
میرے چھوٹے بھائی کی شادی طے ہوئی۔ لڑکی والے مہر میں دو تولہ سونا لکھوانے پر اصرار کر رہے تھے، جب کہ ہم مہر میں سونا دینے کے بجائے نقدی دینا چاہتے تھے، کیونکہ وسعت نہیں تھی۔ پھر باہمی رضامندی سے گواہان کی موجودگی میں یہ بات طے ہوئی کہ:”نکاح نامہ میں دو تولہ سونا لکھا جائے گا، ادائیگی اس وقت لازم نہیں جب تک اللہ تعالیٰ وسعت نہ دے۔ اور اگر وسعت نہیں ہوئی تو سونا نہیں دیں گے“۔ اس بات پر متعدد گواہ موجود ہیں۔
چنانچہ نکاح نامہ میں دو تولہ سونا لکھ دیا گیا، نکاح بھی ہوگیا اور رخصتی بھی ہوگئی۔ بعد ازاں لڑکی کے ایک غیر مرد سے ناجائز تعلقات ثابت ہوگئے، جس کی اطلاع لڑکی کے والد کو بھی ہو گئی۔ اس صورتِ حال کے پیش نظر میرا چھوٹا بھائی طلاق دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ:
(1) کیا مہر کے بارے میں نکاح سے پہلے باہمی رضامندی سے طے شدہ یہ شرط معتبر ہے یا نہیں؟ اور کیا دو تولہ سونا بطورِ مہر واجب ہوگا یا نہیں؟
(2) اگر دو تولہ سونا بطورِ مہر دینا لازم ہو، تو طلاق دینے کی صورت میں کیا اس سونے کی ادائیگی فوراً واجب ہوگی، یا پہلے سے طے شدہ شرط کی وجہ سے ادائیگی مؤخر رہے گی؟
واضح رہے کہ مہر کی ادائیگی کے لیے ایسی مدت طے کرنا جس کے آنے یا نہ آنے میں تردد ہو (یعنی ہو سکتا ہے وہ مدت آجائے اور ہو سکتا ہے نہ آئے )شرعاً معتبر نہیں، بلکہ اس کے باوجود بیوی کو مہر کی فوری ادائیگی کے مطالبہ کا حق حاصل ہوتا ہے۔ اسی طرح کسی کو کوئی حق مشروط طور پر معاف کرنا، مثلاً یہ کہنا کہ: ”اگر اللہ تعالیٰ نے وسعت عطا نہ فرمائی، تو تم سے میرا قرض ساقط ہے“ ، یا کسی کے ذمہ آئندہ ثابت ہونے والے حق کو معاف کرنا، دونوں صورتیں شرعاً معتبر نہیں ہیں،چناں چہ ایسی صورتوں میں حقدار کو اپنے حق کے مطالبہ کا حق حاصل رہتا ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں نکاح سے پہلے گواہان کی موجودگی میں فریقین کے درمیان جو یہ معاہدہ طے پایا تھا کہ: ”نکاح نامہ میں دو تولہ سونا مہر کے طور پر لکھا جائے گا، ادائیگی اس وقت لازم نہیں جب تک اللہ تعالیٰ وسعت نہ دے۔ اور اگر وسعت نہیں ہوئی تو سونا نہیں دیں گے“، یہ معاہدہ شرعاً درست نہیں؛ کیوں کہ یہ معاہدہ دو باتوں پر مشتمل ہے، جو کہ شرعاً معتبر نہیں ہیں:(1) دو تولہ سونا مہر کی ادائیگی وسعت ہونے تک مؤخر ہونا، جوکہ مجہول ہونے کی وجہ سے معتبر نہیں ہے۔ (2) وسعت نہ ہونے کی صورت میں دو تولہ سونا مہر کا معاف ہونا، مشروط ہونے کی وجہ سے معتبر نہیں ہے۔
باقی صورتِ مسئولہ میں چوں کہ فریقین کی باہمی رضامندی سے دو تولہ سونا بطورِ مہر مقرر ہوا تھا، اس لیے سائل کے چھوٹے بھائی کی بیوی کا مہر دو تولہ سونا ہی ہے، جس کے مطالبہ کا حق اسے حاصل ہے، خواہ سائل کا چھوٹا بھائی طلاق دے یا نہ دے۔
بدائع الصنائع میں ہے:
"فأما إذا كان مؤجلا بأن تزوجها على مهر آجل فإن لم يذكر الوقت لشيء من المهر أصلا بأن قال: تزوجتك على ألف مؤجلة، أو ذكر وقتا مجهولا جهالة متفاحشة بأن قال: تزوجتك على ألف إلى وقت الميسرة أو هبوب الرياح أو إلى أن تمطر السماء فكذلك؛ لأن التأجيل لم يصح لتفاحش الجهالة فلم يثبت الأجل."
(كتاب النكاح، فصل المهر، فصل بيان ما يجب به المهر، ج:2، ص:288، ط:دار الكتب العلمية)
الدر المختار مع رد المحتار میں ہے:
"(كما لا يصح) تعليق الإبراء عن الدين بشرط محض كقوله لمديونه: إذا جاء غد أو إن مت بفتح التاء فأنت بريء من الدين أو إن مت من مرضك هذا أو إن مت من مرضي هذا فأنت في حل من مهري فهو باطل؛ لأنه مخاطرة وتعليق (إلا بشرط كائن) ليكون تنجيزا كقوله لمديونه: إن كان لي عليك دين أبرأتك عنه، صح وكذا إن مت بضم التاء فأنت بريء منه أو في حل جاز وكان وصية خانية."
(كتاب الهبة، باب الرجوع في الهبة، ج:5، ص:707، ط:سعيد)
درر الحکام فی شرح مجلۃ الأحکام میں ہے:
"ثالثا: الإبراء المعلق ويقال له: الإبراء المعلق على صريح الشرط، والشرط ما كان على خطر الوجود فهذا الإبراء غير صحيح؛ لأن الإبراء من وجه تمليك لرده بالرد، وتعليق التمليك على شرط غير صحيح.....ولا يصح تعليق الإبراء عن الدين بالشرط كما إذا قال لمدينه: إذا مت (بنصب تاء الخطاب) فأنت بريء لا تصح؛ لأنه كقوله إن دخلت الدار فأنت بريء.أما لو قال: إن مت (بضم التاء) فأنت بريء، وأنت في حل جاز؛ لأنه وصية (رسالة الشرنبلالي)."
(الكتاب الثاني عشر في حق الصلح والإبراء، الباب الرابع، الفصل الثاني، رقم لمادة:1563، ط:دار الجيل)
بدائع الصنائع میں ہے:
"لأن الإبراء عن المعدوم لا يتصور، والحادث لم يكن موجودا عند البيع، فلا يدخل تحت الإبراء، فلو دخل إنما يدخل بالإضافة إلى حالة الحدوث، والإبراء لا يحتمل الإضافة؛ لأن فيه معنى التمليك حتى يرتد بالرد، ولهذا لم يدخل الحادث عند الإضافة إليه نصا، فعند الإطلاق أولى.....وإن أضافها إلى عيب حادث بأن قال: على أني بريء من كل عيب يحدث بعد البيع، فالبيع بهذا الشرط فاسد عندنا؛ لأن الإبراء لا يحتمل الإضافة؛ لأنه وإن كان إسقاطا، ففيه معنى التمليك؛ ولهذا يحتمل الارتداد بالرد، ولا يحتمل الإضافة إلى زمان في المستقبل نصا، كما لا يحتمل التعليق بالشرط."
(كتاب البيوع، خيار الشرط، ج:5، ص:277، ط:دار الكتب العلمية)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"(ثم الأصل) في التسمية أنها إن صحت وتقررت يجب المسمى".
(کتاب النکاح، الباب السابع، الفصل الأول، ج:1، ص:303، ط:دار الفکر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144706100115
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن