
اگر قربانی کے جانور کو کلوروفارم یا کسی اور دوا سے بےہوش کرکے ذبح کیا جائے، تو کیا اس میں کسی قسم کی شرعی قباحت ہے؟
ذبح سے پہلے جانور کو بےہوش کرکے پھر ذبح کرنا شریعت مطہرہ میں ناجائز اور مکروہ عمل ہے، شریعت کے اصولوں کے خلاف ہے، جس میں جانور کےحرام ہوجانے کا اندیشہ ہے؛کیونکہ ہوسکتاہے کہ جانور اسی بےہوشی کی وجہ سے مر جائے۔
امداد الاحکام میں ہے:
السوال:
"کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرح متین اس مسئلہ میں کہ غیر قوموں کو مسلمانوں پر ایک بڑا اعتراض گاؤ کُشی، نیز دیگر حلال جانوروں کے متعلق ہے کہ اس کے ذبح میں بلاوجہ ایک جاندار کی ایذا اور تکلیف ہوتی ہے، جو انسانی اخلاق کے خلاف ہے تو کیا اگر اس کے دفعیہ کے لیے اگر کوئی صورت نکالیں اور جانوروں کو کسی دوا وغیرہ سے بے ہوش کرکے ذبح کریں تو آیا جانور کو کسی بے ہوشی لانے والی دوا سے بے ہوش کرنا اور بے ہوشی کی حالت میں ذبح کیا ہوا جانور حلال ہے یا نہیں؟ مدلّل جواب باصواب تحریر کریں۔"
الجواب:
"غیرقوموں کا یہ اعتراض بالکل غلط ہے۔ تجربہ اور اقوالِ اطبّاء اس پر شاہد ہیں کہ ذبح میں جانور کو بنسبت جان کی بدون ذبح کے بہت کم تکلیف ہوتی ہے۔ دوسرے یہ کہ غیر قوم ذرا ذرا سی بات پر انسان کو قتل سے تو روکتے نہیں اور جانور پر اتنا رحم! یہ کون سا قاعدہ ہے۔ پس مخالفین کے اعتراض سے متاثر ہونا اور اس سے متاثر ہوکر جانور کو ذبح سے پہلے بے ہوش کرنا جائز نہیں۔ یہ جواب تو اس صورت میں ہے جب کہ جانور کو دوا سونگھا کر بے ہوش کیا جائے اور اگر کھانے پینے کی دوا دے کر بے ہوش کیا جاوے تو اس میں دو گناہ ہیں: ایک تأثر من اعتراض المخالفین کا گناہ، دوسرے جانور کو مسکر و مضر کے کھلانے پلانے کا گناہ۔ "
قال في الدر: "و حرم الانتفاع بھا ولو سقی بھا دوابّ إلی أن قال: ویحرم أکل النبج والحشیشة والأفیون۔ اھ أي القدر المسکر منها."(ج، 5، ص، 463)
"اور اگر بے ہوش کرکے کسی نے ذبح کردیا تو ذبیحہ حلال ہوگا، جب کہ شرائطِ ذبح بتمامہا موجود ہوں، مگر کراہت سے خالی نہيں اور اس کا گوشت کھانا جائز ہوگا۔ لیکن ایسے بے ہوش کردہ گائے یا بکری وغیرہ ذبح کرنے سے قربانی کے ادا اور صحیح ہونے میں تامل ہے۔"
(امداد الاحكام 4/ 229)
امداد الفتاویٰ میں ہے:
سوال: جو جانور ذبح کئے جاتے ہیں ان جانوروں کو ذبح کی تکلیف نہ ہونے کی خاطر ایک بار یک سوئی کی طرح تیز بار یک چیز کو پیشانی کے سامنے کی رگ پر چبھودیا جاتا ہے، چبھونے کے ساتھ ہی وہ جانور مست و مدہوش ہوتا ہے، پھر اس کو ذبح کریں تو جانور کو کوئی تکلیف نہیں ہوتی اور تھوڑی دیر میں خون سارے بدن کا نکل جاتا ہے، آیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہ؟
الجواب : دوامر قابل تنقیح ہیں: ایک یہ کہ اس سوئی چبھونے سے جانور کوکتنی اذیت ہوتی ہے؟ دوسرے یہ کہ اس سوئی چبھونے سے جانور کے گوشت میں تو کسی قسم کا اثر نہیں پہننچتا؟
جواب تنقيح : جو جانور ذبح کئے جاتے ہیں ان جانوروں کی ذبح کی تکلیف محسوس نہ ہونےکی خاطر ایک باریک سوئی کی طرح کی تیز بار یک چیز کو پیشانی کے سامنے کی رگ پر چبھو دیا جاتا ہے، اس چبھونے سے جانور کے گوشت میں کسی قسم کا اثر پہنچتا ہی نہیں ہے، اس چبھونے سے جانور کو اذیت نہیں ہوتی ، صرف وہ مست و مدہوش ہو جاتا ہے، سانس چلتی رہتی ہے، اور تھوڑی دیر میں سارے بدن کا خون نکل جاتا ہے، آیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہ؟
تنقیح: کیا ان روایات کا ماخذ کسی ماہر کا قول ہے؟
جواب تنقیح: خاکسار نے جو کچھ عرض کیا ہے اس کا تجربہ ماہر ڈاکٹروں نے کیا ہے اور ان کا مشاهده ہے، اور اس کو ہمارے معتبر احباب نے بچشم خود دیکھا ہے۔
الجواب: اگر یہ دونوں دعوے تجربہ سے صحيح بھی مان لئے جائیں تب بھی اس میں کچھ کلام باقی رہ جاتا هے، بعض تو میرے قدیم فتوے میں مذکور ہے جس کا بالکل اخیر حصہ یعنی اعتقاد ترجیح غیر منقول علی منقول کا قبح خاص طور پر قابل نظر ہے، (یه فتوی مرقومہ 17 ربیع الثانی 1335ھ حوادث الفتاویٰ حصہ پنجم صفحه 5 پر مذکور ہے ) اور بعض اس موقع پر ذکر کرتا ہوں ، وہ یہ کہ شریعت نے جو ذبح کو حلال ہونے کی شرط ٹھہرائی ہے اس کی علت جیسا کہ نصوص سے واضح ہے یہ ہے کہ خون سائل ذبیحہ کے بدن سے خارج ہو جاوے (۱) اور قواعد سائنس سے اس کا قوی احتمال ہے، کہ جانور کی طبیعت اس کے ہوش کی حالت میں قوی ہوتی ہے، اور بے ہوشی جس درجہ کی ہوگی ، اسی قدر طبیعت اُس کی ضعیف ہوگی ، اور خون کا خارج کرنا یہ فعل طبیعت کا ہے پس جس قدر طبیعت میں قوت ہوگی خون زیادہ خارج ہوگا، اور جس قدر طبیعت میں ضعف ہوگا خون کم خارج ہوگا ، پس قصد ا طبیعت کو ضعیف کرنا قصد اخون کو کم نکلنے دینے کا اہتمام کرنا ہے جو صریح مزاحمت ہے مقصود شارع کی، یہ تو شرعی محذور ہے، اور خون بدن میں کافی موجود ہونے کے بعد جب کم نکلے گا تو وہ گوشت ہی میں متشرب ہو گا، جب خنق و غیرہ سے پورا خون متشرب ہو نالحم کے خواص مطلوبہ طب نبویﷺ کا مفوِّت ہے، تو کچھ متشرب ہونا ان خواص کا منقِّص ہے یہ طبی محذور ہو گا۔ اور اگر کسی صورت میں تقلیل خروج دم بلا تد بیر اختیاری ہو اس میں مکلف معذور ہے اس سے حرمت یا کراہت کا حکم نہ کیا جاوے گا (1) ان مجموعه وجوہ مذکورہ فتوی سابقہ وفتویٰ ھٰذا کا مقتضا یہ ثابت ہوا کہ یہ فعل جائز نہیں (۲)۔
(ج:3، ص: 607، ط: دارالعلوم کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100066
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن