
معاملہ یہ ہے کہ میرے خاندان اور ایک دوسرے خاندان کے درمیان آپس میں رشتے داری (وٹہ سٹہ) طے پائی تھی۔ میں نے اپنی بہن کا رشتہ دوسرے فریق کو دیا اور ان کے بھائی نے میری بہن سے نکاح کر لیا۔ معاہدہ یہ تھا کہ وہ اپنی بہن کا رشتہ مجھے دیں گے۔ بعد میں دوسرے فریق نے گھریلو مسائل کی وجہ سے اپنی بہن کا رشتہ مجھے دینے سے انکار کر دیا۔ ہمارے مقامی بلوچی رواج کے مطابق ایسی صورت میں سردار یا فریقین مل کر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ یا تو فریق ثانی رشتہ دے، یا پھر رشتہ نہ دینے کی صورت میں ایک طے شدہ رقم بطورِ ہرجانہ ادا کرے ؛تاکہ حق تلفی کا ازالہ ہو سکے۔ ہم نے اس مسئلے پر سردار کے پاس جانے کے بجائے، باہمی رضامندی سے آپس میں بیٹھ کر یہ فیصلہ کیا کہ اگر وہ رشتہ نہیں دینا چاہتے، تو بلوچی رواج کے مطابق مقررہ رقم (جو ہمارے ہاں رائج ہے) مجھے ادا کر دیں ،تاکہ میرا نقصان پورا ہو سکے۔ چنانچہ دوسرے فریق نے اپنی مرضی سے رشتہ دینے کے بجائے مجھے وہ رقم ادا کر دی ہے، اور ہم نے باہمی صلح کر لی ہے۔
دریافت طلب امر: ۱۔ کیا مذکورہ بالا صورت میں (جبکہ فریق ثانی نے رشتہ نہ دینے کے عوض اپنی خوشی سے مجھے یہ رقم دی ہے) یہ رقم میرے لیے حلال ہے؟
۲۔ کیا یہ رقم "لڑکی کی قیمت" (نکاح کا عوض) شمار ہوگی یا یہ "وعدہ خلافی کے نقصان کی تلافی" (ہرجانہ) کہلائے گی؟
۳۔ کیا میں اس رقم کو اپنے ذاتی استعمال میں لا سکتا ہوں؟
نکاح ایک دائمی شرعی عقد ہے، اس لیے اسے کسی دوسرے نکاح یا رشتے کے ساتھ اس طرح مشروط کرنا کہ ایک رشتہ نہ ہونے کی صورت میں دوسرا بھی متاثر ہو، شرعاً درست نہیں۔ اسی طرح محض رشتہ طے ہوجانا یا نکاح کا وعدہ کر لینا، شرعاً ایسا لازم معاہدہ نہیں بن جاتا کہ اس کی خلاف ورزی کی صورت میں مالی ہرجانہ واجب ہو۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر دوسرے فریق نے اپنی بہن کا رشتہ دینے سے انکار کردیا، تو اگرچہ وہ وعدہ خلافی کے مرتکب ہوئے، لیکن شرعاً ان پر کوئی مالی ہرجانہ لازم نہیں تھا۔ اس لیے اس بنیاد پر ان سے رقم کا مطالبہ کرنا یا بطورِ مالی ہرجانہ رقم وصول کرنا شرعاًجائز نہیں تھا، سائل پر لازم ہے کہ جن سے یہ رقم وصول کی ہے انہیں یہ رقم واپس لوٹا دے۔ سائل کے لیے یہ رقم حلال نہیں ہے، اگر دنیا میں یہ رقم واپس نہیں لوٹائی تو آخرت میں دینا ہوگا اورآخرت میں دینا بہت مشکل ہوگا۔
قرآن مجید میں ہے:
﴿وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا (34)﴾سورة الإسراء]
ترجمہ:"اور پورا کروہ عہد کو بے شک عہد کی پوچھ ہوگی"۔(تفسیر عثمانی)
السنن الکبری ٰ للبیھقی میں ہے:
"عن قتادة عن أنس بن مالك قال: قلما خطبنا نبينا صلى الله عليه وسلم، أو قال: النبي صلى الله عليه وسلم، إلا قال في خطبته: " لا إيمان لمن لا أمانة له، ولا دين لمن لا عهد له."
(باب ما جاء في الترغيب في أداء الأمانات، ج: 6، صفحہ: 471، رقم الحدیث: 12690، ط: دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)
ترجمہ:"انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی ہمیں خطبہ دیتے، یا فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بھی خطبہ دیا، تو فرمایا: جس میں امانت داری نہیں، اس کا کوئی ایمان نہیں، اور جس میں عہد کی پاسداری نہیں، اس کا کوئی دین نہیں۔"
مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:
"و عن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألالا تظلموا ألا لايحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه. رواه البيهقي في شعب الإيمان و الدارقطني في المجتبى."
(کتاب البیوع،باب الغصب والعاریة،الفصل الثانی،ج1،ص261،رحمانیه)
الأشباه والنظائر میں ہے:
"الخلف في الوعد حرام، كذا في أضحية الذخيرة."
(كتاب الحظر والإباحة، ص: 247، ط:دار الكتب العلمية)
مجلۃ الاحکام العدلیۃ میں ہے:
"(المادة 96) : لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه."
(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية،ص27،ط؛دار الجیل)
فتاوی شامی میں ہے:
"مطلب في التعزير بأخذ المال
(قوله:لا بأخذ مال في المذهب) قال في الفتح: وعن أبي يوسف يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال. وعندهما وباقي الأئمة لا يجوز. اهـ. ومثله في المعراج،وظاهره أن ذلك رواية ضعيفة عن أبي يوسف. قال في الشرنبلالية: ولا يفتى بهذا لما فيه من تسليط الظلمة على أخذ مال الناس فيأكلونه اهـ ومثله في شرح الوهبانية عن ابن وهبان.
(قوله: وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.
وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها، فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى. وفي شرح الآثار: التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ .اه.
والحاصل أن المذهب عدم التعزير بأخذ المال."
(کتاب الحدود،باب التعزیر،مطلب فی التعزیر باخذالمال ،ج:4،ص:61،ط:سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه، وإن كان مالا مختلطا مجتمعا من الحرام ولا يعلم أربابه ولا شيئا منه بعينه حل له حكما، والأحسن ديانة التنزه عنه."
(كتاب البيوع،باب البيع الفاسد،«مطلب رد المشترى فاسدا إلى بائعه فلم يقبله، ج:5، ص:99، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144711102136
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن