
میں ایک ویب سائٹ بنانا چاہتا ہوں جو گاڑیوں (کارز) سے متعلق ہوں گی۔ اس ویب سائٹ پر گاڑیوں کی خرید و فروخت براہِ راست نہیں ہوگی، بلکہ صرف گاڑیوں کی تفصیلات دکھائی جائیں گی۔ ہر ڈیلر اپنی گاڑی کی مکمل معلومات ویب سائٹ پر درج کرے گا، جیسے گاڑی کی قسم، ماڈل، قیمت اور دیگر تفصیلات۔
ویب سائٹ پر ہر گاڑی کے ساتھ متعلقہ ڈیلر کا فون نمبر بھی موجود ہوگا۔ جو شخص گاڑی خریدنا چاہے گا، وہ صرف معلومات دیکھ کر ڈیلر کو فون کرے گا، اور خرید و فروخت کا سارا معاملہ آپس میں خود طے کریں گے۔ اس لین دین کا ویب سائٹ سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوگا۔
مسئلہ یہ ہے کہ جب ڈیلر گاڑی کی تفصیلات ویب سائٹ پر شامل کرے گا، تو اس میں سود (انٹرسٹ ریٹ) درج کرنے کا آپشن بھی ہوگا۔ یہ ویب سائٹ امریکہ میں استعمال کے لیے ہوگی، جہاں عام طور پر بذریعہ بینک گاڑیاں خریدی اور بیچی جاتی ہیں، جس پر سود بھی لاگو ہوتا ہے، اس لیے زیادہ تر ڈیلر اس آپشن کو استعمال کریں گے۔ تاہم یہ آپشن لازمی نہیں ہوگا، یعنی ڈیلر چاہے تو سود کی شرح درج نہ بھی کرے۔
خریدار جب ویب سائٹ پر گاڑی دیکھے گا اور اگر اس پر سود کی شرح درج ہوگی، تو وہ اس معلومات کو دیکھ کر ڈیلر سے فون پر رابطہ کرے گا اور پھر سود پر یا بغیر سود کے خرید و فروخت کا معاملہ خود طے کرے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا ایسی ویب سائٹ بنانا، جس میں ڈیلر گاڑیوں کی تفصیلات کے ساتھ سود کی شرح درج بھی کرتا ہو، جبکہ خرید و فروخت ویب سائٹ کے ذریعے نہ ہو بلکہ آپس میں دستی طور پر ہو،تو کیا شرعاً ہمارے لیے ایسی ویب سائٹ بنانا درست ہوگا یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کا گاڑیوں کی تفصیلات مہیا کرنے کے حوالے سے ویب سائٹ بنانا جائز ہے، تاہم سائل کے لیے بذات خود سود (انٹرسٹ ریٹ) کی معلومات فراہم کرنا جائز نہیں، پس اگر ہر ڈیلر اپنی گاڑی کی تفصیلات، خریداری کی شرائط وانٹرسٹ ریٹ خود اپلوڈ کرتے ہیں، تو اس صورت میں سائل گنہگار نہ ہوگا اور اس کی کمائی (ویب سائٹ کی بنوائی کی اجرت) بھی حرام نہیں ہوگی۔
صحیح مسلم میں ہے:
"عن جابر، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم أكل الربا، وموكله، وكاتبه، وشاهديه، وقال: هم سواء."
( كتاب المساقاة، باب لعن آكل الربا ومؤكله، ج: 3، ص: 1219، رقم الحديث: 1598، ط: دار إحياء التراث العربي)
ترجمہ:"حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاملہ لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے۔ اور ارشاد فرمایا: یہ سب (سود کے گناہ میں) برابر ہیں"
ایک اور حدیثِ مبارک میں ہے:
"وعن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن الربا وإن كثر فإن عاقبته تصير إلى قل. رواهما ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان".
(مشکاة المصابیح، باب الربوا، ص: 246، ط: قدیمی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144708100862
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن