بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 ربیع الاول 1448ھ 22 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

وتر میں دعائے قنوت چھوڑنے والے کاحکم


سوال

اگروتر کی تیسری رکعات میں دعاء قنوت پڑھےبغیررکوع وسجدہ کرلیا پھر نماز میں یاد آنے پر سجدہ سہو کرلیا تو اس سے نماز صحیح ہوگئی؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی سے نماز میں کوئی واجب رہ گیایاکسی رکن میں یا واجب میں تاخیرہوگئی تواس کے اوپر سجدہ سہو واجب ہوگا،اگر نماز میں یاد آیاسجدہ سہو ادا کرلیا تو اس کی نماز صحیح ہوجائیگی،اوراگر نماز کے بعد وقت کےاندریادآیاتواس نماز کا اعادہ کرنا ضروری ہے ،اگر وقت کے بعد یاد آیا تو اعادہ مستحب ہوگا۔ 

لہٰذاصورت مسئولہ میں وتر کی نماز میں دعاء قنوت چھوڑنے کی وجہ سے سائل پر سجدہ سہو واجب تھا ،جو اس  نے اسی وترکی نماز میں ادا کرلیا ،لہٰذا سائل کی نمازصحیح ہوگئی ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما بيان سبب الوجوب فسبب وجوبه ترك الواجب الأصلي في الصلاة، أو تغييره أو تغيير فرض منها عن محله الأصلي ساهيا؛ لأن كل ذلك يوجب نقصانا في الصلاة فيجب جبره بالسجود، ويخرج على هذا الأصل مسائل."

(کتاب الصلوٰۃ،فصل بيان سبب وجوب سجود السهو،ج1،ص164،ط:دارلکتب العلمیہ)

فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:

"ولا يجب السجود إلا بترك واجب أو تأخيره أو تأخير ركن أو تقديمه أو تكراره أو تغيير واجب بأن يجهر فيما يخافت وفي الحقيقة وجوبه بشيء واحد وهو ترك الواجب، كذا في الكافي."

(کتاب الصلوٰۃ،فصل سهو الإمام يوجب عليه وعلى من خلفه السجود،ج1،ص126،ط:المطبعۃ الکبری مصر)

وفیہ ایضاً:

"(ومنها القنوت) فإذا تركه يجب عليه السهو، وتركه يتحقق برفع رأسه من الركوع ولو ترك التكبيرة التي بعد القراءة قبل القنوت سجد للسهو؛ ولأنها بمنزلة تكبيرات العيد، كذا في التبيين."

(کتاب الصلوٰۃ،فصل سهو الإمام يوجب عليه وعلى من خلفه السجود،ج1،ص128،ط:المطبعۃ الکبری مصر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144609101604

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں