
میں جس جگہ اہل وعیال کے ساتھ رہائش پذیر ہوں ،یہاں میرا اپنا ذاتی گھر ہے،یہاں سے دوسوکلومیٹر دور شہر چاہ بہار ہےوہاں بھی میں نے گھر خریدا ہے،میں وہاں ہر دو تین ماہ بعد آٹھ ،دس کےلیے رہائش کےلیے جاتا ہوں،اس میں اہل وعیال میرے ساتھ ہوتے ہیں۔
شرعاًاس جگہ پر ہم نمازیں قصر پڑھیں گے یا پوری ؟اور دوران سفر نمازوں کا کیا حکم ہے؟
وضاحت لینے کے بعد:چاہ بہار کے گھر میں کبھی 12 دن سے زائد نہیں رہا،بلکہ 8،10دن گزار کر واپس آجاتا ہےاور اس گھر میں پکنک کے طور پر جاتا ہوں،وہاں پر صرف میرا گھر ہے ،باقی جائیداد وغیرہ کوئی نہیں۔
صورت مسئولہ میں جب آپ نے چاہ بہار شہر میں مستقل رہنے کی نیت نہیں کی اس لیےجب تک چاہ بہار شہر میں پندرہ دن قیام کی نیت سے نہیں جائیں گے، شرعاًوہاں مسافر شمار ہوں گے اور قصر نماز پڑھیں گے۔البتہ اگر آپ ایک دفعہ بھی چاہ بہار شہر میں پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت کرکے وہاں مقیم ہوگئے تو چاہ بہار شہر آپ کا وطنِ اقامت بن جائے گا، پھر جب تک وہاں آپ کا آنا جانا لگا رہے گا، اس وقت تک آپ چاہ بہار شہر میں ہمیشہ پوری نماز پڑھیں گے، چاہے پندرہ دن سے کم دن کا قیام ہی کیوں نہ ہو۔
نیز آتے جاتے ہوئے اپنے شہر کی آبادی کی حدود سے نکلنے کے بعد ، اسی طرح واپسی میں اپنے شہر کی حدود میں داخل ہونے تک نماز قصر پڑھیں گے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه (يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما (لا غير و) يبطل (وطن الإقامة بمثله و) بالوطن (الأصلي )۔۔۔۔ (قوله الوطن الأصلي) ويسمى بالأهلي ووطن الفطرة والقرار ح عن القهستاني.
(قوله أو تأهله) أي تزوجه. قال في شرح المنية: ولو تزوج المسافر ببلد ولم ينو الإقامة به فقيل لا يصير مقيما، وقيل يصير مقيما؛ وهو الأوجه ولو كان له أهل ببلدتين فأيتهما دخلها صار مقيما، فإن ماتت زوجته في إحداهما وبقي له فيها دور وعقار قيل لا يبقى وطنا له إذ المعتبر الأهل دون الدار كما لو تأهل ببلدة واستقرت سكنا له وليس له فيها دار وقيل تبقى."
(کتاب الصلاۃ، باب صلاة المسافر، مطلب في الوطن الأصلي ووطن الإقامة ، ج:2، ص:131، ط:سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"(الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه.
وفي الرد: (قوله : أو توطنه) أي عزم على القرار فيه وعدم الارتحال وإن لم يتأهل، فلو كان له أبوان ببلد غير مولده وهو بالغ ولم يتأهل به فليس ذلك وطنا له إلا إذا عزم على القرار فيه وترك الوطن الذي كان له قبله شرح المنية."
(كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، مطلب في الوطن الأصلي ووطن الإقامة، ج: 2، ص: 131، ط: سعيد)
البحر الرائق میں ہے:
'' كوطن الإقامة يبقى ببقاء الثقل وإن أقام بموضع آخر ۔۔۔ وأما وطن الإقامة فهو الوطن الذي يقصد المسافر الإقامة فيه، وهو صالح لها نصف شهر.''
(کتاب الصلاۃ، باب صلاۃ المسافر، ج:2، ص147، ط:دار الكتاب الإسلامي )
فتاوی شامی میں ہے:
"(من خرج من عمارة موضع إقامته) من جانب خروجه وإن لم يجاوز من الجانب الآخر. وفي الخانية: إن كان بين الفناء والمصر أقل من غلوة وليس بينهما مزرعة يشترط مجاوزته وإلا فلا (قاصدا) ولو كافرا، ومن طاف الدنيا بلا قصد لم يقصر (مسيرة ثلاثة أيام ولياليها) من أقصر أيام السنة."
(كتاب الصلاة، باب صلاة المسافر، ج:2، ص:121، ط:سعيد)
المبسوط للسرخسي میں ہے:
"فإذا قصد مسيرة ثلاثة أيام قصر الصلاة حين تخلف عمران المصر؛ لأنه مادام في المصر فهو ناوي السفر لا مسافر، فإذا جاوز عمران المصر صار مسافرًا لاقتران النية بعمل السفر، والأصل فيه حديث علي - رضي الله تعالى عنه - حين خرج من البصرة يريد الكوفة صلى الظهر أربعا ثم نظر إلى خص أمامه فقال: لو جاوزنا ذلك الخص صلينا ركعتين."
(کتاب الصلاۃ، باب صلاة المسافر، ج:1، ص:236، ط:دار المعرفة )
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"سوال [۳۵۹۰] : احقر کچھ عرصہ طویل قیام کے ارادہ پر ہر دوئی مع اہل و عیال مقیم ہے، درمیان میں بعض ضروری کاموں کی وجہ سے وطن وغیرہ کا سفر بھی کرنا پڑتا ہے، بعض مرتبہ ہر دوئی میں پندرہ دن سے زائد مستقل ٹھہر نا پڑتا ہے اور بعض دفعہ کم ۔ ایک صاحب نے بتلایا ہے کہ آپ ہر دوئی میں مسافر ہی ہیں، میں نماز کیسے ادا کروں؟ میری حیثیت ہر دوئی میں کیا ہے؟
الجواب حامداً ومصلياً:
موجودہ حالت میں جب کہ آپ نے ہر دوئی کو وطن اصلی نہیں بنایا، اور نہ اپنے وطن اصلی کو ترک کیا توہر دوئی آپ کے لئے وطن اقامت ہے، جب تک کم از کم پندرہ روز قیام کا ارادہ نہ ہو آپ یہاں مسافر ہی رہیں گے
اور مسافر کے سب احکام آپ پر جاری ہوں گے، جن صاحب نے آپ کو مسافر تشخیص کیا ہے ان کی تشخیص صحیح ہے ۔"
(کتاب الصلاۃ،باب المسافر،ج:7، ص:493، ط:فاروقیہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100296
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن