
کسی کو یہ کہنا کہ یہ چیز نہ کھائی جائے، کیوں کے یہ یہودی پراڈکٹ ہے، یہ درست ہے یا نہیں؟
مذکورہ صورتِ حال میں جب کہ یہودی فلسطینی مسلمان پر ظلم کے پہاڑ ڈھا رہے ہیں اور ان کا قتلِ عام کر رہے ہیں، غیرتِ ایمانی کا تقاضہ یہ ہے کہ ان کی پراڈکٹ کا بائیکاٹ کیا جائے تا کہ کم از کم مسلمان کے مال سے ان کی معاشی مدد نہ ہو سکے۔ لہذا کسی کو غیرتِ ایمانی کی وجہ سے یہ کہنا کہ یہ چیز نہ کھائیں، اس لیے کہ یہ یہودی پراڈکٹ ہے، درست اور اچھی بات ہے۔
قرآن مجید میں ہے:
"وَتَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوٰى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ. "(المائدہ، الآیۃ: 2)
ترجمہ: ”اور نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی اعانت کرتے رہو اور گناہ اور زیادتی میں ایک دوسرے کی اعانت مت کرو۔“ (از بیان القرآن)
فتاوی شامی میں ہے:
"(ويكره) تحريمًا (بيع السلاح من أهل الفتنة إن علم) لأنه إعانة على المعصية (وبيع ما يتخذ منه كالحديد) ونحوه يكره لأهل الحرب (لا) لأهل البغي لعدم تفرغهم لعمله سلاحًا لقرب زوالهم، بخلاف أهل الحرب، زيلعي.
قلت: وأفاد كلامهم أن ما قامت المعصية بعينه يكره بيعه تحريمًا وإلا فتنزيها نهر."
(باب البغاة، ج:4، ص:268، ط: ایچ ایم سعيد)
شرح سنن ابی داؤد لابن رسلان میں ہے:
"وكما أنه لا يجوز حمل السلاح إلى أرض العدو، لا يجوز أن يباع العدو شيئا مما يستعينون به في حروبهم من كراع أو سلاح، ولا شيئا مما يرهبون به على المسلمين في قتالهم مثل الرايات وما يلبسون في حروبهم."
(كتاب الجهاد، باب في حمل السلاح إلى أرض العدو، ج:12، ص:121، ط: دارالفلاح)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144702102151
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن