بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زیرِ کفالت غیر کی بچی کو کچھ دینے کا حکم


سوال

گزارش یہ ہے کہ میں نے 2010ء میں ایک بچی کو اپنے کفالت میں لے لیا تھا،اب اس بچی کے نام پلاٹ اور کچھ سونا دینا چاہتا ہوں،کیا میرا اس بچی کو کچھ دینا جائز بھی ہے یا نہیں؟میری کوئی اولاد نہیں ہے۔

اگر میں اس بچی کو سات تولہ سونا سے کم سونا دوں توکیا اس بچی کوزکوٰۃ دینی پڑے گی؟ بچی کے پاس کچھ رقم بھی نہیں ہے۔

جواب

(1) صورتِ مسئولہ میں اگر سائل مذکورہ بچی کوپلاٹ اور سونا دینا چاہےتویہ جائز ہے، اور شرعاًیہ اس کی طرف سے ہبہ(گفٹ) کہلائےگا، اور ہبہ میں (پلاٹ وغیرہ)صرف نام کرنےسے اس کی ملکیت ثابت نہیں ہوگی، بلکہ مکمل مالکانہ تصرف کے ساتھ  دینا ضروری ہوگا، وگرنہ ہبہ تام نہیں ہوگا ۔

(2)سائل اگر مذکورہ بچی کو ساڑھے سات تولہ سونا سے کم سونا دے، اور اس کے پاس  قابل ِزکوٰۃاور کوئی مال یعنی چاندی  ،نقد(ایک)روپیہ،یا مالِ تجارت وغیرہ ،موجود نہ ہوتو اس صورت میں ساڑھے سات تولہ سوناسے  کم سونے  پر زکوٰۃ فرض نہیں ہے،لیکن اگر نصاب سے کم سونے کے ساتھ چاندی،کیش  رقم(اگر چہ ایک روپیہ ہی کیوں نہ ہو)،یا مالِ تجارت وغیرہ موجود ہے تو اس صورت میں چاندی کے نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی )کی قیمت کا اعتبار ہوگا،لہٰذسونا اور قابلِ زکوٰۃ مال کی مجموعی قیمت  ساڑے باون تولہ چاندی  کے برابر یا اس سے زیادہ ہے تو اس صورت میں اس پر زکوٰۃ فرض ہوگی۔

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض."

(کتاب الهبة، الباب الاول فی تفسیرھاو شرائطھا، ج:4، ص:374، ط: رشیدیة)

الدر المختار میں ہے:

"(نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة) دراهم (وزن سبعة مثاقيل)."

(كتاب الزكاة،باب زكاة المال،ج2،ص295،ط سعید)

البحرالرائق میں ہے:

"(قوله يجب في مائتي درهم وعشرين مثقالا ربع العشر) ، وهو خمسة دراهم في المائتين، ونصف مثقال في العشرين."

(كتاب الزكاة،باب زكاة المال،ج:2، ص:242، ط: دارالکتاب الاسلامی)

فتایٰ شامی میں ہے:

"(وقيمة العرض) للتجارة (تضم إلى الثمنين) لأن الكل للتجارة وضعا وجعلا (و) يضم (الذهب إلى الفضة) وعكسه بجامع الثمنية (قيمة).......فلو ضم حتى يؤدي كله من الذهب أو الفضة فلا بأس به عندنا، ولكن يجب أن يكون التقويم بما هو أنفع للفقراء رواجا."

(كتاب الزكاة،باب زكاة المال، ج:2 ، ص:303، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705100768

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں