
گزشتہ 18 سال سے ہماری جماعت زکوٰۃ کے جمع کرنے کا کام کر رہی ہے، جو کہ ہم اپنی جماعت کے مستحق ممبر ان بیوہ، بیٹی اور ممبران کو تحقیق کے بعد نقد رقم کی صورت میں زکوۃ دیتے ہیں، اس سال ہمارے کچھ ساتھی ایک تجویز لائے ہیں وہ جماعت کی اندر مستحق بچیوں کی شادی زکوۃ کی مد میں کرنے چاہ رہے ہیں، کیا یہ جائز ہے یہ نہیں؟
صورت مسئولہ میں مستحق زکوٰۃ لڑکیوں کی شادی میں زکوۃ کی رقم سے ان کی مالی مدد کرنا یا ان کو فرنیچر کپڑے و دیگر ضرورت کا سامان اور زیورات خرید کر یکبارگی دینا جائز ہے،اسی طرح اگروالد مستحق زکوٰة ہو تو اسے دینا بھی جائز ہے، البتہ زکوٰة کی رقم شادی کی تقریب یا مہمانوں کی دعوت یا اس طرح کے امور میں خرچ کرنا کہ زکوٰة کی رقم مستحق فرد کی ذاتی ملکیت میں نہیں جاتی شرعا جائز نہیں ، دوم یہ کہ ایک مرتبہ اتنی رقم اس کی ملکیت میں دی جائے کہ وہ صاحب نصاب بن جائے اور وہ استعمال میں نہ لائے تو دوبارہ زکاۃ دینا درست نہیں ہوگا ۔
اس لیے زکوٰۃ سے پوری شادی کی ذمہ داری اٹھانے سے زکوٰۃ کا کچھ حصہ ضائع ہو سکتا ہے۔ ہاں اگر زکوٰۃ سے وہ اخراجات اٹھائے جائیں جن میں مستحق کی ملکیت پائی جاتی ہو، تو پھر اس کی گنجائش ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
"{إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ...الخ }."[التوبة: 60]
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع كذا في التبيين."
(كتاب الزكوة، الباب الأول في تفسيرها وصفتها وشرائطها، ج: 1، ص: 170، ط: دار الفکر)
کفایت المفتی میں ہے:
"سوال: (2402) اگر کسی ایسے لڑکے کی شادی کہ جو خود قابل کمائی ہو اور جو کماتا ہو وہ روزانہ اخراجات والدین اور بہنوں میں صرف کردیتا ہو اور ضرورت اس کو شادی کی ہو تو زکوٰۃ کے روپے سے اس کی شادی کرسکتے ہیں یا نہیں؟
جواب: اگر وہ فی الحال مالک نصاب نہ ہو تو اس کی شادی کے لئے اس کو تملیکا زکوٰۃ کا روپیہ دینا جائز ہے،"و الحق به كل من هو غائب عن مال و إن كان في بلده؛ لأن الحاجة هي المعتبر (هندية ٢٠٠/١ )"
لیکن ایک شخص کو مقدار نصاب یا اس سے زیادہ دینا مکروہ ہے۔"
( باب مصارف الزکاۃ، زکوٰۃ سے کسی مستحق کی شادی کرانا، ج: 6 ص: 240/241 ط: ادارہ الفاروق)
آپ کے مسائل اور ان کے حل میں ہے:
"سوال: کیا زکوٰۃ کی رقم سے کسی نہایت غریب رشتہ دار بچی کے لیے دو تولے یا اس سے کم سونا خرید کر شادی کے لیے دیا جاسکتا ہے؟ اور زکوٰۃ ادا ہو جائے گی؟
جواب: اگر وہ بچی صاحب نصاب نہیں (یعنی پہلے سے اس کے پاس زیور یا نقدی کی شکل میں اتنا سرمایہ نہیں جس پر زکوٰۃ فرض ہو) تو بچی کو زکوٰۃ سے زیور بنا دینا صحیح ہے۔"
(زکوٰۃ ادا کرنے کا طریقہ،کسی غریب بچی کی شادی کے لئے زکوٰۃ کی رقم سے دو تولے یا اس سے کم سونا خرید کر دینا ج: 4 ص: 134 ط: مکتبہ لدھیانوی)
وفیہ ایضا :
"سوال: میرا مسئلہ یہ ہے کہ میری نند کی پانچ بیٹیاں ہیں، اور دو بیٹے ہیں۔ ایک بیٹی کی شادی ہو چکی ہے، دوسری بیٹی کی شادی گزشتہ مہینے انجام پائی ہے، تین لڑکیاں باقی ہیں۔ لڑکیوں کےوالد صاحب گھر میں ان کے کہنے کے مطابق بالکل خرچہ نہیں دیتے، بھائی ملازم پیشہ ہیں، والدہ بھی اکثر بیمار رہیتی ہیں۔ سنا ہے کہ بھائی دوہزار روپے ماہانہ دیتے ہیں۔ آج کل تو مہنگائی میں بیماری میں دوہزار سے گزارہ مشکل ہے۔ لڑکیوں کی شادی میں جہیز و غیرہ دینے کے لیے مسئلہ پیدا ہوتا ہے، بھائی بہت معمولی قسم کا جہیز دینے ک کے لائق ہیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ میرے شوہر بھی قرض دار ہیں، ان کی بھی اتنی حیثیت نہیں کہ ان کی مالی مدد کر سکیں۔ میں ٹیوشن پڑھا کر بی سی ڈال کر زکوٰۃ دیتی ہوں، کیونکہ میرے پاس میکے کا ملاہوا زیور ہے، لہذا میں آپ سے یہ پوچھنا چاہ رہی تھی کہ اس سالانہ زکوٰۃ میں سے ان کی لڑکیوں کے جہیز کے لیے سالانہ کچھ رقم ان کو دے سکتی ہوں کہ نہیں؟ تاکہ وہ جہیز بنا سکیں اپنی لڑکیوں کا۔ کہاں تک جائز ہے؟
مولانا صاحب ! رمضان المبارک سے پہلے میرے خط کا جواب دیجئے، میں بہت شکر گزار ہوں گی۔ ایسے ایک بات اور عرض کر دوں کہ پہلی لڑکی کی شادی میں زکوٰۃ میں سے ان کو دوہزار روپے دے چکی ہوں، میری وہ زکوٰۃ قبول ہوئی کہ نہیں؟ آپ میرے خط کا جواب ضروری دیں۔
جواب: اگر ان لڑکیوں کے پاس اتنا سونا نہ ہو جس پر زکوٰۃ واجب ہوجاتی ہے، تو ان کو جہیز کا سامان خرید کر دے سکتی ہیں یا نقدی، پیسے دے سکتے ہیں کہ وہ جہیز خرید لیں۔"
( زکوٰۃ ادا کرنے کا طریقہ، زکوٰۃ کی رقم سے جہیز خرید کر دینا، ج: 5 ص: 134 ط: مکتبہ لدھیانوی)
فقط و اللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101737
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن