
میری زکوۃ ادا کرنے کی تاریخ آٹھ رمضان ہوتی ہے۔ اس سال آٹھ رمضان کو حساب کیا تو میں 260,438 روپے کا مالک تھا۔ اس کے علاوہ کچھ اور پیسے بھی ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔ میں نے حج کیا ہوا ہے۔ میں نے تھوڑے تھوڑے کر کے کچھ پیسے دوبارہ حج کی نیت سے جمع کئے تھے، جن کا ٹوٹل ساٹھ ہزار تھا۔ میں نے پچھلے سال آٹھ رمضان کو ان پیسوں پر زکوۃ بھی ادا کی تھی۔ لیکن وہ پیسے میں نے ذاتی استعمال میں خرچ کر لئے ہیں۔ تو کیا یہ میرے اوپر قرض ہے اور مجھے یہ پیسے 260438 میں سے منہا کرنے چاہیے؟ اس سال بھی،دوبارہ حج کی نیت سے جمع کیے تھے، اور اس سال ٹوٹل 92965 روپے بنے ہیں۔ کیا یہ پیسے زکوۃ کے حساب کے لئے مجھے 260438 میں جمع کرنے چاہیے؟ میری بیٹی پیدا ہوئی تو رشتہ داروں نے اس کو پیسے دیے، جو کہ ٹوٹل 221500 روپے بنے تھے۔ ہمارے ہاں عرف یہ ہے کہ بچے کو جو پیسے دیے جاتے ہیں وہ دراصل اس کے والدین کے لئے ہوتے ہیں۔ لیکن میں نے یہ پیسے الگ رکھے، اپنی بیٹی کے نام کر کے۔ پچھلے سال آٹھ رمضان کو میں نے ان پیسوں پر زکوۃ ادا نہیں کی کیونکہ میری بیٹی ایک سال سے کم عمر کی تھی۔ اب یہ پیسے میں اپنے ذاتی استعمال میں خرچ کر چکا ہوں۔ تو کیا یہ میرے اوپر قرض ہے اور یہ پیسے 260438 میں سے منہا کئے جائیں گے۔ حساب کر کے بتا دیں کہ
۱) کیا اس سال میرے اوپر زکوۃ فرض ہے، اگر ہے تو کتنے روپے؟
۲) اگر اس سال میرے اوپر زکوۃ فرض نہیں ہے تو اگلے سال زکوۃ کا حساب آٹھ رمضان کو ہی کروں یا کسی اور تاریخ کو؟
۳) اپنی بیٹی کے پیسے کیا میں استعمال کر سکتا ہوں، اور کیا ان پیسوں پر زکوۃ کی ادائیگی ضروری ہے؟
۴) حج کی نیت سے اس طرح پیسے جمع کرنا، تھوڑے تھوڑے کر کے، کیسا عمل ہے؟ کیا یہ پیسے حج کے علاوہ ذاتی خرچ میں استعمال ہو سکتے ہیں؟
۱) صورت مسئولہ میں سائل کے پاس چونکہ ضرورت سے زائد 52.5 (جو اس سال 8 رمضان کے ریٹ کے حساب سے تقریباً 5 لاکھ کے قریب بنتی ہے)تولہ چاندی کے بقدر نقدی نہیں ہے تو اس بناء پر سائل پر اس سال مذکورہ رقم پر زکوۃ واجب نہیں ہے۔
۲) اب جس دن سائل کی ملکیت میں ضرورت سے زائد سونا، چاندی، نقدی اور مال تجارت وغیرہ ملا کر 52.5 تولہ چاندی کے بقدر جمع ہوجائے اس دن سے زکوۃ کا سال شمار کرنا شروع کردے،اسی تاریخ کو اگلے سال اگر نصاب کے بقدر مال ہو تو زکوۃ ادا کردے۔
۴) حج کے لیے رقم جمع کرنا اچھا عمل ہے، نیک کام کے لیے پیسے جمع کرنا باعث ثواب ہے۔ نیز اس جمع شدہ رقم کو ضرورت کے وقت سائل اپنے استعمال میں بھی لاسکتا ہے۔
نوٹ: شق نمبر ۳ کا جواب نہیں دیا گیا ، اس کے لیے مندرجہ ذیل وضاحت ضروری ہے:
"سائل اس بات کو واضح کرے کہ سائل کے خاندانی عرف میں والدین میں سے دونوں (یعنی ماں اور باپ) رقم کے مالک ہوتے ہیں یا صرف والد؟ اگر دونوں ہوتے ہیں تو پھر آدھی آدھی رقم کے مالک ہوتے ہیں؟ اس میں عرف کیا ہے؟نیز سائل نے مذکورہ جو بیٹی کے نام سے الگ کرکے رکھی ہےتو کیا یہ کہا کہ یہ رقم میں نے بیٹی کو دے دی؟"
فتاوی شامی میں ہے:
"(وشرط كمال النصاب) ولو سائمة (في طرفي الحول) في الابتداء للانعقاد وفي الانتهاء للوجوب (فلا يضر نقصانه بينهما) فلو هلك كله بطل الحول."
(کتاب الزکوۃ،باب زکوۃ المال، ج:2،ص:302،ایچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709102184
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن