بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 صفر 1448ھ 03 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

یمین فور۔ بیوی کو (اگر آپ نیچے گئی تو تمہیں طلاق ہے) کہنے کا حکم


سوال

ایک شخص اپنے بیٹے سے ناراض تھا، بیٹا نچلی منزل میں رہتا تھا جب کہ اس شخص (والد) کی رہائش بالائی منزل میں تھی، بیٹے نے اپنے گھر میں دعوت رکھی تو اس شخص (والد) نے اپنی بیوی کو دعوت میں شرکت سے روکنے کے لیے اس  سے کہا کہ "اگر آپ نیچے گئیں تو تمہیں طلاق ہے"، نچلی منزل میں بیٹے کی رہائش کے طور پر ایک کمرہ ہے جس میں کچن بھی ہے، اس کے علاوہ نیچے جانور باندھنے کی جگہ بھی ہے، اب اس شخص کی بیوی اس دعوت والے دن تو نیچے نہیں گئی، لیکن بعد میں کسی دن جانوروں کو چارہ ڈالنے کے لیے نیچے چلی گئی، تو کیا اس سے طلاق ہوگئی یا نہیں؟ اگر ہوگئی تو کتنی اور کون سی طلاق واقع ہوئی؟ اور کیا یہ اسی وقت کے ساتھ خاص تھا یا ہر وقت کے لیے یہ حکم ہوگا؟ اور اگر یہ لوگ گھر شفٹ کریں گے تو کیا حکم ہوگا؟

تنقیح: بیٹا بالائی منزل پر آیا اور والدین کو نچلی منزل میں دعوت میں آنے کا کہہ کر گیا تو والدہ دعوت میں شرکت کی غرض سے نیچے جانے کے لیے اٹھنے لگیں تو اسی وقت مذکورہ شخص نے بیوی کو دعوت میں شرکت سے روکنے کے لیےبیوی سے کہا کہ "اگر آپ نیچے گئیں تو تمہیں طلاق ہے"۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص کی بیوی بیٹے کی دعوت میں شرکت کی غرض سے نچلی منزل میں جانے کے لیے اٹھی اور اسی وقت شوہر نے بیوی کو بیٹے کی دعوت میں شرکت سے روکنے کے لیے یہ کہا تھا کہ "اگر آپ نیچے گئیں تو تمہیں طلاق ہے" تو یہ الفاظ "یمینِ فور" کے حکم میں ہوں گے، یعنی طلاق کے یہ الفاظ اسی (یعنی دعوت کے) وقت کے ساتھ خاص ہوں گے، پس مذکورہ شخص  کی بیوی چوں کہ اس وقت نیچے نہیں گئی اس لیے اس پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، پھر بعد میں کسی اور دن نیچے جانے کی وجہ سے بھی کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور  آئندہ بھی کبھی اس گھر میں یا کسی بھی دوسرے گھر میں نیچے جانے سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی۔

دررالحکام شرح غررالاحکام  میں ہے:

"(و) شرط (للحنث في إن خرجت مثلا لمريد الخروج ‌فعله ‌فورًا) يعني لو أرادت المرأة الخروج مثلًا فقال الزوج: إن خرجت فأنت طالق فجلست ساعةً ثم خرجت لم يحنث و هذه تسمى يمين الفور، تفرد أبو حنيفة - رحمه الله تعالى - بإظهارها، و وجهه أن مراد المتكلم الزجر عن ذلك الخروج عرفًا و مبنى الأيمان على العرف."

(باب حلف الفعل، ج:2، ص:48، ط:دار احیاء)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(و شرط للحنث في) قوله: (إن خرجت مثلًا) فأنت طالق أو إن ضربت عبدك فعبدي حر (لمريد الخروج) والضرب (فعله فورًا)؛ لأنّ قصده المنع عن ذلك الفعل عرفًا و مدار الأيمان عليه، و هذه تسمى يمين الفور تفرّد أبو حنيفة - رحمه الله - بإظهارها و لم يخالفه أحد.

(قوله: فورًا) سئل السغدي بماذا يقدر الفور؟ قال بساعة، واستدل بما ذكر في الجامع الصغير: أرادت أن تخرج فقال الزوج إن خرجت فعادت وجلست وخرجت بعد ساعة لايحنث حموي عن البرجندي، و لايشترط لعدم حنثه إذا خرجت بعد ساعة تغير تلك الهيئة الحاصلة مع إرادة الخروج، يشير إليه قول الفتح تهيأت للخروج، فحلف لاتخرج فإذا جلست ساعة ثم خرجت لايحنث؛ لأن قصده منعها من الخروج الذي تهيأت له فكأنه قال: إن خرجت الساعة، و هذا إذا لم يكن له نية فإن نوى شيئا عمل به شرنبلالية."

(کتاب الایمان ،ج:3، ص:762، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801101692

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں