بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

6 صفر 1442ھ- 24 ستمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

زیر ناف بالوں کے کاٹنے کا ثبوت


سوال

زیر ناف بال کاٹنے کا ثبوت کس معتبر حدیث اور کس نبی یا صحابی کے دور سے ہے؟

جواب

زیرِ ناف بال بڑھنے کی صورت میں انہیں کاٹنا ہر مسلمان بالغ مرد و عورت پر لازم ہے،مسنون یہ ہے کہ ہر ہفتے میں جمعہ کے دن  جسمانی اصلاح و صفائی کا یہ کام کیا جائے، ورنہ دو ہفتوں میں ایک بار کیا جائے، صفائی کی آخری حد چالیس روز ہے، چالیس روز سے سے زیادہ تاخیر کرنا مکروہِ تحریمی اور گناہ کا باعث ہے۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا:

پانچ چیزیں انسان کی فطرتِ سلیمہ میں داخل ہیں اور دینِ فطرت کے خاص احکام ہیں:  ختنہ، زیرِ ناف بالوں کی صفائی، مونچھیں تراشنا، ناخن لینا اور بغل کے بال لینا۔

بعض دوسری احادیث میں ان چیزوں کو انبیاء و مرسلین کی سنت اور ان کا طریقہ بتایا گیا ہے۔ لہٰذا زیرِِ ناف بالوں کی صفائی امورِفطرت میں سے ہے اور اس کا اہتمام تمام انبیاء علیہم السلام نے کیا ہے۔ جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ یہ تمام انبیاءِ کرام کی سنت اور امورِ فطرت میں سے ہے تو یہ سوال ہی ختم ہوجاتا ہے کہ  کس صحابی کے دور سے ہے۔

 صحيح مسلم(1/ 221) میں ہے:

 عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْفِطْرَةُ خَمْسٌ - أَوْ خَمْسٌ مِنَ الْفِطْرَةِ - الْخِتَانُ، وَالِاسْتِحْدَادُ، وَتَقْلِيمُ الْأَظْفَارِ، وَنَتْفُ الْإِبِطِ، وَقَصُّ الشَّارِبِ».

صحيح مسلم(1/ 222) میں ہے:

 عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: - قَالَ أَنَسٌ -: «وُقِّتَ لَنَا فِي قَصِّ الشَّارِبِ، وَتَقْلِيمِ الْأَظْفَارِ، وَنَتْفِ الْإِبِطِ، وَحَلْقِ الْعَانَةِ، أَنْ لَا نَتْرُكَ أَكْثَرَ مِنْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً».

ترجمہ : حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مونچھیں ترشوانے اور ناخن لینے اور بغل اور زیرِ ناف کی صفائی کے سلسلہ میں ہمارے واسطے حد مقرر کر دی گئی ہے کہ 40 روز سے زیادہ نہ چھوڑیں ۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 406) میں ہے:

"(و) يستحب (حلق عانته وتنظيف بدنه بالاغتسال في كل أسبوع مرة) والأفضل يوم الجمعة وجاز في كل خمسة عشرة وكره تركه وراء الأربعين، مجتبى.  (قوله: وكره تركه) أي تحريماً لقول المجتبى: ولا عذر فيما وراء الأربعين ويستحق الوعيد اهـ وفي أبي السعود عن شرح المشارق لابن ملك: روى مسلم عن أنس بن مالك: «وقت لنا في تقليم الأظفار وقص الشارب ونتف الإبط أن لانترك أكثر من أربعين ليلةً». وهو من المقدرات التي ليس للرأي فيها مدخل فيكون كالمرفوع اهـ.

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144201200644

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں