بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نکاح شغار کا حکم


سوال

 خالد نے نکاح کیا سعید کی بیٹی سے اس شرط پر کے خالد کے بڑے بھائی کی بیٹی سعید کے پوتے کو نکاح میں دی جائے گی اور خالد اپنے بھائی کو 8لاکھ روپے دے گا. اور خالد کے منکوحہ کے لیے خالد پرکوئی مہر کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ سعید کے پوتے کے منکوحہ کے لیے اس کے پوتے پر مہر کا ذکر کیا ہے . لہذا اب پوچھنا یہ ہے کہ خالد کا یہ 8لاکھ روپے دینا اپنے بھائی کو اس کا کیا حکم ہے ؟ اور مہر کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ اور اس نکاح کا کیا حکم ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ شریعتِ مطہرہ میں نکاح صرف طبعی وشخصی ضرورت کی تکمیل ہی  نہیں،بلکہ عبادت ہے،  اس لیے اس میں شرعی اصولوں  کی  پاسداری  نہایت ضروری ہے، اور  کسی ناجائز رسم ورواج کے  تحت  اس کو مشکل ترین بنانا   احکام شریعت سے متصادم ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ،   لڑکی کے نکاح کے بدلے اس کے اولیاء،  لڑکے یا اس کے اولیاء سے مہر کے علاوہ رقم وصول کرکے وہ رقم لڑکی کو نہ دینا،  بلکہ لڑکی کے والدین کا خود رکھ لینا، یا اس کے بدلے لڑکے والوں کی کسی لڑکی کا اپنے لیے یا اپنے خاندان کے کسی لڑکے کے لیے رشتہ طلب کرنا درست نہیں؛ کیوں کہ نکاح کے بدلے نکاح کی شرط لگانا شرطِ فاسد ہے، اور لڑکے سے مہر کے علاوہ رقم کا مطالبہ کرنا رشوت ہے، اس کے لینے والے اس مال کے مالک نہیں بنتے، اور ان کو یہ پیسے واپس لوٹانا ضروری ہے، تاہم اس طرح کی شرائط لگانے سے فی نفسہ نکاح درست ہوجائے گا، اور شرط باطل ہوجائے گی، نیز کسی شخص کا اپنی بیٹی یا بہن  کی شادی دوسرے سے اس شرط پر کرنا  کہ ہر ایک دوسرے کو اپنی بیٹی یا بہن  نکاح میں دےگا اور حق مہر نہیں ہوگا، یعنی کہ ایک لڑکی کے بدلے میں دوسری لڑکی لی جائے، اس سے آپﷺ نے منع فرمایا ہے، جیسے کہ حدیث شریف میں ہے:

"حضرت ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے "نکاحِ شغار" سے منع فرمایا ہے اور شغار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیٹی کا نکاح اس شرط پر کرے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح اسے کرکے دےگا اور ان کے درمیان مہر مقرر نہ کیا جائے (یعنی دونوں عورتوں کو ایک دوسری کا مہر تصورکیا جائے)۔"

(صحیح مسلم، کتاب النکاح، باب تحریم نکاح الشغار و بطلانہ، ج: 2، ص: 916، رقم: 1415، ط: بشری)

تاہم اوپر ذکر کی گئی صورت کے مطابق اگر کسی نے "نکاح شغار" کیاہو، تو ایسی صورت میں مہر مثل لازم ہوتاہےاور نکاح صحیح ہوجاتاہے، لیکن اگر دونوں جانب سے باقاعدہ مہر طے کر کے نکاح کیاجائے تو یہ صورت نکاح شغار کی نہ ہونے کی وجہ سے شرعاً جائز ہے۔

اس تفصیل کے بعد  زیر نظر مسئلے میں  جو صورت ذکر کی گئی ہے وہ اختیار کرنا شرعا درست نہیں ،بلکہ اس کا شرعی طریقہ یہی ہے کہ ہر ایک لڑکی  کی رضامندی سے رشتہ طے کیا جائے اورمہر مقرر کیا جائےاور شرعی طریقہ سے نکاح کیا جائے،باقی   خالد جو اپنے بڑے بھائی کو   اس کی لڑکی کے رشتہ کے عوض آٹھ لاکھ  کی جو رقم دے رہا ہے  اس رقم کا لین دین شرعا ناجائز ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(‌أخذ ‌أهل ‌المرأة شيئا عند التسليم فللزوج أن يسترده) لأنه رشوة.

وقال عليه في الرد: (قوله عند التسليم) أي بأن أبى أن يسلمها أخوها أو نحوه حتى يأخذ شيئا، وكذا لو أبى أن يزوجها فللزوج الاسترداد قائما أو هالكا لأنه رشوة بزازية. وفي الحاوي الزاهدي برمز الأسرار للعلامة نجم الدين: وإن أعطى إلى رجل شيئا لإصلاح مصالح المصاهرة إن كان من قوم الخطيبة أو غيرهم الذين يقدرون على الإصلاح والفساد وقال هو أجرة لك على الإصلاح لا يرجع وإن قال على عدم الفساد والسكوت يرجع لأنه رشوة، والأجرة إنما تكون في مقابلة العمل والسكوت ليس بعمل وإن لم يقل هو أجرة يرجع؛ وإن كان ممن يقدرون على ذلك، إن قال هو عطية أو أجرة لك على الذهاب والإياب أو الكلام أو الرسالة بيني وبينها لا يرجع، وإن لم يقل شيئا منها يكون هبة له الرجوع فيها إن لم يوجد ما يمنع الرجوع."

(كتاب النكاح، باب المهر، ٣/ ١٥٦، ط: سعيد)

وفيه أيضاً:

"‌الرشوة ‌لا ‌تملك بالقبض."

(كتاب الحظر والإباحة، ٦/ ٤٢٣، ط: سعيد)

وفيه أيضاً:

"(ولكن لا يبطل) ‌النكاح (‌بالشرط الفاسد و) إنما (يبطل الشرط دونه) يعني لو عقد مع شرط فاسد لم يبطل النكاح بل الشرط.

قال عليه في الرد: (قوله: مع الشرط فاسد) كما إذا قال تزوجتك على أن لا يكون لك مهر فيصح النكاح ويفسد الشرط ويجب مهر المثل."

(كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ٣/ ٥٣، ط: سعيد)

فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:

"ولو تزوج امرأة ‌على ‌أن ‌يهب ‌لأبيها ألف درهم فهذا الألف لا يكون مهرا ولا يجبر على أن يهب فلها مهر مثلها، وإن سلم الألف فهو للواهب وله أن يرجع فيها إن شاء."

(كتاب النكاح، الباب السابع في المهر، ١/ ٣٠٨، ط: دارالفكر)

کفایت المفتی میں ہے:

"(سوال) لڑکی کا نکاح اس شرط سے کرنا کہ لڑکا کچھ روپیہ سات سو یا ہزار دے، تو اس قسم کا روپیہ لینا جائز ہے یا نہیں اور یہ نکاح جائز ہے یا نہیں۔ روپیہ لینے والا اور دینے والا گناہ میں دونوں برابر ہیں یا کچھ فرق ہے، اور وہ روپیہ خیرات کرنے سے ثواب ملے گا یا نہیں؟ ایسے لوگوں کو کوئی برا  لفظ کہہ  سکتے ہیں یا نہیں؟

(جواب ١٦٤) لڑکی کے ولی کو لڑکے سے کچھ روپیہ علاوہ مہر کے لے کر نکاح کرنا رشوت ہے، اور رشوت لینا حرام ہے اور اس روپے کو جو لڑکی کے ولی نے لڑکے سے لیا ہے بوجہ رشوت اور حرام ہونے کے کسی کارِ خیر میں صرف کرنا نہیں چاہیے۔ اس سے کوئی ثواب نہیں مل سکتا، بلکہ اسی کو واپس کردینا چاہیے جس سے لیا ہے۔ جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کو منع کرتے ہوئے زجراً سخت الفاظ مناسب طریقہ سے استعمال کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔"

(کتاب النکاح، چھٹا باب مہر، چڑھاوا وغیرہ، ٥/ ١٠٩،ط: دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702101273

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں