
ہماری دادی مرحومہ کے ورثاء میں صرف تین بیٹے تھے۔ دادی کی تقریباً 29 ایکڑ زرعی زمین تینوں بیٹوں میں تقسیم ہوئی ، اور ہر ایک کے حصہ میں تقریباً 9، 9 ایکڑزمین آئی ۔ تقریباً 40 سال قبل تینوں بھائیوں نے اپنے اپنے حصے پر قبضہ بھی لے لیا تھا۔ بعد ازاں دو بھائیوں نے اپنے اپنے حصے کی پوری زمین فروخت کر کے انتقالات بھی کرا دیے تھے، جبکہ ہمارے والد صاحب نے اپنی زمین اپنے قبضہ میں رکھی اور خود کاشت کرتے رہے 40 سالوں سے، اس دوران کسی نے بھی اعتراض نہیں اٹھایا تھا۔ والد صاحب نے چند سال قبل اپنی زمین کا کچھ حصہ فروخت کیا تھا اور اس زمین کا انتقال بھی کرادیا تھا، پھر والد صاحب نے انتقال سے کچھ عرصہ پہلے باقی زمین بھی فروخت کر دی تھی۔ جب اس فروخت شدہ زمین کا انتقال کرانے کے لیے دفتر گئے تو معلوم ہوا کہ والد صاحب کے نام پورے 9 ایکڑ منتقل ہونے کے بجائے صرف 8 ایکڑ زمین منتقل ہوئی تھی، جبکہ ایک ایکڑ زمین بدستور دادی مرحومہ کے نام پر باقی تھی۔ اس بات کا علم تقریباً 40 سال بعد اس وقت ہوا جب مذکورہ زمین کی فروخت کے بعد انتقال کے لیے رجوع کیا گیا تھا۔
اس صورت حال پر ہمارے چچازادوں نے یہ موقف اختیار کیا کہ چونکہ ایک ایکڑ زمین کا غذات میں اب بھی دادی مرحومہ کے نام موجود ہے، اس لیے اس میں تینوں بھائیوں یا ان کے ورثاء کا حصہ ہوگا۔ جبکہ ہمارا کہنا یہ ہے کہ یہ ایک ایکڑ دراصل ہمارے والد صاحب ہی کے حصہ کی باقی ماندہ زمین ہے، کیونکہ تقسیم کے وقت ہر بھائی نے اپنا اپنا پورا حصہ 9 ایکڑ وصول کر کے قبضہ لے لیا تھا، اور والد صاحب اپنے حصہ 9 ایکڑ پرمسلسل اس زمین پر قابض و کاشت بھی کرتے رہے، اس بات کا پورا گاؤں گواہ بھی ہے۔
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ شرعاً اس ایک ایکڑ زمین کا حق دارکون ہے؟ کیا صرف کا غذات میں دادی مرحومہ کے نام باقی رہ جانے کی وجہ سے دوبارہ تمام ورثاء اس کے حق دار بن جائیں گے؟ جبکہ اصل تقسیم پہلے ہو چکی تھی اور ہر ایک نے اپنا حصہ وصول کر لیا تھا، اس لیے یہ زمین ہمارے والد صاحب ہی کے حصہ میں شمار ہو گی ؟ قرآن وسنت کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرما کر ممنون فرمائیں!
صورتِ مسئولہ میں جب ورثاء نے ایک دفعہ باہمی رضامندی سے اپنی والدہ کی جائیداد آپس میں برابر تقسیم کی، اور ہر وارث نے اپنے حصے پر قبضہ کر لیا تو ہر وارث کی اپنے حصے پر شرعًا ملکیت ثابت ہوگئی ۔ اب اگر ایک وارث کی زمین کا کچھ حصہ بدستور کاغذات میں والدہ کے نام پر قائم ہے تو اس کی وجہ سے وارث بیٹے کی ملکیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، کیونکہ شریعت میں قبضہ و تصرف کا اعتبار ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں ایک ایکڑ زمین سائل کے والد صاحب کا ہی حق تھا اور اب ان (سائل کے والد صاحب) کے ورثاء کاحق ہے، اور سائل کے چچازادوں کا یہ کہنا کہ (چونکہ یہ زمین کاغذات میں اب بھی دادی مرحومہ کے نام موجود ہے ،اس لیے اس میں سب ورثاء کا حق ہے ) بالکل غلط ہے۔
فتاوٰی ہندیہ میں ہے:
"يجب أن يعلم بأن الملك لا يقع لواحد من الشركاء في سهم بعينه بنفس القسمة بل يتوقف ذلك على أحد معان أربعة: إما القبض أو قضاء القاضي أو القرعة أو بأن يوكلوا رجلا يلزم كل واحد منهم سهما كذا في الذخيرة.
وإذا كانت الغنم بين رجلين فقسماها نصفين ثم أقرعا فأصاب هذا طائفة وهذا طائفة ثم ندم أحدهما فأراد الرجوع فليس له ذلك لأن القسمة قد تمت بخروج السهام، وكذلك لو رضيا برجل فقسمها ولم يأل أن يعدل في ذلك ثم أقرع بينهما فهو جائز عليهما كذا في المبسوط فإن كان الشركاء ثلاثة فخرج قرعة أحدهم فلكل واحد منهم الرجوع فإن خرج قرعة اثنين منهم ثم أراد أحدهم أن يرجع ليس له ذلك ولو كان الشركاء أربعة ما لم يخرج قرعة ثلاثة منهم كان لكل واحد منهم الرجوع كذا في المحيط. وإن كان القاسم يقسم بينهم بالتراضي فيرجع بعضهم بعد خروج بعض السهام كان له ذلك إلا إذا خرج السهام كلها إلا لواحد لأن التمييز هاهنا يعتمد التراضي بينهم ولكل واحد منهم أن يرجع قبل أن يتم وبخروج بعض السهام لا يتم كذا في النهاية."
(کتاب القسمة، الباب الخامس في الرجوع عن القسمة واستعمال القرعة فيها، ج: 5، ص: 217، ط: رشیدیة)
موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے:
"قال الحنفية: تلزم القسمة إذا لم يوجد سبب للخيار (ر: ف 54) ، فإنها لا تقبل الرجوع بالإرادة المنفردة، بمعنى أن ينقضها واحد أو أكثر ويرد المال إلى الشركة، دون اتفاق من جميع المتقاسمين.
وتتم القسمة بتعيين القاسم لكل واحد نصيبه، سواء أكان هذا القاسم هو قاسم القاضي أم قاسما حكموه بينهم ليقوم بهذا التعيين، وإلزام كل واحد بالنصيب الذي يفرزه له - سواء أكان ذلك بقرعة أم بدونها ، كما تتم إذا اقتسموهم بالتراضي - دون تحكيم محكم ملزم - واقترعوا اقتراعا تاما خرجت به جميع الأجزاء (السهام) لأربابها، ويكفي لذلك إجراء القرعة على جميع الأجزاء عدا الجزء الأخير؛ لأنه يتعين تلقائيا لمن بقي من الشركاء، وإذن فيكون لبعضهم في هذه الحالة حق الرجوع أثناء القرعة أي قبل أن تنتهي إلى هذه الغاية ، فإذا لم يستخدموا القرعة واكتفوا بالتراضي على أن يختص كل واحد منهم بنصيب بعينه، فإن القسمة لا تتم بمجرد هذا التراضي، بل يتوقف تماما على قبض كل واحد نصيبه، أو قضاء القاضي "
(حرف القاف، قسمة الأعیان، الأثار المترتبة علی قسمة الأعیان، ج: 33، ص: 244، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية - الكويت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711101813
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن