
1۔ اگر زاہدہ کے پاس ۲ تولے سونا اور ۴ لاکھ کیش ہو ، اس کا شوہر کہے کہ زکات ادا کرو، زاہدہ زکات کو اسلام کا فرض سمجھتی ہے، لیکن زکات دینے سے بچنے کے لیے جھوٹ بولتی ہے کہ زکات نہیں بنتی تو کیا زاہدہ کافر ہوگی؟
2۔ بالفرض اس کو اصل میں پتہ ہی نہیں کہ زکات کا مسئلہ کیا ہے؟ وہ سمجھتی ہو کہ جس کہ پاس ساڑھے سات تولے سونا ہو یا ساڑھے 52 تولہ چاندی ہو، تو اس پر زکات بنتی ہے، کیش پر نہیں بنتی تو اس کے ایمان کا کیا حکم ہوگا
1۔ صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ خاتون زکوٰۃ کو اسلام کا فرض اور ضروری حکم مانتی ہے، لیکن بخل، سستی یا مال بچانے کی نیت سے جھوٹ بول دیتی ہے کہ "مجھ پر زکوٰۃ نہیں"، تو وہ جھوٹ اور زکوٰۃ ادا نہ کرنے کی وجہ سے گناہ گار، اور وعید کی مستحق ہوگی، لیکن اس جھوٹ کی وجہ سے کافر قرار نہیں پائے گی؛ کیوں کہ وہ زکوٰۃ کی فرضیت کا انکار نہیں کر رہی، بلکہ عمل میں کوتاہی کر رہی ہے۔
2۔ اگر مذکورہ خاتون کو حقیقۃً مسئلہ معلوم نہ ہو اور وہ یہ سمجھتی ہو کہ زکوٰۃ صرف سونے یا چاندی پر فرض ہوتی ہے اور نقد رقم (کیش) پر زکوٰۃ نہیں ہوتی، تو ایسی صورت میں اسے مسئلہ بتایا جائے گا۔ محض لاعلمی یا غلط فہمی کی بنا پروہ کافر نہیں۔تاہم ذکورہ صورت میں ۲ تولہ سونا اور ۴ لاکھ نقد رقم کو ملانے سے چونکہ چاندی کا نصاب مکمل ہوجاتا ہے، لہذا مذکورہ خاتون پر زکوٰۃ واجب ہوگی ہے۔
صحیح بخاری میں ہے:
"عن يحيى بن يعمر، حدثه، أن أبا الأسود الدؤلي، حدثه ان أبا ذر رضي الله عنه حدثه، قال: أتيت النبي صلى الله عليه وسلم وعليه ثوب أبيض، وهو نائم، ثم أتيته وقد استيقظ، فقال:" ما من عبد قال لا إله إلا الله، ثم مات على ذلك، إلا دخل الجنة"، قلت: وإن زنى وإن سرق، قال:" وإن زنى وإن سرق"، قلت: وإن زنى وإن سرق، قال:" وإن زنى وإن سرق"، قلت: وإن زنى وإن سرق، قال:" وإن زنى وإن سرق"، على رغم أنف أبي ذر، وكان أبو ذر إذا حدث بهذا، قال: وإن رغم أنف أبي ذر."
(کتاب الإیمان باب المعاصي من أمر الجاهلية ولا يكفر صاحبها بارتكابها إلا بالشرك:ج:1، ص:204، ط: دار الفكر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101602
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن