بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

16 شوال 1445ھ 25 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

وکیلِ زکوت کا اپنی دکان سے سامان خرید کر مستحقینِ زکوت کو دینا


سوال

میرے پاس زکوۃ کی رقم آئی ہے، کیا میں اپنی دکان سے سامان خرید کر مستحقِ زکوۃ کو دے سکتا ہوں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں جس نے زکوۃ  ادا کرنے کے لیے آپ کو رقم دی ہے، اس کی اجازت کے بغیر آپ کےلیے زکات کی رقم سے اپنی دکان سے سامان خرید کر مستحقینِ زکوۃ  کو دینا جائز نہیں ہے، البتہ اگر موکل ( یعنی مالک)کی طرف سے ایسا کرنے کی  صراحۃً یا دلالۃً  اجازت ہو تو پھر مارکیٹ ریٹ کےمطابق ایسا کرنا درست ہوگا۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:

"وللوكيل بدفع الزكاة أن يدفعها إلى ولد نفسه كبيرا كان أو صغيرا، وإلى امرأته إذا كانوا محاويج، ولا يجوز أن يمسك لنفسه شيئا اهـ. إلا إذا قال ضعها حيث شئت فله أن يمسكها لنفسه كذا في الولوالجية".

(کتاب الزکوۃ، شروط أداء الزكاة، ج:2، ص:227، ط:دارالکتاب الاسلامی)

فتاوی شامی میں ہے :

" وللوكيل أن يدفع لولده الفقير وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال ربها : ضعها حيث شئت.

(قوله: لولده الفقير) وإذا كان ولدًا صغيرًا فلا بدّ من كونه فقيرًا أيضًا؛ لأنّ الصغير يعد غنيًّا بغنى أبيه أفاده ط عن أبي السعود وهذا حيث لم يأمره بالدفع إلى معين؛ إذ لو خالف ففيه قولان حكاهما في القنية. وذكر في البحر أن القواعد تشهد للقول بأنه لايضمن لقولهم: لو نذر التصدق على فلان له أن يتصدق على غيره. اهـ. أقول: وفيه نظر لأن تعيين الزمان والمكان والدرهم والفقير غير معتبر في النذر لأن الداخل تحته ما هو قربة، وهو أصل التصدق دون التعيين فيبطل، وتلزم القربة كما صرحوا به، وهنا الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلايملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره فتأمل (قوله: وزوجته) أي الفقيرة."

(كتاب الزكوة ،ج:2 ،ص:269،ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144409100415

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں