بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

زائدالمیعاد اشیاء کی ایسے شخص کو فروخت کا شرعی حکم جو تاریخ تبدیل کرکے دھوکہ دہی کے ساتھ آگے فروخت کرے


سوال

میں مختلف ممالک سے خورد و نوش کی اشیاء، مثلاً چاکلیٹ اور ٹافی منگواتا ہوں۔ بعض اوقات یہ بیرونِ ملک یا یہاں پہنچنے کے بعد ایکسپائر ہو جاتی ہیں، مگر اکثر استعمال کے قابل رہتی ہیں۔

 

کچھ مخصوص گاہک، جنہیں ان کا زائدالمیعاد ہونا معلوم ہوتا ہے، معائنہ کے بعد خرید لیتے ہیں، اور یہ حضرات تاریخ بدل کر(Redate) آگے فروخت کرتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اس صورت میں کیا ہم ایسی اشیاء بیچ سکتے ہیں یا نہیں؟ اور کیا ہمارے لیے ایسا کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر زائدالمیعاد (ایکسپائرڈ) اشیاء، میعاد گزر جانے کے باوجود طبی ماہرین کی تصدیق کی رو سے  مضر نہ ہوں اور قابلِ استعمال ہوں، تو ان کی خرید و فروخت جائز ہے، بشرطیکہ خریدار کو پیشگی طور پر میعاد ختم ہونے کی اطلاع دے دی جائے۔

البتہ اگر سائل کو معلوم  ہو، یا غالب گمان ہو، کہ خریدار ان اشیاء کو ناجائز مقاصد کے لیے استعمال کرے گا، مثلاً تاریخ تبدیل کرکے دھوکہ دہی کے ساتھ آگے فروخت کرے گا، تو اس صورت میں اعانت علی المعصیۃ کے پیشِ نظر ایسے خریدار کو فروخت کرنا مکروہِ تحریمی ہوگا۔

نیز چونکہ یہ عمل قانوناً جرم ہے، اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

سنن الترمذی میں ہے:

"عن حذيفة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "‌لا ‌ينبغي ‌للمؤمن ‌أن ‌يذل ‌نفسه" قالوا: وكيف يذل نفسه؟ قال: يتعرض من البلاء لما لا يطيقه" ."

(‌‌أبواب الفتن، باب قوله: {يا أيها الذين آمنوا عليكم أنفسكم}، ج : 5، ص : 148، برقم : 4016، ط : دار الرسالة العالمية)

 

بدائع الصنائع میں ہے :

"(ومنها) ‌بيع ‌السلاح ‌من ‌أهل ‌الفتنة وفي عساكرهم؛ لأن بيعه منهم من باب الإعانة على الإثم والعدوان وأنه منهي، ولا يكره بيع ما يتخذ منه السلاح منهم كالحديد وغيره؛ لأنه ليس معدا للقتال فلا يتحقق معنى الإعانة، ونظيره بيع الخشب الذي يصلح لاتخاذ المزمار فإنه لا يكره وإن كره بيع المزامير."

 (كتاب البيوع، فصل في صفة البيع الذي يحصل به التفريق، ج : 5، ص : 233، ط : دار الكتب العلمية)

تبيين الحقائق میں ہے:

"لا يحل له أن يبيع المعيب حتى يبين عيبه لقوله عليه السلام «لا يحل لمسلم باع من أخيه بيعا ‌وفيه ‌عيب ‌إلا ‌بينه ‌له» رواه ابن ماجه وأحمد بمعناه «ومر عليه السلام برجل يبيع طعاما فأدخل يده فيه فإذا هو مبلول فقال من غشنا فليس منا» رواه مسلم وغيره."

(کتاب البیوع، باب خیار العیب، ج : 4، ص : 31، ط : المطبعة الكبرى الأميرية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144706100026

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں