بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

وزن کے بغیر اندازے سے مٹھائی فروخت کرنے کا شرعی حکم


سوال

میں مٹھائی کا کام کرتا ہوں، جس میں کسی مٹھائی کا ریٹ 700 روپے کلو ہے، لیکن کسٹمر جب 30 روپے کی وہ مٹھائی خریدتا ہے تو بغیر تولے اندازے سے دے دیتا ہوں، کیا اس طرح کرنا جائز ہے؟ جب کہ عام رواج بھی اسی طرح ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر سائل(بائع) اور کسٹمر (مشتری)  دونوں وزن کی شرط کے بغیر  مذکورہ طریقہ کی خریدوفروخت پر راضی ہوں  تو جائز ہے۔

فتح القدیر میں ہے:

"قال (والأعواض المشار إليها لا يحتاج إلى معرفة مقدارها في جواز البيع) لأن بالإشارة كفاية في التعريف وجهالة الوصف فيه لا تفضي إلى المنازعة.

(قوله والأعواض المشار إليها) سواء كانت مبيعات كالحبوب والثياب أو أثمانا كالدراهم والدنانير (لا يحتاج إلى معرفة مقدارها في جواز البيع) فإذا قال: بعتك هذه الصبرة من الحنطة أو هذه الكورجة من الأرز والشاشات وهي مجهولة العدد بهذه الدراهم التي في يدك وهي مرئية له فقبل جاز ولزم؛ لأن الباقي جهالة الوصف: يعني القدر وهو لا يضر، إذ لا يمنع من التسليم والتسلم لتعجله كجهالة القيمة لا تمنع الصحة."

‌‌(كتاب البيوع، ج:6، ص:259، ط:شركة مكتبة ومطبعة مصفى البابي الحلبي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706102092

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں