
میرا آبائی وطن لاہور ہے؛ جو کہ میرے والدین کی جائے پیدائش بھی ہے، والد صاحب کام کے سلسلے میں کئی سال پہلے (میری پیدائش سے بھی پہلے) کراچی آ گئے تھے ، اور اب ہماری مستقل رہائش کراچی میں ہے۔ لاہور میں ہمارے کئی (تقریبا سب) رشتے دار بھی رہتے ہیں، ہماری وہاں زرعی زمین بھی ہے؛ جو میرے والد کو اپنے والد یعنی میرے دادا کی وراثت سے ملی تھی، وہاں دو گھر ہیں، جو دونوں متنازع فیہ ہیں، میرے والدین کہتے ہیں کہ یہ ہمارے ہیں، اور دوسرا فریق جن کے ساتھ تنازع ہے (وہ بھی ہمارے رشتے دار ہیں)، وہ ان گھروں کے اپنا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، دو میں سے ایک گھر کے بارے میں میرے والد صاحب کہتے ہیں کہ یہ میرا وراثتی گھر ہے، وہ مکمل کسی اور کے قبضے میں ہے اور قابض کا دعوی ہے کہ یہ گھر مجھے گھر کے مالک (میرے دادا) نے مرنے سے پہلے مجھے ہدیہ دیا تھا یا وصیت کی تھی، اور دوسرے گھر کے بارے میں میری والدہ کہتی ہیں کہ یہ تمہارے والد صاحب نے میرے جہیز کا سونا بیچ کر خریدا ہے ، جب کہ والد صاحب خود اس کے بارے میں خاموش رہتے ہیں، کیوں کہ اس کا تنازع والد صاحب کے بھائی اور بہن کے ساتھ ہے، اور اس کا آدھا حصہ ہمارے قبضے میں ہے، باقی حصہ دوسرے فریق کے قبضے ہے، جب کہ دوسرے فریق کا کہنا ہے کہ اس گھر کی خرید میں ہمارا حصہ بھی تھا۔ (دونوں گھروں کا تنازع الگ الگ فریق سے ہے۔) ان دو کے علاوہ اور کوئی گھر نہیں جس کی ملکیت کا میرے والدین دعوٰی کرتے ہوں، البتہ زرعی زمین ہے،جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا۔
صورتِ حال یہ ہے کہ ہمارا کبھی کبھی عرصہ دراز بعد وہاں جانا ہوتا ہے، خوشی اور غمی میں، جس گھر کا حصہ ہمارے قبضے میں ہے، وہاں ہم جا کر رہتے ہیں، وہاں ہمارا کچھ سامان بھی رکھا ہے، مجھے کچھ معلوم نہیں کہ شرعی طور پر یا قانونی طور گھر ہمارا بنتا ہے یا دوسری فریق کا، معلوم نہ ہونے کا وجہ فریقین کی جہالت/علم دین سے دوری ہے، اور دونوں فریق قسمیں اٹھانے کے لیے تیار ہیں اور ایک دوسرے پر کیس بھی کیے ہیں، اور اب میرے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ میں ان کو اپنا/والد کا گھر سمجھوں یا دوسرے فریقوں کا، کیوں کہ ان کے جھگڑے میری پیدائش سے بھی پہلے سے چلتے آ رہے ہیں اور میری عمر 20 سال سے بھی زائد ہو چکی ہے، البتہ میں نے اپنے والد کو یہ کہتے ایک دو مرتبہ سنا ہے کہ جس کو جو چاہیے وہ لے لے، میں اللہ کے لیے معاف کر رہا ہوں، اور کبھی غصے میں یہ بھی سنا ہے کہ میرا گھر ہے اور میں واپس لوں گا۔ مذکورہ بالا صورتِ حال کے پیشِ نظر میرے سوالات درج ذیل ہیں :
1۔ اگر ہم وہاں پندرہ دن سے کم رہنے کی نیت سے جائیں، تو نماز مکمل پڑھیں گے یا قصر؟ اگر قصر پڑھیں گے تو وہاں موجود گھر کی وجہ سے پڑھیں گے یا زرعی زمین کی وجہ سے؟
2۔ میرے لیے اور میرے والدین کے لیے نماز کے مکمل یا قصر پڑھنے کے اعتبار سے ایک ہی حکم ہوگا یا مختلف؟
3۔ جس گھر کا کچھ حصہ ہمارے قبضے میں ہے، اگر مستقبل میں کبھی وہ بھی ہمارے قبضے سے نکل جائے، تو نماز کا حکم پہلے سوال کے مطابق ہی ہوگا یا مختلف؟
4۔ اگر ہم کبھی اپنی زرعی زمین کو فروخت کر دیں تو نماز کا کیا حکم ہوگا؟ مکان کے قبضے میں ہوتے ہوئے فروخت کرنے اور قبضے سے نکلنے کے بعد فروخت کرنے ، دونوں صورتوں کا حکم بتا دیں۔
واضح رہے کہ فقہاءِ کرام نے وطنِ اصلی کی تعریف یہ کی ہے کہ وہ جگہ جو انسان کی جائے ولادت ہو یا جہاں اس نے شادی کرکے رہنے کی نیت کرلی ہو یا کسی جگہ مستقل رہنے کی نیت کرلی ہو، اگر کسی جگہ صرف جائیداد ہو اور وہاں مستقل رہنے کی نیت نہ ہو تو اس جگہ کو وطنِ اصلی نہیں کہا جائے گا، اگرکوئی شخص اپنےآبائی وطن سےاہل وعیال سمیت کسی دوسری جگہ مسافتِ سفر پر منتقل ہوکرمستقل سکونت اختیارکرتاہے،اورآئندہ اس علاقے میں نہ رہنےکاعزم کرلیتاہے،تواس کاوطن اصلی باطل ہوجاتا ہے،اوریہ دوسراعلاقہ اس کاوطن اصلی کہلائےگا،لہذااگرکہیں کسی وجہ سےاپنےآبائی وطن جائےگا،توپندرہ دن سےکم ٹھہرنےکی صورت میں مسافرہوگا، انفرادی طور پریا امام بن کر نماز پڑھانے کی صورت میں چار رکعت والی فرض نمازیں قصرکرےگا، لہذا مذکورہ تفصیل کی رو سے سائل کی پیدائش ، سکونت وغیرہ سب کچھ چوں کہ کراچی میں ہے تو اس کا وطن اصلی صرف کراچی ہوگا، لاہور نہیں، جب کہ سائل کے والد نے اگر مستقل طور پر کراچی کو اپنا وطن بنایا ہے اورلاہور میں رہنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے، تو لاہور اس کے لیے وطن نہیں ہو گا، اور اس صورت میں والد بھی لاہور میں پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت سے جائے گا، تو مسافر ہو گا، اور قصر کر ے گا، البتہ مقیم امام کی اقتداء میں پوری نماز پڑھے گا، اور اگر دونوں جگہ رہنے کا ارادہ ہے تو دونوں جگہوں میں مقیم ہو گا، قصر نہیں کرے گا،البتہ راستہ میں قصر کرے گا۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں :
1۔اگر سائل کے والد کی نیت مستقل طور پر کراچی میں رہنے کی ہے اور لاہور میں بھی رہنے کا ارادہ نہیں ہے، تو ایسی صورت میں ان کے لیے لاہور وطنِ اصلی نہیں ہو گا اور وہ وہاں پندرہ دن سے کم قیام کرنے کی صورت میں قصر کریں گے، اور اگر لاہور میں بھی رہائش اختیار کرنے کی نیت ہے تو اس صورت میں مکمل نماز پڑھنی ہوگی۔
2۔ سائل کے لئے تو ہمیشہ قصر کا حکم ہوگا، کیوں کہ سائل کراچی میں پیداہوئے ہیں اوربیس سال سے اہل وعیال سمیت کراچی میں رہ رہے ہیں اورلاہور میں موجودہ املاک سائل کے والد کی ہیں اور سائل بالغ ہونے کی وجہ سے ان کے تابع نہیں، البتہ سائل کے والد کے لئے پہلے سوال میں مذکور تفصیل کے مطابق حکم ہوگا۔
3۔نماز کا حکم وہی رہے گا۔
4۔ دونوں صورتوں میں وہی حکم رہے گا جو پہلے سوال کے جواب میں مذکور ہے۔
بدائع الصنائع میں ہے :
"ثم الأوطان ثلاثة وطن أصلي وهو وطن الإنسان في بلدته أو بلدة أخرى اتخذها دارا وتوطن بها مع أهله وولده وليس من قصده الارتحال عنها بل التعيش بها۔۔۔ فالوطن الأصلي ينتقض بمثله لا غير. وهو أن يتوطن الإنسان في بلدة أخرى وينقل الأهل إليها من بلدته فيخرج الأول من أن يكون وطنا أصليا له حتى لو دخل فيه مسافرا لا تصيرصلاته أربعا."
(کتاب الصّلوۃ،باب صلوۃ المسافر،ج :1، ص :103، ط : دارالكتب العلمية)
"وهذا إذا لم يبق له في الوطن الأول أهل - أي تعلق - من زوج، أو ولد، أو زراعة، أو نحوها. وأما إن كان له فيه أهل فإنه لا يبطل، وبأيهما دخل يتم الصلاة من غير نية الإقامة."
(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج :1، ص :397، ط :سعید)
الدر المختار میں ہے:
"(الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه (يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما (لا غير و) يبطل (وطن الإقامة بمثله و) بالوطن (الأصلي و) بإنشاء (السفر) والأصل أن الشيء يبطل بمثله، وبما فوقه لا بما دونه ولم يذكر وطن السكنى وهو ما نوى فيه أقل من نصف شهر لعدم فائدته.
وفی الرد: (قوله أو تأهله)۔۔۔ولو كان له أهل ببلدتين فأيتهما دخلها صار مقيما، فإن ماتت زوجته في إحداهما وبقي له فيها دور وعقار قيل لا يبقى وطنا له إذ المعتبر الأهل دون الدار كما لو تأهل ببلدة واستقرت سكنا له وليس له فيها دار وقيل تبقى. اهـ. (قوله أو توطنه) أي عزم على القرار فيه وعدم الارتحال وإن لم يتأهل، فلو كان له أبوان ببلد غير مولده وهو بالغ ولم يتأهل به فليس ذلك وطنا له إلا إذا عزم على القرار فيه وترك الوطن الذي كان له قبله شرح المنية."
(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج :2، ص :131، ط: سعید)
فتاوٰی ہندیہ میں ہے :
"وطن أصلي وهو مولد الرجل أو البلد الذي تأهل بهويبطل الوطن الأصلي بالوطن الأصلي إذا انتقل عن الأول بأهله وأما إذا لم ينتقل بأهله ولكنه استحدث أهلا ببلدة أخرى فلا يبطل وطنه الأول ويتم فيهما."
(كتاب الصلاة،الباب الخامس عشرفى صلاة المسافر،ج:1، ص:142، ط: المكتبة الرشيدية كوئته)
و فیہ ایضا :
"وفرض المسافر في الرباعية ركعتان، كذا في الهداية، والقصر واجب عندنا ... وإن نوى الإقامة أقل من خمسة عشر يوما قصر، هكذا في الهداية."
(كتاب الصلاة، الباب الخامس عشر في صلاة المسافر، ج:1، ص:139، ط: المكتبة الرشيدية كوئته)
البحر الرائق میں ہے :
"( ويبطل الوطن الأصلي بمثله۔۔۔)وفي المجتبى نقل القولين فيما إذا نقل أهله ومتاعه وبقي له دور وعقار ثم قال وهذا جواب واقعة ابتلينا بها وكثير من المسلمين المتوطنين في البلاد ولهم دور وعقار في القرى البعيدة منها يصيفون بها بأهلهم ومتاعهم فلا بد من حفظها أنهما وطنان له لا يبطل أحدهما بالآخر."
(البحرالرائق،كتاب الصلوة،باب المسافر،ج :2، ص :147، دارالكتاب الإسلامي)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144710100492
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن