بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ذبیحہ پر اللہ کا نام لینے میں شک ہو تو اس کے کھانے کا کیا حکم ہے؟


سوال

جس ذبیحہ کے بارے میں شک ہو کہ اس پر  اللہ کا نام لیا گیا ہے  یا نہیں لیا گیا؟ اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مسلمانوں کے ہاں سے کوئی ذبیحہ کسی شخص تک پہنچ جائے تو جب تک یقین کے ساتھ یہ معلوم نہ ہو کہ ذبح کرنے والے نے جان بوجھ کر ذبیحہ پر اللہ کا نام نہیں لیا، اس وقت تک وہ ذبیحہ شرعاً حلال شمار ہوگا، اسے حرام نہیں کہا جائے گا۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

وحديث عائشة - رضي الله تعالى عنها - دليلنا؛ لأنها سألت عن الأكل ‌عند ‌وقوع ‌الشك ‌في ‌التسمية، فذلك دليله على أنه كان معروفا عندهم أن التسمية من شرائط الحل، وإنما أمرها رسول الله صلى الله عليه وسلم بالأكل بناء على الظاهر أن المسلم لا يدع التسمية عمدا كمن اشترى لحما في سوق المسلمين يباح له التناول بناء على الظاهر، وإن كان يتوهم أنه ذبيحة مجوسي.

(كتاب الصيد، التسمية في الذبح، ج:١١، ص:٢٣٨، ط:مطبعة السعادة - مصر)

المغنی لابن قدامہ میں ہے:

"‌فإن ‌لم ‌يعلم ‌أسمى ‌الذابح ‌أم ‌لا؟ ‌أو ‌ذكر ‌اسم ‌غير ‌الله ‌أم ‌لا؟ فذبيحته حلال؛ لأن الله تعالى أباح لنا أكل ما ذبحه المسلم والكتابى، وقد علم أننا لا نقف على كل ذابح. وقد روى عن عائشة، أنهم قالوا: يا رسول الله، إن قوما حديثى عهد بشرك، يأتوننا بلحم لا ندرى أذكروا اسم الله عليه أم لم يذكروا؟ قال: "سموا أنتم، وكلوا". أخرجه البخارى."

(‌‌كتاب الصيد والذبائح، وذبيحة من أطاق الذبح من المسلمين وأهل الكتاب حلال، إذا سموا، أو نسوا التسمية، ج:١٣، ص:٣١٢، ط:دار عالم الكتب للطباعة والنشر والتوزيع، الرياض)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144707101551

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں