بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 محرم 1448ھ 05 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

وتر پڑھ لینے کے بعد رات کے آخری حصہ میں تہجد کی نماز پڑھنا


سوال

اگر  عشاء کی نماز کے بعد ہی وتر پڑھ لیے ہوں تو رات کے آخری حصے میں تہجد کی نماز ادا کی جا سکتی ہے؟

جواب

عشاء کی نماز کے ساتھ وتر پڑھ لینے کے بعد رات کے آخری حصہ میں تہجد کی نماز پڑھنا بلاکراہت صحیح ہے، البتہ اگر رات میں تہجد کے لیے اٹھنے کا یقین یا ظن غالب ہوتو افضل یہ ہے کہ وتر کی نماز تہجد کے بعد پڑھیں۔

الدر المختار میں ہے:

"(و) تأخير (الوتر إلى آخر الليل لواثق بالانتباه) وإلا فقبل النوم، فإن فاق وصلى نوافل والحال أنه صلى الوتر أول الليل فإنه الأفضل".

وفي الرد:

"(قوله: وتأخير الوتر إلخ) أي يستحب تأخيره، لقوله - صلى الله عليه وسلم - «من خاف أن لا يوتر من آخر الليل فليوتر أوله ومن طمع أن يقوم آخره فليوتر آخر الليل، فإن صلاة آخر الليل مشهودة وذلك أفضل» ) رواه مسلم والترمذي وغيرهما وتمامه في الحلية. وفي الصحيحين «اجعلوا آخر صلاتكم وترا» والأمر للندب بدليل ما قبله بحر.

(قوله: فإن فاق إلخ) أي إذا أوتر قبل النوم ثم استيقظ يصلي ما كتب له، ولا كراهة فيه بل هو مندوب، ولا يعيد الوتر، لكن فاته الأفضل المفاد بحديث الصحيحين إمداد".

(‌‌كتاب الصلاة، 1/ 369، ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100844

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں