
گزارش ہے کہ میرے مرحوم فرزند کے دو نابالغ بچے ہیں ، ایک بچی کی عمر تقریباً 9 سال ہے، اور دوسرے بچے کی عمر تقریباً 3 سال ہے، بچی کی والدہ دوسرا نکاح ایک غیر محرم شخص سے کرنے جا رہی ہیں، نکاح کے بعد بچے بھی والدہ کے ساتھ سوتیلے والد کے گھر میں مقیم ہوں گے،بچوں کے حصے میں وراثت میں نقد رقم اور دیگر اثاثہ جات بھی آئے ہیں۔ موجودہ حالات کے پیش نظر بچوں کی عزت، جان، تربیت اور مال کے تحفظ کا معاملہ نہایت اہم ہے،لہٰذا درج ذیل امور میں قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں مفصل شرعی رہنمائی درکار ہے:
1. کفالت اور رہائش:
9 سال کی نابالغہ بچی کا اپنی والدہ اور ایک غیر محرم سوتیلے والد کے ساتھ ایک گھر میں رہنا شرعاً کس حد تک مناسب ہے؟ کیا شریعت بچی کی حفاظت کے پیش نظر والدہ سے کفالت کا حق ساقط کر کے اسے دادا یا دیگر محرم رشتہ داروں کے سپرد کرنے کا حکم دیتی ہے؟
2. مالی اختیارات:
نابالغ بچوں کے وراثتی اثاثوں اور نقد رقم کے انتظام و انفاق کا شرعی اختیار کس کو حاصل ہے؟ کیا والدہ کو اس میں کوئی اختیار ہے، یا یہ مکمل طور پر دادا یعنی مرحوم کے والد بطور ولی مال کے دائرہ اختیار میں ہے؟
3. نفقہ کی ذمہ داری:
بچوں کی تربیت، تعلیم، علاج اور نفقہ کی بنیادی شرعی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ کیا بچوں کے وراثتی مال سے ان کے گھریلو اخراجات میں حصہ لینا جائز ہے؟ اگر جائز ہے تو اس کی شرعی حدود کیا ہوں گی؟
4. ولایت اور اگلا وصی:
خدانخواستہ اگر موجودہ دادا یعنی ولی کا انتقال ہو جائے اور بچے ابھی نابالغ ہوں، تو شرعاً بچوں کی ولایت اور وصایت کا حق کس کو منتقل ہوگا؟
5. بیرون ملک ہجرت:
کیا ولی کو شرعاً یہ حق حاصل ہے کہ وہ بچوں کے دین، عزت، اخلاق اور تربیت کے تحفظ کی خاطر ان کی بیرون ملک منتقلی کو روک سکے، اگر اس کی رائے میں یہ اقدام بچوں کے مفاد کے خلاف ہو؟
6. زکوٰۃ کا حکم:
کیا ان نابالغ ورثاء کو وراثت میں ملنے والے اثاثوں اور نقد رقم پر زکوٰۃ فرض ہے؟ اگر فرض ہے تو زکوٰۃ کی ادائیگی کی ذمہ داری کس پر ہوگی اور کن شرائط کے ساتھ ادا کی جائے گی؟
7. سوشل سیکیورٹی کے سرائیورز بینیفٹ کا شرعی انتظام:
مرحوم کے دونوں نابالغ بچوں کو امریکہ کی سوشل سیکیورٹی سے Survivors Benefit ملتا ہے۔ یہ رقم بچوں کے نام سے والدہ کے اکاؤنٹ میں آتی ہے اور والدہ بطور Representative Payee اسے وصول کرتی ہے۔
اس سلسلے میں دریافت طلب ہے کہ شرعاً ان مالی فوائد کا کنٹرول اور انتظام کس کی ذمہ داری ہے؟ اس رقم کو بچوں کے نفقہ پر خرچ کرنے کی شرعی حدود کیا ہیں؟ اور کیا اس میں سے گھر کے عمومی اخراجات میں حصہ ڈالنا جائز ہے؟
براہِ کرم ان تمام نکات پر قرآن و سنت اور فقہ کی روشنی میں تحریری جواب عنایت فرمائیں تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کے احکامات کے مطابق بچوں کے حقوق اور حفاظت کو یقینی بنا سکیں۔
1:میاں بیوی کے درمیان جدائی کے بعد بچی کی عمر نو سال اور بچے کی عمر سات سال ہونے تک پرورش کا حق والدہ کو حاصل ہوتا ہے، اس کے بعد والد یا جو بچے کا ولی ہو اسے بچے کو لینے کا اختیار ہوتا ہے۔
مسئولہ صورت میں دادا نو سالہ بچی کا زیادہ حقدار ہے کہ بچی اس کے پاس رہے تاکہ اس کی شادی ہونے تک اس کی پاکدامنی اور عفت کی حفاظت ہوسکے،تاہم بچہ ابھی چونکہ سات سال سے چھوٹا ہے اور والدہ بچے کےنامحرم سے شادی کرلےتو بچے کی پرورش کا حق نانی کو حاصل ہوگا، والدہ سے بچے کو لے کر نانی کے حوالے کردیا جائے گا، تاہم اگر نانی موجود نہ ہو تو بچے کی پرورش کا حق دادی کو ہوگا۔
2/ 4:کسی بھی بچے کے باپ کے انتقال کے بعد اُس کے مالی معاملات کا ذمہ دار وہ شخص ہوتا ہے جس کو باپ نے انتقال سے پہلے مقرر کیا ہو، اسے اصطلاح میں ’’وصی‘‘ کہتے ہیں، اگر ایسا کوئی ’’وصی‘‘ مقرر نہ کیا ہو تو بچے کا ولی اس کا دادا ہوتا ہے، لہذا صورت مسئولہ میں بچوں کے مال کی حفاظت اور اس کی ذمہ داری دادا کی ہے،دادا اپنی زندگی میں جس کو بچوں کا وصی مقرر کریں گے، وہ دادا کی وفات کے بعد بچوں کا نگران ووصی ہوگا۔
3: بچوں کے نان و نفقہ کی ذمہ داری دادا کی ہے۔
5:چونکہ دادا بچوں کا ولی ہے؛ لہذا اسے بچوں پر مکمل اختیارات ہے، وہ بچوں کو بیرون ملک منتقلی سے روک سکتا ہے۔
6: بچے چونکہ نابالغ ہیں؛ لہذا ان کو والد کے ترکہ سے جو کچھ ملے گا اس میں زکاۃ لازم نہیں ہوگی۔
7:بچوں کو ملنے والا فنڈبچوں کی امانت ہے اوراس میں تصرف کا اختیار صرف دادا کو ہے، دادا اس فنڈ سے بچوں پر خرچ کرسکتا ہے، لیکن اس رقم کو اپنے ذاتی استعمال میں اورگھر کے عمومی اخراجات میں لانا درست نہیں۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(ثم) أي بعد الأم بأن ماتت، أو لم تقبل أو أسقطت حقها أو تزوجت بأجنبي (أم الأم) وإن علت عند عدم أهلية القربى (ثم أم الأب وإن علت) بالشرط المذكور."
(كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج: 3، ص: 562 ، ط: سعید)
وفیہ ایضاً:
"الولاية في مال الصغير للأب ثم وصيه ثم وصي وصيه ولو بعد، فلو مات الأب ولم يوص فالولاية لأبي الأب ثم وصيه ثم وصي وصيه، فإن لم يكن فللقاضي ومنصوبه".
(كتاب ا؛لوصايا، باب الوصي، ج: 6، ص: 714، ط: سعيد)
وفیہ ایضاً:
"وشرط افتراضها عقل وبلوغ... (قوله عقل وبلوغ) فلا تجب على مجنون وصبي لأنها عبادة محضة وليسا مخاطبين بها، وإيجاب النفقات والغرامات لكونها من حقوق العباد والعشر، وصدقة الفطر لأن فيهما معنى المؤنة."
(كتاب الزكاة، ج: 2، ص: 258، ط: سعید)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد، كذا في الجوهرة النيرة."
(الفصل الرابع في نفقة الأولاد، ج: 1، ص: 560، ط: رشیدیة)
وفیہ ایضاً:
"(ومنها العقل والبلوغ) فليس الزكاة على صبي ومجنون إذا وجد منه الجنون في السنة كلها."
(كتاب الزكاة، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج: 1، ص: 172، ط: رشیدیة)
وفیہ ایضاً:
"وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة ، وإن علت ، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها ، وإن علت كذا في فتح القدير."
(الفتاوی الھندیة، کتاب الطلاق، الباب السادس عشرفي الحضانة ج: 1، ص: 541، ط : رشيديه)
الجوهرة النيرة
قوله فإن لم يكن للصبي امرأة من أهله واختصم فيه الرجال فأولاهم به أقربهم تعصيبا ) وكذا إذا استغنى الصبي بنفسه أو بلغت الجارية فالعصبات أولى بهما على الترتيب في القرابة والأقرب الأب ثم الجد أبو الأب ثم الأخ للأبوين ثم الأخ للأب كما في الميراث.
(ج: 2، ص: 274، ط: دار الكتب العلمية)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144802100965
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن