بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ربیع الثانی 1442ھ- 05 دسمبر 2020 ء

دارالافتاء

 

وضو کے دوران ریح خارج ہونے کا حکم


سوال

وضو کے دوران ہوا خارج ہونے کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر  وضو کرنے کے دوران وضو توڑنے والی کوئی چیز پیش آگئی مثلاً ہوا خارج ہوگئی  تو دوبارہ شروع سے وضو کرنا لازم ہوگا، البتہ اگر کوئی شخص شرعی معذور  ہو تو اس کے لیے   دوبارہ وضو کرنا لازم نہیں ہے۔

شرعی معذور کا مطلب یہ ہے کہ  کسی شخص کو  مثلاً ہوا خارج ہونے یا قطروں وغیرہ کی بیماری اتنی زیادہ ہو کہ کسی نماز کے مکمل وقت میں اس کو اتنا وقت نہ ملے کہ  وہ کپڑے پاک کرکے باوضو ہوکر اس بیماری سے   وضو ٹوٹے   بغیر وقتی فرض نماز پڑھ سکے تو ایسا شخص شرعاً معذر کے حکم میں ہوتا ہے، اور جب تک کسی نماز کا مکمل وقت اس عذر کے بغیر نہ گزر جائے وہ معذور شمار کیا جاتاہے۔

شرعی  معذور کا حکم یہ ہے کہ ہر نماز کا وقت داخل ہونے  کے بعد ایک مرتبہ وہ  وضو کرلے  اور نماز پڑھے، اگر وضو کے بعد  جس بیماری کی وجہ سے معذور کے حکم میں ہوا ہے   کے  علاوہ کوئی اور وضو ٹوٹنے والی چیز  صادر ہو تو دوبارہ وضو کرنا ہوگا، ورنہ ایک نماز کے وقت میں دوبارہ  وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ خواہ وضو کے دوران ہی یہ عذر باربار پیش آئے۔

الفقه على المذاهب الأربعة (1/ 49):

’’ومنها: أن لا يوجد من المتوضئ ما ينافي الوضوء مثل أن يصدر منه ناقض للوضوء في أثناء الوضوء. فلو غسل وجهه ويديه مثلاً ثم أحدث فإنه يجب عليه أن يبدأ الوضوء من أوله. إلا إذا كان من أصحاب الأعذار‘‘. 

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144203201014

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

کتب و ابواب

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں