بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ورثاء کا ترکہ کی تقسیم پر رضامند ہونے کے بعد اعتراض کرنا


سوال

  میرے داد کا انتقال 1968 میں ہوا،اور ان کی میراث  1981میں تقسیم ہوگئی تھی،میراث کی تقسیم کا اختیار دادی کے پاس تھا، توانہوں نے سب کو اپنے حساب سے حصے دے دیئے،  سب ورثاء  نے اس پر رضامندی کا اظہار  کیا، اور  دادی نےاس فیصلے پر سب سے دستخط بھی لے لئے تھے کہ سب کو ان کا حصہ مل چکا ہے، اب میرے والد کا انتقال ہوا ہے تو میری پھوپھیاں مجھ سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ ہمیں حصہ کم ملا ہے ، ہمیں ہمارا حصہ دو، اب آیا ان کا یہ مطالبہ درست ہے یا نہیں ؟ اور اگر درست ہے  تو کس وقت  کے حساب سے ان کو پیسے دئے جائیں گے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں دادا کے انتقال کے بعد ان کی میراث میں  تمام ورثاء اپنے اپنے  شرعی حصص کے اعتبار سے حق دار تھے، اور دادا کے انتقال کے بعد اگر واقعۃً تمام عاقل بالغ ورثاء کی باہمی رضامندی سے آپس میں انہوں نے ترکہ تقسیم کرلیا تھا اور سب نے اس پر رضامندی ظاہر کردی تھی تو اس صورت میں جو  ترکہ  جس کے حصہ میں آیا وہ شرعاً اس کا مالک بن گیا تھا،اب پھوپھی کا اپنی والدہ (یعنی سائل کی  دادی) اور اپنے بھائی کی وفات کے  بعد  بھتیجے سے اپنے  حصہ کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ہے، لہذا ورثاء کی رضامندی سے جو حصہ جس کو مل گیا ہے وہ شرعاً  اس کا  مالک بن  گیا ہے، اب کسی وارث کو اعتراض  کا حق حاصل نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(ومن صالح من الورثة) والغرماء على شيء معلوم منها (طرح) أي اطرح سهمه من التصحيح وجعل كأنه استوفى نصيبه (ثم قسم الباقي من التصحيح) أو الديون (على سهام من بقي منهم) فتصح منه."

(قوله: ثم شرع في مسألة التخارج) تفاعل من الخروج وهو في الاصطلاح تصالح الورثة على إخراج بعضهم عن الميراث على شيء من التركة عين أو دين قال في سكب الأنهر وأصله ما روي أن عبد الرحمن بن عوف - رضي الله تعالى عنه - طلق في مرض موته إحدى نسائه الأربع ثم مات وهي في العدة فورثها عثمان - رضي الله تعالى عنه - ربع الثمن فصالحوها عنه على ثلاثة وثمانين ألفا من الدراهم وفي رواية من الدنانير وفي رواية ثمانين ألفا وكان ذلك بمحضر من الصحابة من غير نكير."

(کتاب الفرائض ،باب المخارج، ج : 6، ص : 811،ط : سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے : 

"ومن صالح من الغرماء أو الورثة على شيء من التركة فاطرحه كأن لم يكن ثم اقسم الباقي على سهام الباقين مثاله زوج وأم وعم صالح عن نصيبه من التركة على ما في ذمته من المهر فاطرحه كأنها ماتت عن أم وعم فاقسم التركة بينهما للأم الثلثان، والباقي للعم كذا في الاختيار شرح المختار."

‌‌( کتاب الفرائض،الباب السادس عشر في قسمة التركات ،فصل ومن صالح من الغرماء أو الورثة على شيء من التركة، ج : 6، ص : 474، ط : رشیدیه)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100518

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں