
میرے شوہر سے نکاح کے دن سے ہی مجھے نفرت ہے، میرا نکاح زبردستی ہوا، میں بار بار طلاق کا مطالبہ کرتی رہی مگر شوہر طلاق نہیں دیتا، اور مجھے اس کی شکل دیکھنا بھی پسند نہیں، تو اس صورت میں شرعاً میرا کیا حکم ہے اور مجھے کیا کرنا چاہیے؟
والدین یاسرپرست کے لیے حکم ہے کہ وہ شادی کراتے وقت اولاد کے جذبات اور ترجیحات کا خیال رکھیں، نیز اولاد کوبھی چاہیے کہ وہ اپنی خواہش والدین یاسرپرست کے سامنے پیش کر کے ان کی صواب دید کو ترجیح دے؛ کیوں کہ زمانے کے سرد وگرم کو چکھ لینے کی بنا پر ان کا تجربہ بھی زیادہ ہے اور اولاد کے لیے دل میں شفقت کا مادہ بھی ہوتا ہے، اگر والدین کسی نامناسب جگہ رشتہ کردیں اور اولاد خواہش کے خلاف ہونے کے باوجود بھی نبھالے تو ان شاء اللہ دنیا وآخرت کی سعادتیں ان کا مقدر ہوں گی، لیکن ایسی صورت میں اولاد کو شریعت نے انکار کا حق بھی دیا ہے، صورت مسئولہ میں آپ نے جب انکار کیا تھا تو والدین یاسرپرست کو جبر کا حق نہیں تھا، تاہم اس کے باوجود نکاح منعقد ہوچکاہے، بہر صورت اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ ، آپ کے والدین یاسرپرست اور خاندان کے بڑے مل بیٹھ کر اور باہمی مشاورت سے کوئی بہتر صورت نکالیں، ورنہ زندگی بھر کی بے چینی اور نااتفاقی رہتی ہے، جس سے گھر کا سکون غارت ہوجاتا ہے۔
بہر حال آپ درج ذیل دعاؤں میں سے کوئی ایک یا سب دعائیں کرتی رہیں، ان شاء اللہ آپ کے لیے بہتری کی صورت نکل آئے گی:
1- "اَللّٰهُمَّ خِرْ ليْ وَاخْتَرْ لِيْ"․ (کنز العمال)
اے اللہ ! میرے لیے آپ پسندفرمادیجیے کہ مجھے کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے.
2- "اَللّٰهُمَّ اهْدِنِيْ وَسَدِّدْنِيْ"․(صحیح مسلم)
اے اللہ ! میری صحیح ہدایت فرمائیے اور مجھے سیدھے راستے پر رکھیے۔
3- "اَللّٰهُمَّ أَلْهِمْنِيْ رُشْدِيْ، وَأَعِذْنِيْ مِنْ شَرِّ نَفْسِيْ"․ (ترمذی)
اے اللہ ! جو صحیح راستہ ہے وہ میرے دل پر القا فرمادیجیے، اور مجھے اپنے نفس کے شر سے بچائیے۔
ان دعاؤں میں سے جو دعا یاد آجائے اس کو اسی وقت پڑھ لے ، اور اگر عربی میں دعایاد نہ آئے تو اردو ہی میں دعا کر لے کہ اے اللہ !مجھے یہ کشمکش پیش آئی ہے ،آپ مجھے صحیح راستہ دکھا دیجیے ، اگر زبان سے نہ کہہ سکے تو دل ہی دل میں اللہ تعالی سے کہہ دے کہ یا اللہ ! یہ مشکل اور یہ پریشانی پیش آگئی ہے ، آپ صحیح راستے پر ڈال دیجیے جو راستہ آپ کی رضا کے مطابق ہو اور جس میں میرے لیے خیر ہو۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100688
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن