
سورۃ مریم پڑھ کر اس کو چینی یا نمک پر دم کر کے زچگی کے عمل کے دوران آسانی کے لئے کھانے یا پینے کا کیا جواز ہے؟
واضح رہے کہ حاملہ عورت کی زچگی کے عمل کے دوران آسانی کے لئے سورۃ مریم کو چینی یا نمک پردم کرکے کھانے یا پینےکا تعلق علاج سے ہے اور علاج کا تعلق عام طور پر تجربے سے ہے اور اگر کسی عمل میں شریعت کے خلاف کوئی کام نہ ہو تو وہ عمل کرنا جائز ہے؛ لہذا سورہ مریم پڑھ کر چینی یا نمک پر دم کر کے زچکی کے عمل کے دوران کھلانا یا پلانا جائز ہے۔
نیز حکیم الامت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب اعمال قرآنی میں آسانی ولادت سے متعلق ایک وظیفہ لکھا ہے کہ جو عورت دردِ زہ میں مبتلا ہوتو یہ آیت"أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّماواتِ وَالْأَرْضَ كانَتا رَتْقاً فَفَتَقْناهُما وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلا يُؤْمِنُونَ (30) (الانبیاء)" اس کے شکم یا کمر پر دم کرے یا لکھ کرباندھے تو ولادت بآسانی ہو۔(ص:88، ط:دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707100310
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن