بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

یہ سیٹ تمہارا ہے لے جاؤکہنے کے بعد موہوب لہ کا وہ سیٹ امانت رکھوانے سے ہبہ کا حکم


سوال

میری ساس کا انتقال 27 مئی 2025 کو ہوا تھا، ان کے ما شاء اللہ چھ بچے ہیں، پانچ بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ میری ساس نے اپنے دو بڑے بیٹوں اور ایک بیٹی کو ان کے بچوں کی شادی کے وقت سونے کے سیٹ تحفے میں دیئے، اور جن بیٹوں کے بچوں کی شادی نہیں ہوئی تھی ان کی والدہ کو دے کر کہا کہ ’’یہ تمہارے بچوں کا حق ہے اور تم نے استعمال نہیں کرنا‘‘۔ اسی طرح انہوں نے مجھ سے بھی کہا کہ ’’تم اپنا سیٹ لے کر جاؤ‘‘۔ چوں کہ وہ سیٹ میں نے اپنی ساس کو متعدد بار پہنتے دیکھا تھا اس لیے میں نے اس سیٹ کو دوبارہ دیکھا بھی نہیں، اور الماری سے نکالے بغیر ہی ان کے پاس حفاظت کے لیے بطورِ امانت رکھوا دیا، اور کہا کہ وقت آنے پر لے لوں گی۔ انہوں نے تقریباً سب بھابھیوں کو اور دیور کو آگاہ کردیا تھا کہ ’’فلاں لے نہیں گئی، میرے ہی پاس امانت ہے‘‘ اور مطمئن ہوگئیں۔

اس دوران ایک شادی میں انہوں نے وہ سیٹ پہنا اور مجھ سے کہا کہ ’’دیکھو میں نے تمہاری چیزیں پہنی ہیں‘‘، میں نے اخلاقاً ان کا دل رکھنے کے لیے کہا کہ امی، آپ کی چیز ہے، آپ کے پاس ہے، آپ جب دل چاہے پہن لیں، کوئی بات نہیں۔ ان کے دل میں امانت کا خیال تھا اس لیے انہوں نے مجھ سے اس طرح کہا کہ امانت میں خیانت نہ ہوجائے۔ انتقال کے بعد الماری سے سیٹ نکلا ہے اور دیور (جس کے ساتھ وہ رہتی تھیں) کے کہنے کے مطابق اس کے ساتھ کوئی تحریر نہیں نکلی (ڈبہ ورثاء کے سامنے نہیں کھولا گیا تھا)۔

اب سوال یہ ہے کہ میرا اس طرح ان کے پاس امانت رکھوانا میری ملکیت ثابت کرتا ہے یا نہیں؟

سب اس پر گواہ ہیں کہ امی نے دیا تھا، میں نے امانت رکھوائی ہے، لیکن صرف ہاتھ نہیں لگایا۔ چونکہ امی ہمارے مالی حالات جانتی تھیں اس لیے وقتاً فوقتاً ہماری مدد بھی کرتی رہتی تھیں، اس لیے زکات کا پوچھنے پر انہوں نے کہا کہ ابھی میں نے پہنا ہے اس لیے میں نے دے دی۔

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی شخص کسی  کو اپنی زندگی میں کوئی چیز دے تو اس کی حیثیت ہبہ(گفٹ )کی ہوتی ہے،اور ہبہ کے تام ہونے کےلیے ضروری ہے کہ موہوب لہ(جس کو ہبہ کیا جارہاہے)اس چیز پر واہب (ہبہ کرنے والے )کی زندگی میں ہی قبضہ کرلے،پھر قبضہ کبھی  اس چیز کو اپنے ہاتھ میں لینے کے ساتھ متحقق ہوتاہے،اور کبھی تخلیہ(واہب ہر اس رکاوٹ کو ختم کردے جس کی وجہ سے موہوب لہ کےلیے موہوب بہ پر قبضہ کرنا ممکن ہوجائے)سے متحقق ہوتاہے۔

صورت مسئولہ میں سائلہ  کی ساس نے اسے سیٹ دیتے ہوئے اسے  کہا تھا کہ " تم  اپنا سیٹ لے کر جاؤ "اورقبضہ کےلیے کوئی رکاوٹ  ان کی طرف سے نہیں تھی،اور سائلہ نے وہ سیٹ في الوقت  لینے کے بجائے انہی کے پاس  بطور امانت کے رکھوادیا، اور کہا کہ وقت آنے پر لے لوں گی،جس کا سائلہ کی ساس سب کے سامنے  مختلف مواقع پر اقرار بھی کرتی رہیں کہ" فلاں  لے نہیں گئی ہے، میرے ہی پاس امانت  ہے"  اسی طرح کہا کہ " دیکھو میں نے تمہاری ہی چیز پہنی ہے"

تو اس صورت میں ہبہ تام ہوگیا ، اور مذکورہ سیٹ  پر سائلہ کی ملکیت  ثابت ہوگئی تھی،  لہذا مذکورہ سیٹ  ساس مرحومہ کے ترکہ میں شامل نہیں ہوگا، سائلہ تنہا اس سیٹ کے مالک ہوگی، اس سیٹ میں مرحومہ  کے ورثاء کا کوئی  حق نہیں ہوگا۔

بہشتی زیور میں ہے:

قبضہ کرنے کی مختلف صورتیں

"مسئلہ (۲) تم نے وہی دی ہوئی چیز اس کے سامنے اس طرح رکھ دی کہ اگر وہ اٹھانا چاہے تو لے سکے اور کہہ دیا کہ لو اس کو لے لو تو اس کے  پاس رکھ دینے سے بھی وہ مالک بن گیا ، ایسا سمجھیں گے کہ اس نے اٹھا لیا اور قبضہ کر لیا۔"

(کتاب الھبۃ،ص:503،ط:بیت العلم ٹرسٹ)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، «وإن شاغلا لا، فلو وهب جرابا فيه طعام الواهب أو دارا فيها متاعه، أو دابة عليها سرجه وسلمها كذلك لا تصح وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط لأن كلا منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به لأن شغله بغير ملك واهبه لا يمنع تمامها كرهن وصدقة لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية."

(كتاب الهبة،ج:5، ص:691،ط:سعيد)

بدائع الصنائع میں ہے:

"(وأما) تفسير التسليم، والقبض فالتسليم، والقبض عندنا هو ‌التخلية، والتخلي وهو أن يخلي البائع بين المبيع وبين المشتري برفع الحائل بينهما على وجه يتمكن المشتري من التصرف فيه فيجعل البائع مسلما للمبيع، والمشتري قابضا له."

(‌‌فصل في حكم البيع، ج:5، ص:244، ط: رشيدية)

وفيه ايضا:

"ثم لا خلاف بين أصحابنا في أن أصل القبض يحصل بالتخلية ‌في ‌سائر ‌الأموال."

(‌‌فصل في حكم البيع، ج:5، ص:244، ط: رشيدية)

فیض الباری شرح صحیح البخاری میں ہے:

"وبالجملة ‌إن ‌القبض ‌في ‌البيع ‌والهبة والرهن يتحقق عندنا بالتخلية، والمكنة على القبض، ولا يحتاج إلى القبض الحسي والنقل."

(باب شراء الدواب والحمير، ج: 3، ص: 419، ط: دار الكتب العلمية بيروت - لبنان)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101373

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں