بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 صفر 1448ھ 18 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

یک طرفہ عدالتی خلع لینے کے بعد بیوی اور شوہر کا آپس کی رضامندی سے ایک ساتھ رہنے کا حکم


سوال

سن 2025ء کو میری بیوی نے میری رضامندی کے بغیر یک طرفہ عدالت سے خلع کی ڈگری لی تھی،میں نے اس پر کوئی دستخط نہیں کیے تھے،کیا اس سے میری بیوی پر طلاق واقع ہوگئی ہے یا نہیں؟اور اب وہ اپنی رضامندی سے میرے ساتھ رہنا چاہتی ہےتو کیا ہم دونوں ایک ساتھ رہ سکتے ہیں؟

نیز خلع کے دستاویزات سوال کے ساتھ منسلک کردیئے گئے ہیں،اور ان دستاویزات کے مطابق شوہر عدالت میں حاضر ہی نہیں ہوا تھا۔

جواب

واضح رہے کہ خلع معتبر ہونے کے لیے عاقدین (میاں،بیوی) کی رضامندی ضروری ہے،شوہر کی رضامندی کے بغیر یک طرفہ عدالتی خلع شرعاً معتبر نہیں،پس صورت مسئولہ میں جب سائل کی بیوی نے سائل کی رضامندی کے بغیر یک طرفہ عدالت سے خلع کی ڈگری لی،تو اس سے بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، نکاح بدستور برقرار ہے،اور دونوں کا ساتھ رہناجائز ہے۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"(قال): والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض، فلا معنى لاشتراط حضرة السلطان في هذا العقد".

(كتاب الطلاق،باب الخلع،ج: 6،ص: 173،ط: دارالكتب العلميه بيروت لبنان)

فتاوی شامی میں ہے:

"وأما في جانبها فإنه معاوضة المال لأنه تمليك المال بعوض فيراعى فيه أحكام معاوضة المال كالبيع ونحوه كما في البدائع."

(كتاب الطللاق،باب الخلع،ج: 3،ص: 442،ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144711102026

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں