو کھانا کھلا دیا کرو، پھر جتنا خرچ ہوگا، میں ادا کر دوں گا۔ بعد میں وہ شخص زکات یا صدقہ کی مد میں یہ کہہ کر رقم دے دیتا ہے کہ یہ اس کھانے کی قیمت ہے جو تم نے مدرسے میں یا مستحقین کو کھلایا تھا۔ کیا اس صورت میں اس شخص کی زکات ادا ہوجائے گی؟
آخر میں یہ بھی وضاحت فرمائیں کہ جب میں مدرسے یا مستحقین کو بطور زکات بریانی دیتا ہوں تو زکات کا حساب بریانی کی اصل قیمت کے مطابق کیا جائے گا یا بازاری قیمت (نفع سمیت) کے مطابق؟ کیا نفع شامل کرکے قیمت کا اعتبار کرنا جائز ہے؟
واضح رہے کہ دینِ اسلام میں زکات ایک اہم مالی عبادت ہے ، جس کی درستگی اور قبولیت کے لیے شرعا دو شرائط کا پایا جانا ضروری ہے:نیت کا ہونا ،یعنی زکات دیتے وقت یا مستحق کو رقم دیتے وقت دل میں فرض زکات کی نیت ہونا ضروری ہے۔ تملیک ِ مستحق یعنی زکات کی رقم یا سامان کسی ایسے غریب اور مستحقِ زکات شخص کی ملکیت میں دینا ضروری ہے جو سید (بنو ہاشم) نہ ہو۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں کسی مدرسہ کے مستحقِ زکوٰۃ طلبہ یا کسی ایسے فقیر شخص کو جو زکوٰۃ کا مستحق ہو، بچی ہوئی بریانی زکوٰۃ کی نیت سے بطورِ تملیک دینا شرعاً جائزہےاور اگر مدرسہ کی انتظامیہ کے حوالے کی جائے تو ان کو یہ بتانا ضروری ہے کہ یہ بریانی زکاۃ کی ہے ۔یوں ہی دینا کافی نہیں ، کیونکہ عام طور پر ایسی چیزیں غیر زکاۃ سے دی جاتی ہیں اور استعمال کرنے والے بھی عمومی طورپر استعمال کرتے ہیں جبکہ زکاۃ کا مال صرف مستحق زکاۃ ہی استعمال کرسکتے ہیں اور ان کو مالک بنانا ضروری ہوتا ہے ، اس کے بعد اس بریانی کی مالیت اپنی زکوٰۃ یا اپنی بیوی کی زکوٰۃ میں شمار کرنا بھی شرعاً درست ہے، بشرطیکہ بیوی نے اپنی زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے اس کی اجازت دی ہو یا وکیل بنا یا ہو۔
دوسری صورت میں چونکہ بچی ہوئی بریانی پہلے ہی بغیر زکوٰۃ یا صدقہ کی نیت کے مدرسہ میں بھیج دی گئی تھی، اس لیے بعد میں کسی شخص کی طرف سے بطورِ زکوٰۃ یا صدقہ دی گئی رقم کو اس سابقہ بریانی کے عوض اپنے پاس رکھ لینا شرعاً درست نہیں۔ اس لیے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے ادائیگی کے وقت نیت کا ہونا ضروری ہے، اور جو بریانی پہلے بغیر زکوٰۃ یا صدقہ کی نیت کے دی جاچکی تھی، وہ بعد میں زکوٰۃ یا صدقہ قرار نہیں دی جاسکتی۔
لہٰذا اگر کسی شخص نے آپ کو اپنی زکوٰۃ یا صدقہ ادا کرنے کا وکیل بنایا ہو، تو آپ پر لازم ہے کہ اس کی دی ہوئی رقم یا اس سے خریدی گئی چیز مستحقِ زکوٰۃ کو اس کی طرف سے بطورِ تملیک پہنچائیں۔ محض پہلے سے خرچ کیے ہوئے اپنے مال کو اس کے بدلے شمار کرکے رقم اپنے پاس رکھ لینا شرعاً جائز نہیں، اور اس طرح اس شخص کی زکوٰۃ یا صدقہ ادا نہیں ہوگا۔
تیسری صورت میں محض اس گمان کی بنا پر کہ آئندہ کوئی شخص اپنی زکوٰۃ یا صدقہ کی رقم دے گا، پہلے ہی اس کی طرف سے زکوٰۃ کی نیت سے مدرسے میں کھانا بھیج دینا، اور بعد میں اس شخص سے رقم وصول کرکے اسے اپنے پاس رکھ لینا شرعاً درست نہیں؛ کیونکہ اس وقت نہ وہ شخص آپ کو اپنی زکوٰۃ یا صدقہ ادا کرنے کا وکیل بنا تھا اور نہ ہی اس کی طرف سے زکوٰۃ کی ادائیگی کا اختیار حاصل تھا۔
لہٰذا جب تک کوئی شخص اپنی زکوٰۃ یا صدقہ کی رقم دے کر آپ کو اس کی ادائیگی کا وکیل نہ بنائے، اس سے پہلے اس کی طرف سے زکوٰۃ یا صدقہ ادا کرنا معتبر نہیں ہوگا۔ اس لیے بعد میں اس شخص سے رقم وصول کرکے اپنے پہلے سے کیے ہوئے خرچ کے بدلے اپنے پاس رکھ لینا بھی شرعاً جائز نہیں، اور اس طرح اس شخص کی زکوٰۃ یا صدقہ ادا نہیں ہوگا۔
چوتھی صورت میں اگر کسی شخص نے پہلے ہی آپ کو اپنا وکیل بناتے ہوئے یہ کہہ دیا ہو کہ مدرسے میں یا مستحقینِ زکوٰۃ کو کھانا کھلا دیا کرو، بعد میں جتنا خرچ ہوگا میں ادا کر دوں گا، اور آپ نے اسی کی طرف سے بطورِ وکالت مستحقینِ زکوٰۃ کو کھانا بطورِ تملیک دے دیا، پھر اس نے بعد میں زکوٰۃ یا صدقہ کی مد میں اس خرچ کی رقم ادا کردی، تو ایسی صورت میں اس شخص کی زکوٰۃ یا صدقہ ادا ہوجائے گا،کیونکہ آپ نے اس کی اجازت اور وکالت کے بعد اس کی طرف سے زکوٰۃ ادا کی۔
البتہ اس کے لیے ضروری ہے کہ کھانا ایسے افراد کو دیا گیا ہو جو زکوٰۃ کے مستحق ہوں، اور انہیں بطورِ تملیک دیا گیا ہو، کیونکہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے مستحق کو مال کا مالک بنانا شرط ہے۔
نیز مستحقینِ زکوٰۃ کو دی جانے والی بریانی کی قیمت کا اعتبار ادائیگی کے وقت اس کی متعارف بازاری قیمت کے مطابق ہوگایعنی اگر مذکورہ بچی ہوئی بریانی اگر آپ کسی کو یکمشت فروخت کرتے تو جتنی قیمت آپ کو ملتی اتنی زکاۃ کی ادائیگی شمار ہوگی ،صرف زکوٰۃ کی مقدار بڑھانے کے لیے غیر معمولی یا مصنوعی نفع شامل کرنا جائز نہیں۔
فتاوى ہندية میں ہے :
'' ومن أعطى مسكيناً دراهم وسماها هبةً أو قرضاً ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح، هكذا في البحر الرائق ناقلاً عن المبتغى والقنية.''
(كتاب الزكاة، الباب الاول فی تفسیرالزکاۃ وصفتھا وشرائطھا،ج: 1، ص: 171، ط:دارالفکر )
وفيه أيضاً:
"أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع، كذا في التبيين."
(كتاب الزكاة، الباب الاول فی تفسیرالزکاۃ وصفتھا وشرائطھا،ج: 1، ص: 170، ط:دارالفکر )
بدائع الصنائع میں ہے:
"و لو تصدق عن غيره بغير أمره فإن تصدق بمال نفسه جازت الصدقة عن نفسه و لاتجوز عن غيره و إن أجازه و رضي به، أما عدم الجواز عن غيره فلعدم التمليك منه إذ لا ملك له في المؤدى و لايملكه بالإجازة فلاتقع الصدقة عنه و تقع عن المتصدق؛ لأن التصدق وجد نفاذًا عليه، و إن تصدق بمال المتصدق عنه وقف على إجازته فإن أجاز و المال قائم جاز عن الزكاة و إن كان المال هالكًا جاز عن التطوع ولم يجز عن الزكاة؛ لأنه لما تصدق عنه بغير أمره وهلك المال صار بدله دينًا في ذمته فلو جاز ذلك عن الزكاة كان أداء الدين عن الغير و أنه لايجوز، والله أعلم."
(كتاب الزكوة، فصل شرائط ركن الزكوة، ج:2، ص: 41، ط: دارالكتب العلمية)
وفيه أيضاً:
" والكلام فيه بناء على أصلين: أحدهما ما ذكرنا فيما تقدم وهو أن الزكاة عبادة عندنا والعبادة لاتتأدى إلا باختيار من عليه إما بمباشرته بنفسه، أو بأمره، أو إنابته غيره فيقوم النائب مقامه فيصير مؤديًا بيد النائب، وإذا أوصى فقد أناب وإذا لم يوص فلم ينب، فلو جعل الوارث نائبًا عنه شرعًا من غير إنابته لكان ذلك إنابةً جبريةً والجبر ينافي العبادة إذ العبادة فعل يأتيه العبد باختياره ولهذا قلنا: إنه ليس للإمام أن يأخذ الزكاة من صاحب المال من غير إذنه جبرًا، ولو أخذ لاتسقط عنه الزكاة."
(كتاب الزكوة، فصل شرائط جواز النصاب،ج:2، ص:53، ط: دارالكتب العلمية)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"إذا وكل في أداء الزكاة أجزأته النية عند الدفع إلى الوكيل فإن لم ينو عند التوكيل ونوى عند دفع الوكيل جاز كذا في الجوهرة النيرة وتعتبر نية الموكل في الزكاة دون الوكيل كذا في معراج الدراية فلو دفع الزكاة إلى رجل وأمره أن يدفع إلى الفقراء فدفع، ولم ينو عند الدفع جاز."
(كتاب الزكوة، الباب الاول فى تفسير الزكوة، ج: 1، ص: 171، ط: دارالفكر)
وفيه أيضاً:
"الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية. ويقوم بالمضروبة كذا في التبيين وتعتبر القيمة عند حولان الحول بعد أن تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتي درهم من الدراهم الغالب عليها الفضة كذا في المضمرات.....إذا كان له مائتا قفيز حنطة للتجارة تساوي مائتي درهم فتم الحول ثم زاد السعر أو انتقص فإن أدى من عينها أدى خمسة أقفزة، وإن أدى القيمة تعتبر قيمتها يوم الوجوب."
(کتاب الزکاۃ،الباب الثالث،الفصل الثانی فی العروض،ج:1، ص:179، ط:دارالفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء..ويقوم في البلد الذي المال فيه.(قال ابن عابدین رحمه الله)وفي المحيط: يعتبر يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح."
(کتاب الزکاۃ،باب زکاۃ الغنم، ج:2، ص:286،ط:سعید)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144802101141
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن