بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

والدہ کے انتقال کی صورت میں پندرہ سالہ بچی کی پرورش کا حق کس کو ہے؟


سوال

میری شادی ہوئی تھی جس سے ایک بچی پیدا ہوئی، جب بچی ایک سال کی تھی تو میری بیوی کا انتقال ہو گیا، جس کے بعد میں نے دوسری شادی کر لی، شادی کے بعد میں دوسری جگہ منتقل (شفٹ) ہو گیا، اور بچی اپنے والدین کے پاس چھوڑ دی ،جب تک والدین حیات تھے ان کے پاس رہتی تھی، والدین کی وفات کے بعد میں اپنی بیٹی کو اپنے گھر لایا،دو ماہ بعد میرے چھوٹے بھائی اور چھوٹی بہن آئے،انہوں نے کہا  کہ آپ کی (دوسری) بیوی اس  کی سوتیلی ماں ہے، اس لیے ہم بچی کو اپنے گھر لے جا کر پالیں گے۔

میں نے کہا کہ اگر تینوں بھائی مل کر اس کی پرورش کریں گے ،تو میں دینے کو تیار ہوں، البتہ بہنوں کو نہیں دوں گا۔ چناں چہ وہ بچی کو لے گیا، اس کے اگلے دن دو بھائیوں نے بہن سے کہا کہ آپ اس کو  پالیں اور ہم اس کا خرچہ دیتے رہیں گے، میں اور میرا ایک بھائی اس بات سے متفق نہیں تھے ، کیوں کہ میری بچی کی عمر اب تقریباً پندرہ سال ہے،اب آپ اس کے بارے  میں شرعی راہ نمائی فرمائیں کہ بچی کی پرورش کا حق کس کو ہے؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں چوں کہ مذکورہ بچی کی عمر پندرہ سال ہے، لہذا   15 سال کی عمر میں بچی اپنی شادی یا مکمل خود مختاری تک اپنے والد  کی ولایت (نگرانی) میں ر ہنے کی حق دار ہے ۔والد  کی موجودگی میں ببچی کے چچاؤں اور پھوپھیوں کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ زبردستی بچی کو اپنے پاس رکھیں، نیز اس عمر میں   بچی کا اپنے چچا زاد بھائیوں یا دیگر غیر محرم رشتہ داروں کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہنا (اگر بھائیوں کے گھر میں ایسے افراد ہوں) شرعی طور پر احتیاط طلب بھی ہے، جب کہ والد   کے گھر میں وہ زیادہ محفوظ رہتی ہے۔

 لہذا سائل والد ہونے کی حیثیت سے مذکورہ  بچی کی کفالت و نگرانی کے  ذمہ دار  ہیں۔ اس لیے اگر سائل اپنی  بہن کے گھر بچی کو بھیجنے پر راضی نہیں ہیں تو سائل  کو یہ حق حاصل ہے کہ بچی کو اپنے پاس رکھیں۔ بھائیوں کا سائل   کی مرضی کے بغیر بچی کو بہن کے حوالے کرنا درست نہیں ہے۔ نیز مذکورہ بچی کے اخراجات شرعاً سائل کے ہی ذمہ ہیں۔

ردالمحتار علی الدرالمختار میں ہے :

"(ثم) أي بعد الأم بأن ماتت، أو لم تقبل أو أسقطت حقهاأو تزوجت بأجنبي (أم الأم) وإن علت عند عدم أهلية القربى (ثم أم الأب وإن علت) بالشرط المذكور وأما أم أبي الأم فتؤخر عن أم الأب بل عن الخالة أيضا بحر (ثم الأخت لأب وأم ثم لأم) لأن هذا الحق لقرابة الأم (ثم) الأخت (لأب) ثم بنت الأخت لأبوين ثم لأم ثم لأب (ثم الخالات كذلك) أي لأبوين، ثم لأم ثم لأب، ثم بنت الأخت لأب ثم بنات الأخ (ثم العمات كذلك) ثم خالة الأم كذلك، ثم خالة الأب كذلك ثم عمات الأمهات والآباء بهذا الترتيب؛ ثم العصبات بترتيب الإرث، فيقدم الأب ثم الجد ثم الأخ الشقيق، ثم لأب ثم بنوه كذلك، ثم العم ثم بنوه. وإذا اجتمعوا فالأورع ثم الأسن، اختيار."

(كتاب الطلاق، باب الخضانة ، ج: 3 ،ص: 562-563 ط: سعيد)

بدائع الصنائع میں ہے :

"وإنما اختلف حكم الغلام والجارية؛ لأن القياس أن تتوقت الحضانة بالبلوغ في الغلام والجارية جميعا؛ لأنها ضرب ولاية ولأنها ثبتت للأم فلا تنتهي إلا بالبلوغ كولاية الأب في المال إلا أنا تركنا القياس في الغلام بإجماع الصحابة رضي الله عنهم لما روينا أن أبا بكر الصديق رضي الله عنه قضى بعاصم بن عمر لأمه ما لم يشب عاصم أو تتزوج أمه وكان ذلك بمحضر من الصحابة رضي الله عنهم ولم ينكر عليه أحد من الصحابة فتركنا القياس في الغلام بإجماع الصحابة رضي الله عنهم فبقي الحكم في الجارية على أصل القياس۔۔۔۔ وهذا المعنى لا يوجد في الجارية فتترك في يد الأم بل تمس الحاجة إلى الترك في يدها إلىوقت البلوغ لحاجتها إلى تعلم آداب النساء والتخلق بأخلاقهن وخدمة البيت ولا يحصل ذلك إلا وأن تكون عند الأم ثم بعد ما حاضت أو بلغت عند الأم حد الشهوة؛ تقع الحاجة إلى حمايتها وصيانتها وحفظها عمن يطمع فيها لكونها لحما على وضم فلا بد ممن يذب عنها والرجال على ذلك أقدر.

وأما غير هؤلاء من ذوات الرحم المحرم من الأخوات والخالات والعمات إذا كان الصغير عندهن فالحكم في الجارية كالحكم في الغلام وهو أنها تترك في أيديهن إلى أن تأكل وحدها وتشرب وحدها وتلبس وحدها ثم تسلم إلى الأب وإنما كان كذلك؛ لأنها وإن كانت تحتاج بعد الاستغناء إلى تعلم آداب النساء لكن في تأديبها استخدامها وولاية الاستخدام غير ثابتة لغير الأمهات من الأخوات والخالات والعمات فتسلمها إلى الأب احترازا عن الوقوع في المعصية."

(كتاب الحضانة، فصل فى وقت الحضانة ، ج: 4، ص: 42-43، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144710100447

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں