بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زکوٰۃ کے متفرق احکام


سوال

1۔ایک گھر ستمبر 2024 میں کرایہ پر دینے کےلیے خریدا ،نومبر 2024 میں پوری رقم ادا کی ،یہ گھر کرایہ پر دیاہوا ہے ،زکوٰۃ کیسے ادا کرنی ہوگی ؟

2۔پلاٹ 400000 مالیت کا 2019 میں کیش رقم ادا کرکے خریدا ، اس کی زکوٰۃ ادا کرنی ہے یانہیں ؟جبکہ یہ رہائش کےلیے خریدا ہے ۔

3۔Gold ہے،  اس کی زکوٰۃ ہرسال ادا کرتے ہیں ،آج کل جو سونے کی رقم کا اتار چڑھاؤ ہے تو کس حساب سے زکوٰۃ ادا کی جائے ؟

4۔کمیٹی کی رقم پر زکوٰۃ دینی ہوتی ہے یانہیں ،اور کس حساب سے دینی ہوتی ہے ؟

جواب

1۔ صورت مسئولہ میں  جب مذکورہ مکان کرایہ پر دیا ہوا ہے تو مکان کی قیمت پر زکوٰۃ نہیں ،البتہ مکان کاکرایہ اگر ضرورت سے زائد ہو اور بقدر  نصاب ہو یا دوسری رقم کے ساتھ  ملاکر بقدر نصاب ہو جائےاور اس پر سال گزرجائے تو اس  کی زکاۃ ادا کرنی ہوگی ۔ 

2۔جو پلاٹ ذاتی رہائش کے لیے خریدا گیا ہے ، اس پر زکاۃ لازم نہیں ہے ۔ 

3۔سونے کی زکاۃ کی ادائیگی میں موجودہ قیمت کا اعتبار کیا جائے گا، چنانچہ جس دن سونے کی زکاۃ نکالی جائے اس دن کے ریٹ معلوم کرکے اس کے مطابق زکاۃ ادا کی جائے گی ۔ 

4۔ کمیٹی میں جتنی رقم(قسطیں) آدمی جمع کرواچکاہے اگر وہ رقم تنہایادوسرے اموال کے ساتھ مل کر زکاۃ کے نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کو پہنچ جاتی ہے تو اس رقم کی زکاۃ ادا کی جائے گی، مثلاً ایک شخص کمیٹی میں بیس ہزار روپے بھر چکاہے اور وہ پہلے سے صاحبِ نصاب ہے تو زکاۃ اداکرتے وقت بیس ہزار کی رقم کو بھی شامل کرکے زکاۃ ادا کرے گا،اور اگر آدمی پہلے سے صاحب نصاب نہیں اور کمیٹی میں جمع کردہ رقم بھی زکاۃ کے نصاب کے برابر نہیں تو اس رقم پر زکاۃ لازم نہیں۔اور اگر کمیٹی وصول کرچکا ہے تو زکاۃ کی ادائیگی کے وقت جتنی رقم موجود ہو اسے قابل زکاۃ اموال کے ساتھ ملاکر اس کی زکاۃ ادا کرے گا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے :

"(ومنها فراغ المال) عن حاجته الأصلية فليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة، وكذا طعام أهله وما يتجمل به من الأواني إذا لم يكن من الذهب والفضة، وكذا الجوهر واللؤلؤ والياقوت والبلخش والزمرد ونحوها إذا لم يكن للتجارة، وكذا لو اشترى فلوسا للنفقة كذا في العيني شرح الهداية وكذا كتب العلم إن كان من أهله وآلات المحترفين كذا في السراج الوهاج...(ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا - رحمهم الله تعالى -: كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض وثمن البيع وضمان المتلفات وأرش الجراحة، وسواء كان الدين من النقود أو المكيل أو الموزون أو الثياب أو الحيوان وجب بخلع أو صلح عن دم عمد، وهو حال أو مؤجل"

 (کتاب الزکوٰۃ، الباب الأول، ج: 1، ص: 172،ط:ألمكتبة الحبيبة -كوئته)

وفیہ ایضا:

"تجب في كل مائتي درهم خمسة دراهم، وفي كل عشرين مثقال ذهب نصف مثقال مضروبا كان أو لم يكن مصوغا أو غير مصوغ حليا كان للرجال أو للنساء تبرا كان أو سبيكة كذا في الخلاصة."

(کتاب الزکوٰۃ، الباب الثالث، ج: 1، ص: 178،ط:ألمكتبة الحبيبة -كوئته)

وفیہ ایضا:

"وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز...الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية. ويقوم بالمضروبة كذا في التبيين وتعتبر القيمة عند حولان الحول بعد أن تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتي درهم من الدراهم الغالب عليها الفضة كذا في المضمرات ثم في تقويم عروض التجارة التخيير يقوم بأيهما شاء من الدراهم والدنانير إلا إذا كانت لا تبلغ بأحدهما نصابا فحينئذ تعين التقويم بما يبلغ نصابا هكذا في البحر الرائق."

(کتاب الزکوٰۃ، الباب الثالث، ج: 1، ص: 179،ط:ألمكتبة الحبيبة -كوئته)

الدر المختار میں ہے:

"وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الاداء.وفي السوائم يوم الاداء إجماعا، وهو الاصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه، ولو في مفازة ففي أقرب الامصار إليه، فتح."

 (کتاب الزکوٰۃ،‌‌باب زكاة الغنم،ص:130،ط:دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100654

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں