بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

بغیر وضو کے حدیث پڑھنا


سوال

بغیر وضو کے حدیث پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

بہتر یہ ہے کہ احادیث کو با وضو پڑھا جائے ۔ لیکن بلاوضو     احادیث کی کتابیں  اور اسی طرح دیگر کتب  (جن میں اکثرحصہ قرآنی آیات کے علاوہ پرمشتمل ہوتاہے) کو چھونااور پڑھناجائزہے، البتہ جہاں قرآنی آیات ہوں تو خواتین کے لیے ایام کی حالت میں انہیں پڑھنااور ہاتھ لگاناجائزنہیں۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(قوله:والتفسیر  کمصحف ) ظاهره حرمة المس کماهو مقتضی التشبیه، وفیه نظر؛ إذ لا نص فیه بخلاف المصحف، فالمناسب التعبیر بالکراهة، کماعبرغیره. ( قوله: لا الکتب الشرعیة) قال في الخلاصة: ویکره مس المصحف کما یکره للجنب، وکذلك کتب الأحادیث والفقه عندهما،  والأصح أنه لایکره عنده  هـ.  قال في شرح المنیة: وجه قوله: إنه لایسمی ماساً للقرآن؛ لأن ما فیها منه بمنزلة التابع ا هـ.  ومشى في الفتح على الكراهة، فقال: قالوا: يكره مس كتب التفسير والفقه والسنن؛ لأنها لاتخلو عن آيات القرآن، وهذا التعليل يمنع من شروح النحو ا هـ.  (قوله:لكن في الأشباه الخ ) استدراك على قوله: التفسير كمصحف، فإن ما في الأشباه صريح في جواز مس التفسير، فهو كسائر الكتب الشرعية، بل ظاهره أنه قول أصحابنا جميعاً وقد صرح بجوازه أيضاً في شرح درر البحار. 

 وفي السراج عن الإيضاح: أن كتب التفسير لايجوز مس موضع القرآن، وله أن يمس غيره، وكذا كتب الفقه إذا كان فيها شيء من القرآن، بخلاف المصحف؛ فإن الكل فيه تبع للقرآن ا هـ(1/176)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144210200825

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں