بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ویلفیئر چلانے کے رہنما اصول


سوال

1. شرعی اور پاکستانی قانون کے مطابق ویلفیئر یا ایجوکیشنل ٹرسٹ رجسٹرڈ چلانے کے واضح اصول جو شریعت سے متصادم نہ ہو تفصیلا تحریر فرمائیں۔

2. ٹرسٹ کے لیے جو لوگوں سے تعاون لیا جاتا ہے وہ کس کس مد میں لیا جا سکتا ہے؟

3. اگر کوئی شخص زکوۃ کی مد میں ٹرسٹ کو پیسے دے اور یہ کہے کہ اس کو مستحق تک پہنچا دیا جائے اور ٹرسٹ والوں کے پاس وہ پیسے کچھ وقت تک کے لیے پڑے رہیں تو کیا اس شخص کی زکوۃ اسی وقت ادا ہو جائے گی یا جب ٹرسٹ والے مستحق تک پہنچا دیں اس وقت ادا ہوگی؟

4. اگر زکوۃ کے پیسے کسی اور مد میں استعمال کرنے ہوں ٹرسٹ میں تو اس کے لیے کیا حیلہ ہے؟

جواب

1. شرعی قانون کے مطابق کسی بھی فلاحی یا ایجوکیشنل ٹرسٹ کے لیے سب سے اہم اصول یہ ہے کہ لوگوں کی جو امانت ان کے پاس موجود ہو  وہ درست وقت میں درست مصرف تک پہنچ جائے، اس میں امانت داری کا پورا خیال رکھا جائے اور ہر طرح  کی خیانت سے احتراز کیا جائے۔باقی جو  ملکی قوانین ویلفئیر چلانے  کے ہیں ان کی تفصیل ارسال کردیں گے تو اس بارے میں رائے دینا ممکن ہوگا ۔

2. ٹرسٹ جن لوگوں پر خرچ کرنا چاہتا ہے ان لوگوں میں اگر مستحق زکوۃ افراد موجود ہوں تو صدقاتِ نافلہ اور عطیات کے ساتھ زکوۃ کی مد میں بھی تعاون وصول کیا جا سکتا ہے، لیکن اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اگر زکوۃ کی رقم وصول کی گئی ہے تو اس رقم کو مستحق تک پہنچایا جائے، اس میں کسی قسم کی کوتاہی  نہ ہو، زکوۃ کی رقم تملیکاً مستحق کو دے دی جائے، اس رقم کو غیر مصرف میں استعمال نہ کیا جائے۔

3. ٹرسٹ والے چندہ دہندگان کے وکیل ہوتے ہیں، گویا ان کے ہاتھ میں رقم آنے سے دینے والے کی زکوۃ اد ا نہیں ہوتی، بلکہ جب یہ رقم مستحق تک پہنچے گی اس وقت زکوۃ دینے والے کی زکوۃ ادا ہو گی۔

4. زکوۃ کی رقم کے بارے میں حکم یہ ہے کہ وہ رقم مالک بنا کر کسی مستحق کے حوالے کر دی جائے، زکوۃ کی رقم کسی دوسری مد میں استعمال کرنا جائز نہیں۔

حدیث شریف میں ہے:

"عن قتادة عن أنس بن مالك قال: قلما خطبنا نبينا صلى الله عليه وسلم، أو قال: النبي صلى الله عليه وسلم، إلا قال في خطبته: " لا إيمان لمن لا أمانة له، ولا دين لمن لا عهد له."

( السنن الكبرى للبيهقي ، باب ما جاء في الترغيب في أداء الأمانات، ج: 6، صفحہ: 471، رقم الحدیث: 12690، ط:  دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)

" حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت کم ایسا خطبہ دیا ہوگا جس میں یہ ارشاد نہ فرمایا ہو: "اس شخص کا کوئی   ایمان نہیں جس میں امانت نہیں، اور اس شخص کا کوئی دین نہیں جس میں وعدہ کی پاس داری نہیں۔"

 

صحيح البخاری میں ہے :

"عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال:" ‌آية ‌المنافق ثلاث: إذا حدث كذب، وإذا وعد أخلف، وإذا اؤتمن خان."

(كتاب الإيمان، باب علامة المنافق، ج:1،ص: 16، ط : السلطانية، بالمطبعة الكبرى الأميرية، ببولاق مصر)

"  ترجمہ :آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے، جب وعدہ کرتا ہے تو خلاف ورزی کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے۔"

فتاوی شامی میں ہے:

"«(و) لا إلى (غني) يملك قدر نصاب فارغ عن حاجته الأصلية من أي مال كان كمن»

قوله: فارغ عن حاجته) قال في البدائع: قدر الحاجة هو ما ذكره الكرخي في مختصره فقال: لا بأس أن يعطي من الزكاة من له مسكن، وما يتأثث به في منزله وخادم وفرس وسلاح وثياب البدن وكتب العلم إن كان من أهله، فإن كان له فضل عن ذلك تبلغ قيمته مائتي درهم حرم عليه أخذ الصدقة."

(کتاب الزکوۃ باب مصرف الزکوۃ جلد: 2، صفحہ: 347 ،طبع: سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"قال الرحمتي: والحق التفصيل، فما كانت الحاجة فيه أكثر والمنفعة فيه أشمل فهو الأفضل كما ورد: «حجة أفضل من عشر غزوات». وورد عكسه فيحمل على ما كان أنفع، فإذا كان أشجع وأنفع في الحرب فجهاده أفضل من حجه، أو بالعكس فحجه أفضل، وكذا بناء الرباط إن كان محتاجاً إليه كان أفضل من الصدقة وحج النفل وإذا كان الفقير مضطراً أو من أهل الصلاح أو من آل بيت النبي صلى الله عليه وسلم فقد يكون إكرامه أفضل من حجات وعمر وبناء ربط. كما حكى في المسامرات عن رجل أراد الحج فحمل ألف دينار يتأهب بها، فجاءته امرأة في الطريق وقالت له: إني من آل بيت النبي صلى الله عليه وسلم وبي ضرورة فأفرغ لها ما معه، فلما رجع حجاج بلده صار كلما لقي رجلاً منهم يقول له: تقبل الله منك، فتعجب من قولهم، فرأى النبي صلى الله عليه وسلم في نومه وقال له: تعجبت من قولهم: تقبل الله منك؟ قال: نعم يا رسول الله؛ قال: إن الله خلق ملكاً على صورتك حج عنك؛ وهو يحج عنك إلى يوم القيامة بإكرامك لامرأة مضطرة من آل بيتي؛ فانظر إلى هذا الإكرام الذي ناله لم ينله بحجات ولا ببناء ربط."

(کتاب الحج، باب الحج عن الغیر، فروع فی الحج، ج: 2، ص: 621، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100735

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں