بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زکات دینے والے کے لیے اپنی زکات کی مد میں دی گئی رقم سے تیار شدہ کھانے کا حکم


سوال

ایک شخص نے مستحق کو زکات دی،  پھر اس مستحق شخص نے کچھ اپنی طرف سے رقم ملا کر ایک گائے صدقہ کی نیت سے لےکر اس کو ذبح  کیا،  اب جس شخص نے زکوٰۃ دی تھی  کیا وہ شخص اس گائے  کا گوشت کھا سکتا ہے؟

 

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر معطی الزکاۃ  (زکات دینے والے) نے مستحقِ زکات کو زکات دیتے وقت یہ شرط نہ لگائی ہو کہ اس رقم سے گائے خرید لینا، پھر اس کے گوشت میں سے کچھ گوشت مجھے بھی دینا، تو اس صورت میں اگر مستحق آدمی اپنی خوشی سے    معطی الزکاۃ  (زکات دینے والے) کو مذکورہ گائے کے گوشت میں سے کچھ دے تو اس کے لیے وہ گوشت کھانا جائز  ہے۔

صحيح البخاری میں ہے:  

''حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا خالد، عن حفصة بنت سيرين، عن أم عطية الأنصارية رضي الله عنها، قالت: دخل النبي صلى الله عليه وسلم على عائشة رضي الله عنها فقال: "هل عندكم شيء؟ "، فقالت: لا، إلا شيء بعثت به إلينا نسيبة من الشاة التي بعثت بها من الصدقة. فقال: "إنها قد بلغت محلها".

(كتاب الزكات،باب إذا تحولت الصدقة، ج: 2، ص:  359، دار التأصيل - القاهرة)

صحیح مسلم میں ہے:

"عن قتادة، سمع أنس بن مالك، قال: أهدت بريرة إلى النبي صلى الله عليه وسلم لحماً تصدق به عليها، فقال: «هو لها صدقة، ولنا هدية»."

(كتاب الزكاة، باب إِباحة الهدية للنبي صلى الله عليه وسلم ولبني هاشم وبني المطلب وإِن كان المهدي ملكها بطريق الصدقة...، ج: 2، ص: 700، رقم: 2485، ط: بشري)

ترجمہ:’’ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گوشت ہدیہ کیا جو ان کو بطورِ صدقہ دیا گیا تھا اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ان کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے۔‘‘

فتاوی شامی میں ہے:

"(وطاب لسيده وإن لم يكن مصرفا) للصدقة (ما أدي إليه من الصدقات فعجز) لتبدل الملك، وأصله حديث بريرة 'هي لك صدقة ولنا هدية'."

(كتاب المكاتب، باب موت المكاتب وعجزه وموت المولي، ج: 6، ص: 116، ط: سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144605101660

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں