بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زکوۃ بالشرط کا حکم


سوال

خالد کا یہ شرط لگانا شرعا درست ہے یا نہیں ؟ اور ذمہ دار، مدرسہ کا اس شرط کو پورا کرنا لازمی ہے یا نہیں؟ خالد صاحب نصاب ہے ،لیکن زکوٰۃ کی ادائیگی میں اُس کی کچھ شرائط ہیں:

پہلی شرط یہ ہے کہ : مدرسہ والے کو اس شرط پر زکوٰۃ کی رقم دیتاہے کہ ۸ہزار روپے نیپالی کے سالانہ خرچ میں ایک طالب علم کو حافظ بنانا ہے۔

دوسری شرط یہ لگاتا ہے کہ :۳ سال میں حفظ مکمل کروانا لازمی ہے ؟ 

جواب

واضح رہے کہ زکوۃ کی  ادائیگی  صحیح ہونے کے لیے ضروری ہے کہ کسی  قسم کے عوض اور شرط  کے بغیر غیر ہاشمی مسلمان غریب فقیر کو خالص اللہ تعالی کی رضامندی کے حصول کے لیے  مالک بناکر دی جائے، لہذااگر کسی  شخص نے مستحقِ زکوۃ یااس کے وکیل   کو مشروط  زکوۃ دی تو اگر شرط ان شرائط میں سے ہو، جن کی رعایت ممکن ہو تو  وکیل پر ان  شرائط  کی رعایت رکھنا  ضروری ہوگا،  اور اگر شرائط ایسی ہو اس کو پورا کرنا ہی انسانی طاقت میں نہ ہو بلکہ تکلیف مالا یطاق ہو تو ایسی شرائط  کی پاسداری وکیل پر  لازم نہیں ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں  مدرسہ کا مہتمم   غریب مستحق طلباء کی طرف سے  زکوۃ لینے کا وکیل ہوتا ہے،اس لیے   اگر کوئی  شخص مدرسہ کے مہتمم  کو زکوۃ دیتے وقت  اس طرح کی شرط یعنی کہ نیپالی طالب علم  کو حافظ بنانے میں  لگائے تو ایسی شرط کی رعایت  رکھی جائے گی، البتہ  اس قسم کی شرط یعنی کہ تین سال میں حفظ پورا کروانا لازمی ہے، یہ  شرط مہتمم یعنی وکیل کی طاقت اور وسعت سے باہر ہے، لہذا مہتمم پر مذکورہ شرط کی پاسداری لازم نہیں ہے۔ 

چناں چہ   اگر کسی شخص نے مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ زکوۃ  مدرسہ کے  مہتمم صاحب کو دی  ،پھر مہتمم صاحب نے زکوٰۃ وصول کرکے وہ رقم مستحق غریب نیپالی  طلباء کو ان کی ملکیت میں بلا شرط دے دی، تو ایسی صورت میں زکوٰۃ ادا ہو جائے گی، کیوں کہ  زکوٰۃ کا اصل مقصد مستحق زکوۃ  تک بلا عوض ملکیت کے ساتھ پہنچنا ہے۔بہر حال  زکوۃ دینے والا مدرسہ کے ذمہ دار  سے اس قسم کی باتیں ترغیب دینے کے غرض سے کرسکتا ہے۔

حوالہ جات:

قرآن کریم میں ہے:

"لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا." (بقرہ:286)

ترجمہ:”الله تعالیٰ کسی شخص کو مکلف نہیں بناتا مگر اسی کا جو اس کی طاقت اور اختیار میں ہو“  (از:بیان القرآن)

احکام القرآن للجصاص میں ہے:

"قوله تعالى: {لا يكلف الله ‌نفسا ‌إلا ‌وسعها} فيه نص على أن الله تعالى لا يكلف أحدا ما لا يقدر عليه ولا يطيقه، ولو كلف أحدا ما لا يقدر عليه ولا يستطيعه لكان مكلفا له ما ليس في وسعه، ألا ترى قول القائل "ليس في وسعي كيت وكيت" بمنزلة قوله "لا أقدر عليه ولا أطيقه"؟ بل الوسع دون الطاقة. ولم تختلف الأمة في أن الله لا يجوز أن يكلف الزمن المشي والأعمى البصر والأقطع اليدين البطش لأنه لا يقدر عليه ولا يستطيع فعله; ولا خلاف في ذلك بين الأمة. وقد وردت السنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أن من لم يستطع الصلاة قائما فغير مكلف للقيام فيها، ومن لم يستطعها قاعدا فغير مكلف للقعود بل يصليها على جنب يومئ إيماء لأنه غير قادر عليها إلا على هذا الوجه; ونص التنزيل قد أسقط التكليف عمن لا يقدر على الفعل ولا يطيقه .... ومما يتعلق بذلك من الأحكام سقوط الفرض عن المكلفين فيما لا تتسع له قواهم لأن الوسع هو دون الطاقة، .... فهذا حكم مستمر في سائر أوامر الله وزواجره ولزوم التكليف فيها على ما يتسع له ويقدر عليه."

(سورة البقرة،‌‌مطلب: الدهن المتنجس يجوز الانتفاع به بغير الأكل ويجوز بيعه بشرط بيان عيبه،651،652/1، ط:دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)

احکام القرآن للشافعی میں ہے:

"وقال: (لا يكلف الله ‌نفسا ‌إلا ‌وسعها: 2- 286) . فبذا «2» فرض على المسلمين ما أطاقوه فإذا عجزوا عنه: فإنما كلفوا منه ما أطاقوه فلا بأس."

(سورة البقرة،آیۃ:286، ص:62، ج:2، ط: مكتبة الخانجي - القاهرة)

فتاوی شامی میں ہے:

"الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره." 

(کتاب الزکوۃ،269/2، ط: سعید)

فتاوی  تاتارخانیة  میں ہے:

"سئل عمر الحافظ عن رجل دفع إلی الآخر مالاً، فقال له: "هذا زکاة مالي فادفعھا إلی فلان فدفعھا الوکیل إلی آخر ھل یضمن؟ فقال: نعم، له التعیین."

( کتاب الزکوة،228/3،ط:رشيدية)  

الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے:

"الوكيل أثناء قيامه بتنفيذ الوكالة مقيد بما يقضي به الشرع من عدم الإضرار بالموكل؛ لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا ضرر ولا ضرار، ومقيد بما يأمره به موكله، كما أنه مقيد بما يقضي به العرف إذا كانت الوكالة مطلقة عن القيود، فإذا خالف كان متعديًا ووجب الضمان".

(  الوکالة، ضمان الوكيل ما تحت يده من أموال،45/ 87، ط: طبع الوزارة)

فتح القدير ميں ہے:

"والحق الذي يقتضيه النظر إجراء صدقة الوقف مجرى النافلة، فإن ثبت في النافلة جواز الدفع يجب دفع الوقف وإلا فلا إذ لا شك في أن الواقف متبرع بتصدقه بالوقف إذ لا إيقاف واجب، وكأن منشأ الغلط وجوب دفعها على الناظر وبذلك لم تصر واجبة على المالك بل غاية الأمر أنه وجوب اتباع شرط الواقف على الناظر."

(کتاب الزکوٰۃ، 2/ 273،  ط: دار الفكر)

بدائع الصنائع میں ہے:

"(ولنا) أنه لا سبيل إلى الإيجاب على الصبي؛ لأنه مرفوع القلم بالحديث ولأن إيجاب الزكاة إيجاب الفعل وإيجاب الفعل على العاجز عن الفعل ‌تكليف ‌ما ليس في الوسع ولا سبيل إلى الإيجاب على الولي ليؤدي من مال الصبي؛ لأن الولي منهي عن قربان مال اليتيم إلا على وجه الأحسن بنص الكتاب وأداء الزكاة من ماله قربان ماله لا على وجه الأحسن لما ذكرنا في الخلافيات والحديثان غريبان أو من الآحاد فلا يعارضان الكتاب مع ما أن اسم الصدقة يطلق على النفقة."

(كتاب الزكاة،الشرائط التي ترجع على من عليه المال،5/2، ط: سعيد)

فتح القدیر میں ہے:

"وأما حكمها: فجواز مباشرة ‌الوكيل ‌ما فوض إليه (قال) أي القدوري - رحمه الله تعالى - في مختصره (كل عقد جاز أن يعقده الإنسان بنفسه جاز أن يوكل به غيره) هذه ضابطة يتبين بها ما يجوز التوكيل به لأحد."

(كتاب الوكالة،4/8، ط:دار الفكر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع كذا في التبيين."

(کتاب الزکوۃ، الباب الأول، ج:1، ص:170، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100245

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں