
ذھاب نام رکھنا کیسا ہے ؟ ذھب کا معنی:سوناہے ، تو اُسے انگلش میں ” zehab “ درست ہوگا، یا” zahab“؟ برائے مہربانی تفصیل سے بیان کریں۔
واضح رہے کہ ذَهاب(ذال کے زبر کے ساتھ )کے معانی جانا، گزرنا، مرنا، مٹناکے آتے ہیں، اور ذِهاب (ذال کے زیر کے ساتھ) کے معانی کمزور بارش، ایک پہاڑکا نام ، اور ایک جگہ کا نام کے آتے ہیں، اورذُهاب( ذال کے پیش کے ساتھ ) کے معانی ایک پہاڑکا نام ، اور ایک جگہ کا نام کےآتے ہیں، اسی طرح ذِهاب (ذال کے زیر کے ساتھ) اورذَهبان(ذال کے زبر، اور با کے بعد الف کے ساتھ)ایک شخص کا نام ہے جو کہ ایک عرب قبیلہ کے جد امجد تھا۔
نیز یہ کہ سونے کے لیے الذهب( ذال اور ھاء کے زبرکے ساتھ) کا لفظ استعمال ہوتاہے، اور ذھب کا جمع أذهاب اور ذُهوب( ذال کے پیش، اور ہا کے بعد واو کے ساتھ ) اورذُِهبان ( ذال کے زیرياپیش، اور با کے بعد الف کے ساتھ ) آتاہے، یعنی سونے کےلیے ذَِهاب ( ذال کے زیر،زبر کے ساتھ ) نہیں آتاہے ۔
لہٰذا صورت مسئولہ میں اس تفصیل کے روشنی میں ذِهاب( ذال کے زیر، کے ساتھ،Zihab)نام رکھا جا سکتاہے، اسی طرح ذُهاب (ذال کے پیش کے ساتھ،Zuhab) اور ذَُِهبان ( ذال کےزبر، زیر ، پیش، اور با کے بعد الف کے ساتھ ،Zahban/ Zihban/ Zuhban) نام بھی رکھے جاسکتےہیں، مگر ذَهاب (ذال کے زبر کے ساتھ ، Zahab)نام کے کوئی مثبت معنی نہ ہونے کی وجہ سے نہیں رکھنا چاہیے۔
اور زیادہ مناسب یہ ہوگاکہ اپنی اولاد کے نام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے ناموں میں سے کوئی نام رکھاجائے جیسے عبداللہ، عبدالرحمٰن،محمد، احمد، ابراہیم، عباس، انس وغیرہ۔ اور حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں۔
ترمذی شریف میں ہے:
" عن ابن عمر، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: أحب الأسماء إلى الله عبد الله وعبد الرحمن."
ترجمہ:’’عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ نام عبداللہ اور عبدالرحمٰن ہیں۔‘‘
( أبواب الأداب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، باب ما جاء ما يستحب من الأسماء، ج: 2، ص: 520، ط: دار الغرب الإسلامي، بيروت )
فتاوی شامی میں ہے:
"( قوله: أحب الأسماء إلخ ) هذا لفظ حديث رواه مسلم وأبو داود والترمذي وغيرهم عن ابن عمر مرفوعا. قال المناوي وعبد الله: أفضل مطلقا حتى من عبد الرحمن، وأفضلها بعدهما محمد، ثم أحمد ثم إبراهيم اهـ."
( کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغيره، ج: 6، ص: 417، ط: سعید )
لسان العرب میں ہے:
" ذهب: الذَّهابُ: السَّيرُ والمُرُورُ؛ ذَهَبَ يَذْهَبُ ذَهاباً وذُهوباً فَهُوَ ذاهِبٌ وذَهُوبٌ... والمَذْهَب: المُتَوَضَّأُ، لأَنَّه يُذْهَبُ إِليه. وفي الحديث:أَنَّ النَّبِيَّ، صلى الله عليه وسلم، كانَ إِذا أَراد الغائطَ أَبْعَدَ فِي المَذْهَبِ، وَهُوَ مَفْعَلٌ مِنَ الذَّهابِ. الكِسَائِيُّ: يقال لموضع الغائط: الخَلاءُ، والمَذْهَب، والمِرْفَقُ، والمِرْحاضُ...
والذَّهَبُ: معروف، وَرُبَّمَا أُنِّثَ. غَيره: الذَّهَبُ التِّبْرُ، القطعة منه ذهبة، وعلى هذا يذكر ويُؤَنَّث، على ما ذكر في الجمع الذي لا يفارقه واحدُه إلَّا بالهاء. وفي حديث عليٍّ، كرم اللَّهُ وجهه: فبعث من اليَمَنِ بذُهَيْبَة. قال ابنُ الأَثير: وهي تصغيرُ ذَهَبٍ، وأدخل الهاءَ فيها لأَنَّ الذَّهَب يُؤَنَّث، والمُؤَنَّث الثُّلاثيّ إِذا صُغِّرَ أُلْحِقَ في تصغيرِه الهاءُ، نَحْوَ قُوَيْسَةٍ وشُمَيْسَةٍ؛ وقيل: هو تصغيرُ ذَهَبَةٍ، على نِيَّةِ القِطْعَةِ منها، فصَغَّرَها على لفظها؛ والجمع الأَذْهابُ والذُّهُوبُ. وفي حديث عَلِيٍّ، كَرَّمَ الله تعالى وَجْهَهُ: لَوْ أَرادَ اللَّهُ أَن يَفْتَحَ لَهُمْ كنوزَ الذِّهْبانِ، لفَعَل؛ هو جمع ذَهَبٍ، كبَرَقٍ وبِرْقانٍ، وقد يُجْمَعُ بالضمِّ، نَحْوَ حَمَلٍ وحُمْلانٍ...
والذِّهبةُ، بِالْكَسْرِ، المَطْرَة، وقيل: المَطْرةُ الضَّعيفة، وقيل: الجَوْدُ، والجمع ذِهابٌ؛ قال ذُو الرُّمة يصف روضة:
حَوَّاءُ، قَرْحاءُ، أَشْراطِيَّة، وكَفَتْ … فِيهَا الذِّهابُ، وحفَّتْها البراعيمُ
وأنشد الجوهريُّ للبَعِيثِ:
وَذِي أُشُرٍ، كالأُقْحُوانِ، تَشُوفُه … ذِهابُ الصَّبَا، والمُعْصِراتُ الدَّوالِحُ
وقيل: ذِهْبةٌ للمَطْرة، واحدة الذِّهاب. أبو عبيد عن أصحابه: الذِّهابُ الأَمْطارُ الضَّعيفة؛ ومنه قول الشاعر:
تَوَضَّحْنَ فِي قَرْنِ الغَزَالَةِ، بَعْدَ مَا … تَرَشَّفْنَ دِرَّاتِ الذِّهابِ الرَّكائِكِ
وفي حديث علي، رضي الله عنه، في الاستسقاء: لا قَزَعٌ رَبابُها، وَلَا شِفّانٌ ذِهابُها؛ الذِّهابُ: الأَمْطارُ اللَّيِّنة؛ وفي الكلام مضاف محذوف تقديره: ولا ذات شِفّانٍ ذِهابُها...
والذِّهابُ والذُّهابُ: موضعٌ، وقيل: هو جبلٌ بعَيْنه؛ قال أبو دواد:
لِمَنْ طَلَلٌ، كعُنْوانِ الكتابِ، … ببَطْنِ لُواقَ، أَو بَطْنِ الذُّهابِ
ويروى: الذِّهابِ. وذَهْبانُ: أبو بطن... "
( حرف الباء، فصل الذال المعجمة، ج: 1، ص: 393- 396 ، ط: دار صاد، بيروت )
القاموس الوحید میں ہے:
”۔۔۔ ذَهَبَ -َ ذَهاباًو ذهوباً و مذهباً: جانا، گزرنا، مرنااور مٹنا۔ جیسے:ذهب الأثر.۔۔۔ الذَّهَب: سونا ج: أذهاب، وذُهوب.۔۔۔“
( ص: 475،ط: ادارہ اسلامیات )
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100833
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن