
میں ایک ویلفیئر چلارہی ہوں ،میں نے یتیم خانہ کے لیے جگہ بھی خریدی ہے،مجھے یہ پوچھنا ہے کہ یتیم خانہ کی تعمیرات میں جو رقم خرچ ہوگی ،کیا وہ رقم زکاۃ سے استعمال ہوسکتی ہے؟ براہ کرم مجھے جواب دیں،مجھے یہ فتوی ان لوگوں کو بھی دکھانا ہے جو اس کار خیر میں میرے ساتھ حصہ لے رہے ہیں۔
زکاۃ کی ادائیگی کے لئے ضروری ہے کہ زکاۃ کی رقم مستحق زکاۃ شخص کو بلاعوض مالک بناکردی جائے،رفاہی کاموں مثلامسجد کی تعمیر،مدرسہ کی تعمیر،رفاہی ادارے کی تعمیر وغیرہ، میں اس طرح تملیک (مالک بنانا) نہیں پائی جاتی،اسی وجہ سے ان کاموں میں زکاۃ کی رقم استعمال کرنا جائز نہیں ۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں زکاۃ کی رقم یتیم خانہ کی تعمیر میں استعمال کرنا جائز نہیں ہے،اس سے زکاۃ ادا نہیں ہوگی۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
" لا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد، وكل ما لا تمليك فيه، ولا يجوز أن يكفن بها ميت، ولا يقضى بها دين الميت كذا في التبيين."
(1/ 188، کتاب الزکاۃ، الباب السابع فی المصارف، ط: رشیدیه)
فتاوی شامی میں ہے:
"ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) أما دين الحي الفقير فيجوز لو بأمره، ولو أذن فمات فإطلاق الكتاب يفيد عدم الجواز وهو الوجه نهر (و) لا إلى (ثمن ما) أي قن (يعتق) لعدم التمليك وهو الركن.
وقدمنا أن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء وهل له أن يخالف أمره؟ لم أره والظاهر نعم."
(کتاب الزکوٰۃ،باب مصرف الزکوٰۃوالعشر،ج:2،ص:345،ط:سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144801102140
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن