بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

یہودی کمپنیوں کے بائیکات کا حکم/ بائیکاٹ پر کیے گئے اعتراضات کا جواب


سوال

آج کل اسرائیل اور اس کے معاون ممالک کی مصنوعات کے بائیکاٹ کا ایک مؤثر جذبہ دیکھنے کو مل رہا ہے، جس میں بہت سے مسلمان دینی اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر شریک ہیں۔ لیکن معاشرے میں بعض افراد کی طرف سے اس پر چند اعتراضات و اشکالات سامنے آ رہے ہیں، جن کی شرعی حیثیت جاننا چاہتا ہوں تاکہ ہم اپنے مؤقف کو مضبوطی اور بصیرت کے ساتھ واضح کر سکیں۔ درج ذیل اعتراضات پیش خدمت ہیں:

۱) بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ بائیکاٹ کا دائرہ کار بہت محدود ہوتا ہے اور اس کا مالی نقصان ان کمپنیوں یا اسرائیل کو پہنچنے کا امکان کم ہوتا ہے۔ نیز ان کمپنیوں کی مقامی فرنچائزز کی آمدنی کا صرف معمولی حصہ اصل (Parent) کمپنی کو جاتا ہے، تو پھر بائیکاٹ کا فائدہ بھی معمولی ہی ہوتا ہے۔

۲)  اعتراض کیا جاتا ہے کہ جب ہمارا پورا معاشی نظام سود پر مبنی ہے اور لوگوں کو تنخواہیں بھی اسی نظام سے ملتی ہیں، تو پھر صرف بائیکاٹ کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟

۳) بعض افراد کہتے ہیں کہ بائیکاٹ ریاست کا کام ہے، عوام کے چند افراد کے عمل سے بڑی کمپنیوں پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اور اگر ریاست خود پابندی عائد کرے تو ہی مؤثر ہوگا۔

۴) بائیکاٹ کی زد میں آنے والی کئی کمپنیوں کی مصنوعات معیار میں بہت عمدہ ہوتی ہیں، جبکہ متبادل مصنوعات ان جیسی نہیں ہوتیں۔

۵)  ایک اور اہم اعتراض یہ سامنے آتا ہے کہ بعض اوقات لوگوں کو صرف سوشل میڈیا یا عام بیانات کے ذریعے معلوم ہوتا ہے کہ فلاں کمپنی اسرائیل کی حمایت کرتی ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہوتا کہ واقعی اس کے اسرائیل سے روابط ہیں یا وہ اسرائیلی فوج یا حکومت کی کسی شکل میں مدد کر رہی ہے۔ کیا ایسی صورت میں محض سنی سنائی بات پر بائیکاٹ کرنا درست ہے یا اس کے لیے مستند تحقیق درکار ہے؟

 میرا اصلاحی تعلق مفتی سید مختار الدین صاحب آف کربوغہ شریف سے ہے، وہ بھی بائیکاٹ کے قائل ہیں، لیکن اس مسئلہ میرا موقف بائیکاٹ نہ کرنے کا ہے ، میں حافظ قرآن بھی ہوں ۔ اب میرے ذہن میں مختلف قسم کے خیالات آتے ہے جو مجھے بہت پریشان کرتے ہیں کہ  یہ عمل رزق میں بے برکتی کا سبب نہ بنیں اور کہیں اللہ مجھ سے ناراض نہ ہو جائے، حالاں کہ میں نے اس سلسلے میں استخارہ بھی کیا ہے اور اللہ سے راہ نمائی کی دعائیں بھی مانگتا ہوں۔ اس سلسلے میں بھی میری مفصل راہ نمائی فرمائیں!

ـ۱- کیا ان تمام اعتراضات کے ہوتے ہوئے بائیکاٹ کرنا شرعاً درست، مطلوب اور باعثِ اجر عمل ہے؟ اور کیا ان اشکالات کی موجودگی میں بائیکاٹ کی ترغیب دی جا سکتی ہے؟ نیز ایسے حالات میں مسلمانوں کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری کیا بنتی ہے؟

۲-  کیا کسی کمپنی کے بائیکاٹ کے لیے شرعاً معتبر تحقیق کی شرط ضروری ہے یا عام طور پر مسلم تنظیموں، عوامی مہمات یا قابل اعتماد ذرائع کی اطلاع کافی ہو سکتی ہے؟ 

جواب

۱- مذکورہ صورتِ حال میں جب کہ یہودی فلسطینی مسلمان پر ظلم کے پہاڑ ڈھا رہے ہیں اور ان کا قتلِ عام کر رہے ہیں، غیرتِ ایمانی کا تقاضہ یہ ہے کہ ان کی پراڈکٹ کا بائیکاٹ کیا جائے تا کہ  کم از کم مسلمان کے مال سے ان کی معاشی مدد نہ ہو سکے، یہ ہر مسلمان  کی ذمہ دار ی ہے کہ جہاں تک ہو سکے کفار محاربین کو نقصان پہنچائے اور فی زمانہ اس کا ادنی درجہ یہ ہے کہ ان کی پراڈکٹ کا بائیکاٹ کا کیا جائے، یہ باعثِ اجر عمل ہے اور اس کی ترغیب دینا بھی درست ہے۔ جہاں تک ان اعتراضات کا تعلق ہے تو ان کا مختصر جواب درج ذیل ہے:

۱) بائیکاٹ کا نقصان اگر چہ  کم ہوتا ہو، لیکن ہر مسلمان اپنی استطاعت کے  مطابق یہ  کام کر سکتا ہے اور میں حصہ ڈال سکتا ہے، رہی یہ بات کہ  نقصان کم ہونے کی وجہ سے بائیکاٹ چھوڑ دیا جائے، یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک بیمار کو علاج سے افاقہ کم ہو رہا ہو یا آہستہ ہو رہا ہو اور اس بنیاد پر علاج ہی چھوڑ دیا جائے، عقلِ سلیم اس کو تسلیم نہیں کر تی۔

۲) سودی نظام کو سراہا نہیں جاتا بلکہ اسے بھی ختم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تاہم سودی نظام کا خاتمہ حکومت کے بغیر ممکن نہیں اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے جب کہ بائیکاٹ ہر ایک آدمی اپنی انفرادی زندگی میں بآسانی کر سکتا ہے۔

۳) ہر مسلمان کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہر ممکن حد تک کفار کو نقصان پہنچائے  اور کم از کم معاشی فائد تو نہ دے، جو مسلمان بائیکاٹ کر رہے ہیں وہ اپنی ذمہ داری پوری کر رہے ہیں اور جو اس سے غفلت برت رہے ہیں وہ اخلاقی ذمہ داری  پوری نہیں کر رہے ، جہاں تک حکومت سطح پر پابندی لگانے کا تعلق ہے تو اس کی ذمہ داری حکومتِ وقت پر ہے، عام آدمی اس کا مکلف نہیں ہے۔

۴) ہو سکتا ہے کہ یہودی کمپنیوں کی مصنوعات بہت عمدہ ہوتی ہوں اور متبادل کا معیار ایسا نہ ہو، لیکن کیا صرف عمدہ معیار کی وجہ سے مسلمانوں کے قاتلوں کی پراڈکٹ خریدنا غیرتِ ایمانی کے منافی نہیں!بلکہ ایمانی غیرت اور انسانی ہمدردی کے تحت معیاری کی بجائے معمولی چیز پر قناعت کرنا باعث خیر ہے۔

۲ـ- بائیکاٹ کا تعلق ہر ایک کی انفرادی زندگی سے ہے اور کسی بھی کمپنی کا بائیکاٹ اگر کوئی شخص کرتا ہے تو اس میں کوئی گناہ نہیں،البتہ کسی کمپنی کے اسرائیلی ہونے یا یہود کا معاون ہونے کا دعوی بغیر دلیل درست نہیں، اس کے لیے قابل اعتماد ذریعہ یا مستند مسلم تنظیموں سے اس کا اسرائیلی یا یہود کی معاون کمپنی ہونا،  معلوم ہونا ضروی ہے، صرف سوشل میڈیا کی خبروں کو بنیاد بنا کر کسی کمپنی کو اسرائیلی کہنا درست نہیں۔  

شرح سنن ابی داؤد لابن رسلان میں ہے:

"وكما أنه لا يجوز حمل السلاح إلى أرض العدو،  لا يجوز أن يباع العدو شيئا مما يستعينون به في حروبهم من كراع أو سلاح، ولا شيئا مما يرهبون به على المسلمين في قتالهم مثل الرايات وما يلبسون في حروبهم." 

(كتاب الجهاد، باب في حمل السلاح إلى أرض العدو، ج:12، ص:121، ط: دارالفلاح)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ويكره) تحريمًا (بيع السلاح من أهل الفتنة إن علم) لأنه إعانة على المعصية (وبيع ما يتخذ منه كالحديد) ونحوه يكره لأهل الحرب (لا) لأهل البغي لعدم تفرغهم لعمله سلاحًا لقرب زوالهم، بخلاف أهل الحرب، زيلعي.

قلت: وأفاد كلامهم أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريمًا وإلا فتنزيها نهر."

(باب البغاة، ج:4، ص:268، ط: ایچ ایم سعيد)

احکام القرآن لابن العربی میں ہے:

"ثبت عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «من رأى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان».

وفي هذا الحديث من غريب الفقه أن النبي - صلى الله عليه وسلم - بدأ في البيان بالأخير في الفعل، وهو تغيير المنكر باليد، وإنما يبدأ باللسان والبيان، فإن لم يكن فباليد. يعني أن يحول بين المنكر وبين متعاطيه بنزعه وبجذبه منه، فإن لم يقدر إلا بمقاتلة وسلاح فليتركه، وذلك إنما هو إلى السلطان."

(الآية:17، ج:1، ص:383، ط:دارالكتب العلمية)

فتاویٰ مفتی محمود میں ہے:

”یہودی کمپنیوں کا مال خریدنا اور ان کو نفع پہنچانا جائز نہیں ہے، یہودی اسلام کے خلاف آج کل محارب ہیں، ان کے ارادے یہ ہیں کہ حجازِ مقدس بالخصوص مدینہ طیبہ زادہا اللہ شرفاً اور اس کے گرد و نواح کو فتح کر لیں، ان کے زعم میں یہ دراصل یہودی علاقے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ یہودِ مدینہ، بنی نظیر،  بنی قینقاع، یہود خیبر ان علاقوں کے مالک تھے، اس حالت میں کوئی ایسی چیز بازار سے نہ خریدی جائے جس سے یہودی کی مالی پوزیشن مستحکم ہو، قرآن کریم میں ہے:ولا ينالون من عدو نيلا إلا كتب لهم به عمل صالح...الآية، لا نکرہ ہے، تحت النفی مفید استغراق ہے،  جس کا حاصل یہ ہے کہ دشمن کو کسی طرح کوئی بھی نقصان پہنچانا عملِ صالح ہے،  فقہاء کی عبارات سے بھی اسی طرح کے حوالہ جات نقل کیے جا سکتے ہیں کہ مسلمانِ عالم کو اجتماعی طور پر یہودیوں کے اموال تجارت کا بائیکاٹ کرنا لازم ہے ۔“

(باب الحظر والاباحۃ، عنوان:یہودی کمپنیوں کا مال خریدنا، ج:11، ص:204، ط:جمعیت پبلیکیشنز)

جواہر الفقہ میں ہے:

"بلا ضرورت مسلمانوں کو چھوڑ کر کفار و مشرکین کے ساتھ معاملات نہ کیے جائیں...  کفار و مشرکین کے ساتھ اس طرح معاملات نہ کیے جائیں جس سے مسلمانوں کی ذلت ظاہر ہو،  روایاتِ حدیث و فقہ کے دیکھنے اور حالاتِ موجودہ پر نظر ڈالنے سے ثابت ہوا کہ اس وقت باوجود اباحت فی نفسہا کے مسلمانوں کے لیے اپنی دکانیں چھوڑ کر غیر مسلموں سے سامان خریدنا ہرگز جائز نہیں۔"

(غیر مسلموں کے ساتھ معاملات، ج:5، ص:355/ 362، ط:مکتبہ دار العلوم کراچی)

لمعات التنقیح میں ہے:

"قوله: (‌كفى ‌بالمرء كذبا أن يحدث بكل ما سمع) يعني لو لم يكذب أحدا ولكنه يحدث ما سمع من غير بحث وتفتيش أنه صدق أو كذب وتبين، حسبه هذا التحديث كذبا؛ لأنه يقع في الكذب من حاله هذا، والغالب أن يكون بعضه كذبا البتة، والمقصود المنع عن التحديث بشيء لم يعلم صدقه."

(کتاب الإیمان، ج:1، ص:472، ط: دار النوادر)

فتاوی ہندیہ  میں ہے:

"خبر الواحد يقبل في الديانات كالحل والحرمة والطهارة والنجاسة إذا كان مسلما عدلا ذكرا أو أنثى حرا أو عبدا محدودا أو لا، ولا يشترط لفظ الشهادة والعدد...ولا يقبل قول المستور في الديانات في ظاهر الروايات وهو الصحيح هكذا في الكافي."

(کتاب الکراھية، ج:5، ص:309، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144612101061

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں