
کیا ایک سونے کی انگوٹھی پر زکاۃ فرض ہوگی؟یعنی اگر ایک لڑکی کی شادی ہو اور اسے جہیز میں لاکھوں روپے کا سامان، ایک تولہ سونا اور پانچ ہزار روپے ملیں، تو کیا اس پر زکاۃ فرض ہوگی؟اور اگر وہ رقم خرچ ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہوگا؟
کیا جہیز کے سامان پر زکاۃ دینا ہوگی؟
جس مسلمان عاقل بالغ شخص کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی یاساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر نقد رقم ( جو حاجت اصلیہ سے زائد ہو ) یا مالِ تجارت موجود ہو یا ان چاروں چیزوں میں کسی بھی دو یا زائد کامجموعہ ہو جس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر پہنچتی ہو اور وہ شخص مقروض بھی نہ ہوتو ایسا شخص صاحبِ نصاب شمار ہوتا ہے، اور اس مال پر سال گزرنے کی صورت میں اس پر زکات واجب ہوتی ہے۔
پس اگر کسی کی ملکیت میں ساڑھے سات تولے سے کم سونا ہو، مثلًا ایک تولہ سونا ہونا، اور اس کے علاوہ اس کی ملکیت میں نہ ہی چاندی ہو اور نہ ہی بنیادی اخراجات کے لیے درکار رقم سے زائد نقدی ہو ، نہ ہی مالِ تجارت ہو تو اس پر زکات واجب نہیں ہوگی۔
البتہ اگر سونے کے نصاب سے کم سونے کے ساتھ کچھ چاندی یا بنیادی اخراجات کے لیے درکار رقم کے علاوہ کچھ نقدی یا مالِ تجارت بھی ہو تو اس صورت میں سونے کی قیمت کو چاندی کی قیمت یا نقدی یا مالِ تجارت کے ساتھ ملایا جائے گا، اور اگر مجموعی مالیت چاندی کے نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت) تک پہنچ جائے تو اس صورت میں کل مجموعہ مالیت کا چالیسواں حصہ یعنی ڈھائی فیصد بطورِ زکات ادا کرنا واجب ہو گا۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگرکسی عورت کی ملکیت میں فقط سونے کی ایک انگوٹھی ہو اور اس کے پاس بنیادی اخراجات سے زائد اتنی نقدی بھی موجود ہو کہ سونے کی انگوٹھی اور نقدی کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، تو ایک سال گزرنے پر اس پر زکاۃ واجب ہوگی۔ تاہم اگر پیسے خرچ ہونے کی وجہ سے سال گزرنے پر عورت صاحب نصاب نہ رہے ، یاانگوٹھی کے علاوہ کچھ بھی نہ ہو تو اس صورت میں زکاۃ لازم نہیں ہوگی۔
جہیز میں ملنے والے سامان پر زکاۃ نہیں ہے ۔
فتاوی شامی میں ہے :
"(وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول) وهو في ملكه (وثمنية المال كالدراهم والدنانير) لتعينهما للتجارة بأصل الخلقة فتلزم الزكاة كيفما أمسكهما ولو للنفقة (أو السوم) بقيدها الآتي (أو نية التجارة) في العروض، إما صريحًا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجيء، أو دلالةً بأن يشتري عينًا بعرض التجارة أو يؤاجر داره التي للتجارة بعرض فتصير للتجارة بلا نية صريحًا".
(کتاب الزکاة،ج : 2، ص : 262، ط : سعید)
و فیہ ایضاً :
"(وقيمة العرض) للتجارة (تضم إلى الثمنين)؛ لأن الكل للتجارة وضعاً وجعلاً (و) يضم (الذهب إلى الفضة) وعكسه بجامع الثمنية (قيمة)."
(کتاب الزکاة، ج :2، ص : 303، ط : سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708101072
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن