بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

یک طرفہ عدالتی خلع کا فیصلہ لینے کے بعد میاں بیوی میں صلح ہوجائے تو شرعی حکم


سوال

میں نے اپنے شوہر سے عدالتی خلع لی تھی، جس کی کاروائی میں انہوں نے کوئی حصہ نہیں لیا تھا، اور عدالت نے ex-parte(فقط ایک فریق کی موجودگی میں یک طرفہ) فیصلہ دے دیا، اس کی بنیاد پر میں نے نادرا میں بھی اندراج کرا لیا۔

میرے شوہر کا کہنا ہے کہ انہوں نے دستخط نہیں کئے ہیں سو نکاح قائم ہے، ہماری صلح ہو گئی ہے اور ہم اب نادرا کے ریکارڈ میں درستگی کرانا چاہتے ہیں، تو اس کے لئے کیا دوبارہ نکاح کرنا ہوگا؟ شرعی لحاظ سے ہماری صلح صحیح ہے یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں   سائلہ (بیوی)کی جانب سے عدالت میں دائر کردہ خلع کے کیس میں  اگر واقعۃًشوہر  نے زبانی یا تحریری طور پر خلع کو قبول نہیں کیا تھا،اور عدالت نے محض بیوی کے دعویٰ  کی بنیاد پر یک طرفہ طور پر خلع کی ڈگری جاری کی ہےتو  ایسے یک طرفہ عدالتی فیصلے کو شرعی خلع قرار نہیں دیا جاسکتا؛ کیوں کہ شرعی طور پر خلع کے معتبر ہونے کے لیے میاں بیوی دونوں کی رضامندی ضروری ہے، جب کہ مذکورہ صورت میں  خلع کا فیصلہ شوہر کی اجازت و رضامندی سے نہیں ہوا، لہذا شوہر نے  جب زبانی یا تحریری طور پر اپنی بیوی کو طلاق/خلع نہیں دی ہےاور نہ اس خلع نامہ پر دستخط کر کے اس کو قبول کیا ہے تو مذکورہ عدالتی فیصلے کے باوجود میاں بیوی کا نکاح برقرار ہےاور دونوں کا صلح کر کے تجدیدِ نکاح کے بغیر میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا شرعاً جائز ہے۔

البتہ اگر احتیاطاً یا نادرا میں اندراج کی خاطر تجدیدِ نکاح کرنا چاہیں تو وہ بھی  کر سکتے ہیں اور اس کی صورت یہ ہے کہ دو یا دو سے زائدمرد گواہان کی موجودگی میں نیا مہر مقرر کرکے شوہر اور بیوی ایجاب و قبول کرلیں۔

احکام القرآن للجصاص ؒ میں ہے ـ:

"قال أصحابنا: إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين، فقال أصحابنا: ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين; لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان؟."

( مطلب البيان من الله علي وجههين ، ج:2 ، ص:240 ، ط:دارالكتب العلمية بيروت)

بدائع الصنائع میں ہے :

"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلاتقع الفرقة، ولايستحق العوض بدون القبول."

( كتاب الطلاق ، فصل في شرائط ركن الطلاق و بعضها يراجع الي المراة ، ج:3 ، ص:145 ، ط:دار الكتب العلمية )

فتاوی تاتارخانیہ میں ہے:

"في الملخص والإيضاح: الخلع عقد يفتقر إلى الإيجاب والقبول يثبت الفرقة ويستحق عليها العوض".

(كتاب الطلاق، الفصل السادس العشر في الخلع، ج:3، ص: 28، ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101456

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں