
امام کے ساتھ وتر کی آخری رکعت میں شامل ہونے والا مقتدی جب اپنی بقیہ دو رکعات پڑھے تو کس طریقہ سے پڑھے اور وہ دعائے قنوت پڑھنا اُس پر لازم ہے یا نہیں؟
اگر کسی شخص نے رمضان المبارک میں وتر کی نماز میں امام کو تیسری رکعت میں پایا یعنی امام کے ساتھ کم از کم رکوع میں شامل ہوگیا تو ایسے شخص کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہو کر ثناء، تعوذ اور تسمیہ پڑھے، پھر سورہ فاتحہ اور ایک سورت پڑھے اس کے بعد رکوع و سجود کر کے قعدہ کر لے، پھر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو ، سورہ فاتحہ او ر سورت پڑھنے کے بعد رکعت مکمل کر لے۔ اور ایسا شخص وتر کی بقایا رکعات اسی طرح ادا کرے گا جس طرح کہ مغرب کی بقایا رکعات ادا کی جاتی ہیں، نیز ایسا شخص چوں کہ امام کے ساتھ تیسری رکعت میں شامل ہو گیا تھا؛ اس لیے اس کا قنوت ادا ہو گیا اور اس کو دوبارہ قنوت پڑھنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔
فتاوی شامی میں ہے :
"وأما المسبوق فيقنت مع إمامه فقط ويصير مدركا بإدراك ركوع الثالثة
(قوله فيقنت مع إمامه فقط) لأنه آخر صلاته، وما يقضيه أولهما حكما في حق القراءة وما أشبهها وهو القنوت؛ وإذا وقع قنوته في موضعه بيقين لا يكرر لأن تكراره غير مشروع شرح المنية."
(كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، ج:2، ص:50، دارالفكر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144702100817
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن