
ایک شخص جس سے زنا یا دواعی زنا کا ارتکاب ہوچکا ہو تو اب وہ اپنی اولاد میں سے کسی کا نکاح مزنیہ کی اولاد کے ساتھ کرانا چاہتا ہے تو شرعاً یہ نکاح درست ہوگیا یا نہیں؟
اگر زانی اور مزنیہ بہن بھائی ہوں تو بھی ان کے فروع کا آپس میں ایک دوسرے سے نکاح ہو سکتا ہے یا نہیں؟
زنا یا دواعی زنا( مثلًا: عورت کو شہوت کے ساتھ کسی حائل کے بغیر چھونے یا بوسہ لینے سے) حرمتِ مصاہرت ثابت ہوجاتی ہے، یعنی اس عورت کے اصول (ماں ،دادی وغیرہ) اورفروع (بیٹی پوتی غیرہ)، مرد پر حرام ہوجائیں گے اور اس مرد کے اصول ( باپ ، دادا وغیرہ )اورفروع (بیٹا ، پوتا وغیرہ) ، عورت پر حرام ہوجائیں گے۔لیکن ان دونوں کے اصول وفروع آپس میں ایک دوسرے پر حرام نہیں ہوں گے؛ اس لیے وہ مرد اورعورت جنہوں نے باہم زنا کیاہو، ان کی اولاد کاآپس میں نکاح ہوسکتا ہے، تاہم زنا کرنے والے مرد اور عورت کو اپنے گناہ پر سچے دل سے توبہ و استغفار کرنا لازم ہوگا،اور محارم کے ساتھ اس طرح کے افعال کا ارتکاب مزید سخت جرم اور شناعت کا باعث ہے ، اس پر صدق دل سے توبہ واستغفار لازم ہے اور آئندہ تنہائی میں ملاقات یا بے محابا تعلق و رابطے سے اجتناب ضروری ہے۔
البحر الرائق میں ہے:
"(قوله والزنا واللمس والنظر بشهوة يوجب حرمة المصاهرة)... وأراد بحرمة المصاهرة الحرمات الأربع: حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها".
(كتاب النكاح، فصل في المحرمات3/ 108 - 105، ط:دار الكتاب الإسلامي)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"فمن زنى بامرأة حرمت عليه أمها وإن علت وابنتها وإن سفلت، وكذا تحرم المزني بها على آباء الزاني وأجداده وإن علوا وأبنائه وإن سفلوا، كذا في فتح القدير".
(كتاب النكاح، الباب الثالث في بيان المحرمات، القسم الثاني المحرمات بالصهرية، 1/ 274، ط: رشيدية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100977
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن