بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ظہور امام مہدیؒ کا عقیدہ رکھنا ضروری ہے


سوال

 زید یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ مہدی کا عربی میں مطلب ہدایت یافتہ ہوتا ہے، لہذا خلفائے راشدین مہدیین ہیں، اسی طرح عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے قبل مہدی بن کر آئیں گے۔ مہدی کو بذاتِ خود ایک شخص ماننے کی ہمارے پاس صحیح احادیث نہیں بلکہ ضعیف احادیث ہیں، لہذا وہ سمجھتا ہے کہ امام مہدی کا آنا کوئی ضروری نہیں،اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ امام مہدیؒ کے سلسلے میں احادیث متواتر کا انکار نہیں؟ اگر ہے تو زید کا یہ عقیدہ کفریہ ہے یا گمراہ کن؟

جواب

واضح رہے  کہ ظہور امام مہدیؒ احادیث کے معتبر کتب میں تواتر معنوی کو پہنچی ہوئی صحیح احادیث اور اجماع امت سے ثابت ہے، اہل سنت والجماعت کا عقیدہ ہے کہ قرب قیامت میں امام مہدیؒ کا ظہور ہوگا، دنیا میں عدل وانصاف کا نظام قائم کرےگا،اس کے  متعلق اتنی روایات مروی ہیں جنہیں معنوی تواتر کہا جاسکتاہے، اگرچہ اس کی بعض تفصیلات اخبار احاد  سے ثابت ہے لیکن مجموعی طورپر ظہور امام مہدیؒ معنی متواتر احادیث سے ثابت ہے، جس سے انکار کرنا جائز نہیں، لہذا ظہور امام مہدیؒ کا اعتقاد  رکھنا اور حسب بیان علماء اور عقائد اہل سنت والجماعت اس پر ایمان لانا ضروری ہے۔

زیدکا یہ عقیدہ  کہ  مہدی کا عربی میں مطلب ہدایت یافتہ  کا ہے، عربی لغت کے اعتبار سے یہ معنی تو صحیح ہے، مہدی لغت میں ہدایت یافتہ کو کہتے ہیں، اس معنی سے بہت سے مہدی ہو چکے ہیں، اور بہت سے   مہدی   ہوں گے، لیکن وہ امام  مہدی جن کا ذکر احادیث میں بکثرت ہے، وہ ایک خاص شخص ہیں  جو قرب قیامت  میں ظاہر ہوں گے،اس  کا انکار کرنا  اجماع امت اور عقائد اہل سنت والجماعت کے خلاف اور  گمراہ کن  عقیدہ ہے ،لہذا یہ عقیدہ   کہ "امام  مہدیؒ کو بذاتِ خود ایک شخص ماننے کی ہمارے پاس صحیح احادیث نہیں بلکہ ضعیف احادیث ہیں، لہذا  امام مہدیؒ کا آنا کوئی ضروری نہیں"صحیح نہیں ہے،بلکہ گمراہ کن ہے   اس عقیدہ کی اصلاح ضروری ہے ۔

سنن الترمذی میں ہے:

"عن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا ‌تذهب ‌الدنيا ‌حتى ‌يملك ‌العرب ‌رجل من أهل بيتي يواطئ اسمه اسمي: وفي الباب عن علي، وأبي سعيد، وأم سلمة، وأبي هريرة وهذا حديث حسن صحيح"

(أبواب الفتن،‌‌ باب ما جاء في المهدي، ج: 2، ص: 47، ط: قديمي كتب خانه)

مشکوٰ ۃالمصابیح میں ہے:

"عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا ‌تذهب ‌الدنيا ‌حتى ‌يملك ‌العرب ‌رجل من أهل بيتي يواطىء اسمه اسمي رواه الترمذي وأبو داود. وفي رواية له: لو لم يبق من الدنيا إلا يوم لطول الله ذلك اليوم حتى يبعث الله فيه رجلا مني - أو من أهل بيتي - يواطئ اسمه اسمي واسم أبيه اسم أبي يملأ الأرض قسطا وعدلا كما ملئت ظلما وجورا."

(‌‌كتاب الفتن‌‌، باب أشراط الساعة، ج: 2، ص: 470، ط: قديمي كتب خانه)

سنن ابي داود ميں هے:

"عن أبي سعيد الخدري، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: المهدي مني، أجلى الجبهة، أقنى الأنف، ‌يملأ ‌الأرض ‌قسطا ‌وعدلا، ‌كما ‌ملئت ‌جورا ‌وظلما، يملك سبع سنين." 

(كتاب المهدي، ج: 4، ص: 107، ط: المکتبة العصرية)

وفيه أيضا:

"عن أم سلمة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: يكون اختلاف عند موت خليفة، فيخرج رجل من أهل المدينة هاربا إلى مكة، فيأتيه ناس من أهل مكة فيخرجونه وهو كاره، فيبايعونه بين الركن والمقام، ويبعث إليه بعث من أهل الشام، فيخسف بهم بالبيداء بين مكة والمدينة، فإذا رأى الناس ذلك أتاه أبدال الشام، وعصائب أهل العراق، فيبايعونه بين الركن والمقام، ثم ينشأ رجل من قريش أخواله كلب، فيبعث إليهم بعثا، فيظهرون عليهم، وذلك بعث كلب، والخيبة لمن لم يشهد غنيمة كلب، فيقسم المال، ويعمل في الناس بسنة نبيهم صلى الله عليه وسلم، ويلقي الإسلام بجرانه في الأرض، فيلبث سبع سنين، ثم يتوفى ويصلي عليه المسلمون."

(كتاب المهدي، ج: 4، ص: 107، ط: المکتبة العصرية)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101961

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں