بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ایک بیوہ، ایک بیٹی اور والدین میں وراثت کی تقسیم


سوال

میری دو بیٹیاں ہیں، ان میں سے ایک بیٹی نند سے گود لی ہے، ایک حقیقی بیٹی ہے  اور میرے شوہر  کا انتقال ہو گیا ہے، میرے ساس سسر حیات ہیں اور میرے شوہر کے تین بھائی اور ایک بہن ہے، میرے شوہر کی وراثت کی ٹوٹل رقم ایک لاکھ تیس ہزار پچاس  روپے ہے، اب اس کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ اور اس رقم میں کس کس کا حصہ ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ گود لی ہوئی بیٹی کا گود لینے والے کی وراثت میں بطورِ وارث کوئی حصہ نہیں ہوتا؛ اس لیے آپ نے اپنی نند سے جو بچی گود لی ہے اس کا آپ کے شوہر کے ترکہ میں کوئی حصہ نہیں ہوگا، البتہ تمام ورثاء عاقل بالغ ہوں اور وہ باہمی رضامندی سے اس کو بھی کچھ حصہ دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔ باقی ترکے کی تقسیم کا طریقہ یہ ہے کہ اولاً مرحوم کے ترکہ میں سے ان کی تجہیز اور تکفین کے اخراجات نکالے جائیں گے، پھر اگر ان کے ذمے کوئی قرضہ ہو تو اس کو کل مال میں سے ادا کیا جائے گا، پھر اگر انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اس کو بقیہ مال کے ایک تہائی ترکہ میں سے نافذ کرنے کے بعد کل ترکہ کو 24 حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، اس میں سے 3 حصے مرحوم کی بیوہ (یعنی آپ)کو، 12 حصے بیٹی کو، 5 حصے مرحوم کے والد کو اور 4 حصے مرحوم کی والدہ کو ملیں گے۔

صورتِ تقسیم یہ ہے:

مرحوم 24

بیوہبیٹیوالدوالدہ
31254

یعنی ایک لاکھ تیس ہزار پچاس  روپے میں سے 16256.25روپے بیوہ کو،  65025 روپے بیٹی کو،  27093.75 روپے والد کو اور 21675   روپے والدہ کو ملیں گے۔

واضح رہے کہ مرحوم کے والد کے موجود ہونے کی صورت میں مرحوم کے بھائیوں اور بہنوں کو مرحوم کے ترکہ میں کوئی حصہ نہیں ملتا ۔

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144710100144

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں