بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

یوٹیوب چینل پر خاکوں کی صورت میں تفسیر و تاریخ پیش کرنے کا حکم


سوال

ایک ہندوستانی یوٹیوب چینل ہے، جو قرآنِ کریم کی تفسیر، سیرتِ نبوی ﷺ اور دیگر اسلامی واقعات کو گرافک پریزنٹیشن( پیشکش ) اور اینیمیٹڈ( مثلاً فلمی کاٹون  کے) انداز میں پیش کرتا ہے۔ ان ویڈیوز میں کرداروں کو AI (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کی مدد سے بنایا گیا ہے، مثلاً ابو لہب وغیرہ کے خاکے اور مناظر دکھائے جاتے ہیں۔

میرا سوال یہ ہے کہ: کیا اس قسم کی ویڈیوز دیکھنا شرعاً جائز ہے؟ کیا ان میں کرداروں کی AI سے بنائی گئی تصاویر یا خاکے دکھانا جائز ہے؟ کیا ایسی ویڈیوز دیکھنے سے کوئی گناہ ہوگا؟ اگر ان میں انبیاء کرام علیہم السلام یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی براہِ راست تصویر کشی نہ ہو بلکہ صرف دیگر کردار دکھائے جائیں تو کیا حکم مختلف ہوگا؟ براہِ کرم رہنمائی فرما دیں تاکہ ہم دین کے معاملے میں احتیاط کے ساتھ عمل کر سکیں۔ 

جواب

شریعتِ مطہرہ میں جان دار کی تصویر بنانامطلقاً حرام ہے خواہ وہ تصویر (فوٹو) کی صورت میں ہو یا ویڈیو اور فلم کی شکل میں، کیوں کہ  ویڈیو یا فلم بھی تصویر سے بنتی ہے،اور یہ بھی تصویر ہی کے حکم میں ہے اور احادیث شریفہ میں جاندار کی تصاویر بنانے کے بارے میں بہت سی وعیدیں  وارد ہوئی ہیں، چناں چہ ایک  روایت میں ہے کہ قیامت کے دن سب سے زیادہ سخت عذاب تصویر بنانے والوں کو ہوگا،  لہذا  جان دار  کی تصویر پر مشتمل ویڈیو اور فلم بنانا ( اگر چہ وہ  کسی بھی انسان یا جاندار کے خاکوں کی صورت میں بنائی گئی ہو )  ایسی ویڈیوز اور فلمیں دیکھنا جائز نہیں ہے، بالخصوص جب وہ تصاویر    انبیاء کرام  علیہم السلام  جیسی مقدس اور معزز ہستیوں کی طرف منسوب  ہوں تو ( اگرچہ براہ راست ان کی تصاویر نہ ہوں، اور کوئی خاکہ بنا کر ان کا کوئی کردار دکھایا گیا ہو ، اس میں بھی )  ان کی حرمت میں مزید شدت آجاتی ہے،نیز اس طرح کی فلموں میں حقائق کے خلاف بہت سی باتیں بیان کی جاتی ہیں،ان  موسیقی بھی  ہوسکتی ہے،مرد و ز کا اختلاط دکھایا جاتا ہے، لہذا انبیاء علیہم السلام کے کرداروں پر مشتمل اے آئی سے بنائی گئی تصاویر یا خاکے بنانا، دکھانا اور انہیں دیکھنا باعثِ گناہ ہے،  اور   یہ ناجائز عمل خواہ نیک نیتی (یعنی دین پھیلانے کی غرض)  ہی سے کیوں نہ ہو، بہرصورت ناجائز ہی رہے گا۔ 

واضح  رہے کہ لوگوں کو اللہ تعالی کے اوامر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات کی طرف بلانا اور ان کو اللہ تعالی اور اس کے رسول کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لیے تیار کرنا امت کے مسلمانوں پر (فرض کفایہ کے طور پر) ضروری ہے، تاہم یہ ضرورت اور لزوم استطاعت اور  قدرت کے ساتھ مقید ہےاور   ہر مسلمان بلکہ ہر عالم شریعت کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق  حسب استطاعت تبلیغ ، اصلاح  اور شبہات کا دفع کرنے کامکلف ہے ، خود کو معاصی اور گناہوں میں مبتلا کرکے دین کی دعوت یا شکوک وشبہات دفع کرنے  کا مکلف نہیں، اس بارے  میں محدث العصر حضرت مولانا محمدیوسف بنوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :

” ہم لوگ (مسلمان) اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ جس طرح بھی ممکن ہو لوگوں کو پکا مسلمان بناکر چھوڑیں گے، ہاں! اس بات کے مکلف ضرور ہیں کہ تبلیغِ دین کے لیے جتنے جائز ذرائع اور وسائل ہمارے بس میں ہیں، ان کو اختیار کرکے اپنی پوری کوشش صرف کردیں، اسلام نے جہاں ہمیں تبلیغ کا حکم دیا ہے، وہاں تبلیغ کے باوقار طریقے اور آداب بھی بتائے ہیں، ہم ان آداب اور طریقوں کے دائرے میں رہ کر تبلیغ کے مکلف ہیں، اگر ان جائز ذرائع اور تبلیغ کے ان آداب کے ساتھ ہم اپنی تبلیغی کوششوں میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ عین مراد ہے، لیکن اگر بالفرض ان جائز ذرائع سے ہمیں مکمل کامیابی حاصل نہیں ہوتی تو ہم اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ ناجائز ذرائع اختیار کرکے لوگوں کو دین کی دعوت دیں اور تبلیغ کے آداب کو پسِ پشت ڈال کر جس جائز وناجائز طریقے سے ممکن ہو، لوگوں کو اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش کریں، اگر جائز وسائل کے ذریعے اور آدابِ تبلیغ کے ساتھ ہم ایک شخص کو دین کا پابند بنادیں گے تو ہماری تبلیغ کامیاب ہے اور اگر ناجائز ذرائع اختیار کرکے ہم سو آدمیوں کو بھی اپنا ہم نوا بنالیں تو اس کامیابی کی اللہ کے یہاں کوئی قیمت نہیں، کیوں کہ دین کے احکام کو پامال کر کے جو تبلیغ کی جائے گی وہ دین کی نہیں کسی اور چیز کی تبلیغ ہوگی۔“

( از محدث العصر  مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ،بحوالہ نقوشِ رفتگاں، ص:104ط: مکتبۂ معارف القرآن) 

خلاصہ یہ ہے کہ لوگوں کو دین سکھانا اور ان کی دینی تربیت کرنا ضروری ہے، لیکن دین سیکھنے اور سکھانے  کے لیے جائز طریقہ کا انتخاب اس سے بھی زیادہ ضروری ہے،رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دور میں اس کا امکان تھا کہ اسلام کے بعض اعمال جیسے ’’نماز‘‘ کی کیفیات انسانی ڈھانچے بناکر، رکوع و سجود اور قیام و قعود کی ہیئات لوگوں کو سکھائی جاتیں، کیوں کہ ہاتھ سے کاغذ وغیرہ پر تصویر بنانے کا فن ہزاروں سال پہلے سے چلا آرہا ہے، اور اس دور میں بھی مصورین موجود تھے، اس کے باوجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ایسی مثالیں نہیں ملتیں کہ انہوں نے مفتوحہ علاقوں میں نو مسلموں  کو تصاویر بناکر تعلیم دی ہو، بلکہ وہ تو جان دار کی تصویر بنانے والوں کو وعیدیں سناتے ہوئے نظر آتے ہیں اور وہاں تو رسول اللہ ﷺ کا سکھایا ہوا اسلوبِ تعلیم و تربیت یہ تھا: ’’صلّوا کما رأیتموني أصلي‘‘  ترجمہ:اس طرح نماز پڑھو جیساکہ تم مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھ رہے ہو۔

 چناں چہ لوگوں کی اصلاح و تربیت ایسے طریقہ سے کرناکہ وہ طریقہ خود ہی ناجائز ہو   شرعًا درست نہیں ہے، لوگوں کی اصلاح و تربیت کے لیے جائز طریقے ( مثلاًانبیاء علیہم السلام کے قصے، تذکرے اور واقعات کی زبانی و تحریری تشہیر کرنا) ہی اختیار کرنے چاہیے۔ 

حدیث شریف میں ہے:

"عن نافع: أن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما أخبره: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: (إن الذين يصنعون هذه الصور يعذبون يوم القيامة، يقال لهم: أحيوا ما خلقتم."

(صحيح البخاري: كتاب اللباس، باب عذاب المصورين يوم القيامة، رقم:5607 ،ج:5،ص:2220، ط: دار ابن كثير)

حدیث شریف میں ہے:

"وعن عبد الله بن مسعود قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: «أشد الناس عذابا عند الله المصورون»."

(مشکاۃ المصابیح: کتاب اللباس، باب التصاویر،رقم:4497, ج:2،ص:1247،ط:المکتب الاسلامی)

البحر الرائق میں ہے:

"وظاهر ‌كلام ‌النووي ‌في ‌شرح ‌مسلم ‌الإجماع ‌على ‌تحريم ‌تصويره صورة الحيوان وأنه قال قال أصحابنا وغيرهم من العلماء تصوير صور الحيوان حرام شديد التحريم وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث."

(کتاب الصلاۃ،باب ما يفسد الصلاة وما يكره فيها،ج:2،ص:2،ط:دار الکتب الاسلامی)

بلوغ القصدوالمرام میں ہے:

"يحرم تصوير حيوان عاقل أو غيره إذا كان كامل الأعضاء، إذا كان يدوم، وكذا إن لم يدم على الراجح كتصويره من نحو قشر بطيخ. ويحرم النظر إليه؛ إذا النظر إلى المحرم لَحرام".

 (جواہر الفقہ، تصویر کے شرعی احکام: ۷/264-265، از: بلوغ  القصد والمرام، ط: مکتبہ دار العلوم کراچی)

تفسیر قرطبی میں ہے:

"فجعل ‌تعالى ‌الأمر ‌بالمعروف والنهي عن المنكر فرقا بين المؤمنين والمنافقين، فدل على أن أخص أوصاف المؤمن الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر، ورأسها الدعاء إلى الإسلام والقتال عليه. ثم إن الأمر بالمعروف لا يليق بكل أحد، وإنما يقوم به السلطان إذ كانت إقامة الحدود إليه، والتعزيز إلى رأيه، والحبس والإطلاق له، والنفي والتغريب، فينصب في كل بلدة رجلا صالحا قويا عالما أمينا ويأمره بذلك، ويمضي الحدود على وجهها من غير زيادة... قال: ‌والأحاديث عن النبي صلى الله عليه وسلم في تأكيد الأمر بالمعروف ‌والنهي عن المنكر كثيرة جدا ولكنها مقيدة بالاستطاعة ۔۔۔قلت: ‌القول ‌الأول ‌أصح، فإنه يدل على أن الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر فرض على الكفاية."

(سورہ آل عمران، ج:4، ص:48۔165، ط: دار الکتب المصری)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101331

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں