
میں نے ایک لڑکی سے دوسری شادی کی ،ہماری رخصتی نہیں ہوئی تھی مگر ملاپ ہوا تھا ،جب میری پہلی بیوی کے گھر والوں کو پتا چلا تو وہ مجھے جان سے مارنے کے لیے اسلحہ کے ساتھ میرے گھر آئے ،لیکن میں اس وقت کورٹ گیا تھا پروڈکشن کرنے کے لیے تو وہ وہاں میرے پاس آئے ،پھر ہمارے گھر آئے اور کہا کہ اگر سلمان نے دوسری بیوی کو طلاق نہیں دی تو ہم تمہاری دکانیں جلادیں گے ،پھر انہوں نے مجھے ایک جگہ آنے کا کہا تاکہ میں طلاق نامہ پر دستخط کروں ،لیکن میں نہیں گیا ،کیونکہ مجھے یقین تھا کہ یہ طلاق دینے کے ساتھ مجھے مارپیٹ بھی کریں گے تو وہ خود ہمارے گھر طلاق نامہ لےکر آئےجو انہوں نے خود بنوایا تھا، پھر گن پوائنٹ پر مجھے دستخط کرنے کا کہاجب میں دستخط کرنے لگا تو انہوں نے کہا کہ پہلے اس کو پڑھ کر سنادو تو میں نے پڑھ کر سنادیا یہ میں نے جان بچانے کےلیے کیا تھا مجھے یقین تھا کہ اگر میں نے نہیں سنایا تو مجھے ماردیں گے ،پھر میں نے دستخط بھی کیا ،اب سوال یہ ہے کہ اس طرح اسلحہ کے زور پر جان بچانے کے لیے میں نے طلاق دی ہے تو اس سے طلاق واقع ہوگئی ہےیا نہیں ؟
نوٹ :طلاق نامہ میں جو قلم سے لکھا گیا ہے وہ میرے دستخط کرنے کے بعد انھوں نے خود لکھا ہے۔
صورت ِ مسئولہ میں اکراہ کی مذکورہ کیفیت کے دوران اس طلاق نامہ پر دستخط کروانے سے پہلے چونکہ مذکورہ طلاق نامہ سائل سے پڑھوایا گیا ہےاگرسائل نے یہ صرف جان بچانے کےلیے حکایت کے طور پرپڑھاتھا تواس سےسائل کی بیوی پرکوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،لہٰذا دونوں کا نکاح بدستور قائم ہے۔
اگر طلاق دینے کے ارادہ سے پڑھا تھا تواس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی،اورنکاح ختم ہوجائے گا، اس صورت میں رجوع کی گنجائش نہیں رہے گی، بیوی شوہر (سائل) پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائے گی،اور دوبارہ نکاح بھی نہیں ہوسکے گا،مطلقہ اپنی عدت (پوری تین ماہواریاں اگر حمل نہیں ہے، اگرحمل ہے تو بچہ کی پیدائش تک )گزار کر دوسری جگہ شادی کر سکے گی۔
فتاوی شامی ہے:
"لو كرر مسائل الطلاق بحضرتها، أو كتب ناقلا من كتاب امرأتي طالق مع التلفظ، أو حكى يمين غيره فإنه لا يقع أصلا ما لم يقصد زوجته."
(كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، ج:3، ص:250، ط:سعید)
البحرالرائق میں ہے:
"لو كرر مسائل الطلاق بحضرة زوجته ويقول أنت طالق ولا ينوي لا تطلق، وفي متعلم يكتب ناقلا من كتاب رجل قال ثم يقف ويكتب: امرأتي طالق وكلما كتب قرن الكتابة باللفظ بقصد الحكاية لا يقع عليه وما في القنية: امرأة كتبت أنت طالق ثم قالت لزوجها: اقرأ علي فقرأ لا تطلق."
(كتاب الطلاق، باب ألفاظ الطلاق، ج:3، ص:278، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144701100917
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن