
عرض یہ ہے کہ ہم تین بہن بھائی ہیں اور تقریبا ڈیڑھ سال پہلے ہمارے والدین کا انتقال ہوگیا ہے اور جائیداد بھائی کے پاس ہے ۔ سوال یہ ہے :
۱) والدین کی جائیداد میں تین دوکانیں اور تین مکان ہیں ۔ اس کی شرعی تقسیم کیسے ہوگی؟
۲) اور جو جگہیں کرائے پر گئی ہوئی ہیں ، ان کا کرایہ ورثاء میں جس طرح تقسیم ہوگا؟
۳) اور ان جائیداد کے قانونی معاملات میں وکیل اور کاغذات کے لیے جو خرچے ہوں گے ۔ وہ کس طرح سے ہوں گے۔ ورثاء برابر خرچہ کریں گے یا پھر شرعی بنیاد پر ہوگا؟
وضاحت: ایک بھائی اور دو بہنیں ہیں۔
۱) صورت مسئولہ میں مرحوم والد کے ترکہ (تین دوکانیں اور تین مکان) کی تقسیم کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ مرحوم کے تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کرنے کے بعد، اگر مرحوم پر کوئی قرض ہو تو قرض ادا کرنے کے بعد، مرحوم نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہو تو بقیہ ایک تہائی میں وصیت نافذ کرنے کے بعد باقی ترکہ 4 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، اس میں سے مرحوم کے بیٹے کو 2 حصے اور مرحوم کی ہر بیٹی کو 1 حصہ ملے گا۔صورت تقسیم یہ ہے:
میت:4
| بیٹا | بیٹی | بیٹی |
| 2 | 1 | 1 |
یعنی تینوں دکانیں اور تینوں مکان سے حاصل شدہ قیمت یا پھر تینوں دکانیں اور تینوں مکان کا 50 فیصد مرحوم کے بیٹے کو اور 25 فیصد ہر بیٹی کو ملے گا۔
۲)کرایہ بھی سوال نمبر 1 میں بیان کردہ حصوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔
۳) قانونی اور گاغذی کاروائی میں جتنے اخرجات آئیں گے وہ ورثاء کے درمیان ان کے حصوں کے مطابق لازم ہوں گے۔
شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
"(المادة 87) :الغرم بالغنم هذه المادة مأخوذة من المجامع وهي عكس المادة (85) أي أن من ينال نفع شيء يجب أن يتحمل ضرره مثلا أحد الشركاء في المال يلزمه من الخسارة بنسبة ما له من المال المشترك كما يأخذ من الربح."
(المقالۃ الثانیۃ،ج:،ص:،دار الجیل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101925
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن